You are currently viewing نواب بہادر انسٹی ٹیوشن مرشدآباد کی زبان وادب سے وابستگی

نواب بہادر انسٹی ٹیوشن مرشدآباد کی زبان وادب سے وابستگی

تاہم، جب اردو زبان و ادب کے نام پر ہمیں کوئی یاد کرتا ہے تو یہ محض ایک دعوت نہیں رہتی یہ ایک پکار بن جاتی ہے۔ اردو ہماری شناخت، ہماری یادداشت اور ہمارے احساس کی زبان ہے۔ اس زبان کے لیے بلایا جانا دراصل اپنے ہی وجود کے کسی حصے کو آواز دیے جانے کے مترادف ہوتا ہے۔ تب دل چاہتا ہے کہ روزمرہ کی تمام مصروفیات، فاصلے اور تھکن ایک طرف رکھ دی جائیں اور اس محفل میں شرکت کی جائے جہاں ا لفظ عزت کے ساتھ بولے جاتے ہوں۔لیکن ایک شرط ہمیشہ دل کے ساتھ جڑی رہتی ہے: عزت اور احترام۔

اردو کی محفلیں اسی وقت بامعنی بنتی ہیں جب بلانے والا خلوص رکھتا ہو اور آنے والے کو وقار کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہو۔ احترام وہ دروازہ ہے جس سے گزر کر ادب دل تک پہنچتا ہے، اور عزت وہ روشنی ہے جس میں محفل جگمگاتی ہے۔اسی لیے اگر اردو کے نام پر، محبت اور وقار کے ساتھ بلایا جائے، تو ہم سب کچھ چھوڑ کر آنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ایسی محفلیں صرف تقریبات نہیں ہوتیں وہ یادیں بنتی ہیں، رشتے جوڑتی ہیں، اور یہ یقین تازہ کرتی ہیں کہ زبان زندہ ہے، بشرطیکہ اسے دل سے پکارا جائے۔

دسمبر کے مہینے میں مرشدآباد سے سید محمد مہتاب جاہ کی جانب سے مجھے مرشدآباد آنے کی دعوت دی گئی، جو اس سمپوزیم کی بنیاد بنی۔ اس دعوت پر ہندوستان بھر سے درجنوں ڈیلیگیٹس تشریف لائے اور انہوں نے اپنے تحقیقی و ادبی پیپر پیش کیے، جس سے سمپوزیم کی علمی سطح اور معنویت میں اضافہ ہوا۔یہ ایک سفرنامہ نہیں،بلکہ ایک کیفیت ہے۔مسلسل حرکت میں رہنے والی، مگر لفظوں میں ٹھہر جانے والی۔لندن سے کلکتہ اور پھر مرشدآباد تک: فاصلوں کو مٹاتی ہوئی قربت ہے۔4 فروری کی صبح لندن کے گیٹ وِک ایئرپورٹ پر وقت جیسے ذرا ٹھہر گیا تھا۔ سامان، بورڈنگ پاس اور ذہن میں آنے والے دنوں کی دھندلی تصویریں اور پھر امارات کے جہاز میں نشست۔ جہاز نے رَن وے چھوڑا تو یوں لگا جیسے صرف زمین نہیں، ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف روانگی ہو رہی ہو۔ سات گھنٹے کا طویل مگر خاموشی سے بھرا ہوا سفر طے کر کے جہاز دبئی کی روشن فضاؤں میں اترا۔

دبئی ایئرپورٹ پر قیام مختصر تھا، محض آدھے گھنٹے کا مگر یہی وقفہ دو براعظموں کے درمیان ایک پل بن گیا۔ کچھ ہی دیر بعد دوبارہ پرواز، اس بار مشرق کی طرف، یادوں، زبان اور مٹی کی سمت۔ جہاز نے جب کلکتہ کی فضا میں داخل ہونا شروع کیا تو دل کی رفتار رَن وے سے پہلے تیز ہو چکی تھی۔کلکتہ ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہی سفر تھکن سے زیادہ خوشبو میں بدل گیا۔ پرویز اختر،محمد اظہار کریم اور آفتاب صدیقی کا والہانہ استقبال محض رسمی نہیں تھا یہ اپنائیت تھی، وہ اپنائیت جو پردیس میں اچانک اپنی زبان سن کر دل کو گھیر لیتی ہے۔ مصافحے، مسکراہٹیں اور چند جملے، جن میں پورا حال احوال سمٹ آیا۔پھر ہم سب گاڑی میں سوار ہوئے۔ شہر کی روشنیوں اور سڑکوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے قافلہ اقبال پور کی سمت روانہ ہوا۔ گاڑی کے اندر گفتگو، قہقہے اور خاموش وقفے سب مل کر ایک ایسا منظر بنا رہے تھے جو کسی کتاب میں نہیں، صرف سفر میں ملتا ہے۔ باہر ملگجی روشنی تھی اورکار کے اندر لفظوں کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ہم لوگ ایک دوسرے کو اپنے دل کی بات سنا رہے تھے اور یادوں کو تازہ کر رہے تھے۔یہ سفر محض لندن سے اقبال پور تک کا نہیں تھا، یہ اُن رشتوں تک پہنچنے کا سفر تھا جو فاصلے مانتے ہی نہیں۔ جہاز، ایئرپورٹ اور سڑکیں تو محض وسیلے تھے اصل منزل وہ احساس تھا جو ہر موڑ پر ساتھ چلتا رہا، اور جس نے اس پورے سفر کو یادگار البم میں بدل دیا۔

مرشدآباد برصغیر کی وہ سرزمین ہے جہاں تاریخ صرف عمارتوں میں نہیں، ذہنوں اور زبانوں میں بھی سانس لیتی ہے۔ اسی تاریخی شعور کی ایک روشن علامت نواب بہادر انسٹی ٹیوشن ہے، جو برسوں سے علمی، ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز چلا آ رہا ہے۔ اس ادارے نے مرشدآباد کو محض ایک تاریخی شہر کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری روایت کے امین کے طور پر زندہ رکھا ہے۔ یہاں منعقد ہونے والے سمپوزیم اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ادارہ ماضی کی حفاظت کے ساتھ حال کی تشکیل اور مستقبل کی سمت متعین کرنے میں بھی سرگرم ہے۔

 7 فروری کی صبح بذریعہ ٹرین ہم لوگ کلکتہ سے مرشدآباد پہنچے۔ ریلوے اسٹیشن پر ہمارے ساتھ دیگر مہمانوں کا شاندار اور پُرتپاک استقبال کیا گیا، جو اس بات کا غماز تھا کہ ادب آج بھی دلوں کو جوڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔اس سمپوزیم میں دلی سے تشریف لائے معروف ادیب اور سینئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا جناب خلیل الرحمن کی شرکت نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ ان کے علاوہ حیدرآباد سے تشریف لائے جناب عالمگیر رضوی، کلکتہ سے پرویز اختر، محمداظہار کریم، سلیم الدین، آفتاب ندیم، محمد آفتاب صدیقی، شاہد کلیم اظفر، مجیب الرحمٰن، مہہ نوراور ڈاکٹر شہنور حسین جیسی اہم ادبی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ ان سب کی موجودگی نے سمپوزیم کو ایک ہمہ جہت ادبی مکالمے میں بدل دیا، جہاں تنقید، تخلیق اور تاریخ ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آئیں۔

نواب بہادر انسٹی ٹیوشن کا یہ سمپوزیم دراصل اس بات کی یاد دہانی تھا کہ ادب صرف کتابوں میں محفوظ لفظوں کا نام نہیں بلکہ زندہ ملاقاتوں، سفر کی تھکن، استقبالی مسکراہٹوں اور فکری گفتگوؤں کا مجموعہ ہے۔ مرشدآباد کی اس ادبی محفل نے ثابت کیا کہ جب روایت اور معاصر ادب ایک جگہ جمع ہوں تو وقت خود ایک لمحہ دوام میں بدل جاتا ہے۔یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، یہ مرشدآباد کے دل میں دھڑکتی ہوئی اردو کی وہ صدا تھی جسے برسوں سے سنا جا رہا تھا مگر اس روز وہ صدا ایک بھرپور ہم آہنگی میں ڈھل گئی۔

مرشدآباد کی فضاؤں میں اردو کوئی اجنبی زبان نہیں، یہ یہاں کی تہذیب، روزمرہ اور احساس کا حصہ ہے۔ اسی گہری اور سچی محبت کا مظہر وہ شاندار سمپوزیم تھا جو” فہیم اختر کی ادبی خدمات “کے اعتراف میں منعقد ہوا۔ یہ پروگرام محض کسی ایک ادیب کی پذیرائی نہیں تھا بلکہ مرشدآباد کی اجتماعی ادبی روح کا اظہار تھا۔اس کامیابی کے پس منظر میں نواب بہادر انسٹی ٹیوشن اور بالخصوص اس کے ہیڈ جناب مسعود عالم کی بے لوث محبت اور انتھک مشقت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ مسعود عالم نے اس سمپوزیم کو ایک تقریب کے بجائے ایک خواب کی طرح برتا،ایسا خواب جس میں ادب، روایت اور خلوص ایک دوسرے میں گھل مل گئے۔ انتظام سے لے کر مہمان نوازی تک، ہر مرحلے پر ان کی ذاتی دل چسپی اور محنت اس پروگرام کی روح بن کر سامنے آئی۔

لوگوں کی رائے کے مطابق “فہیم اختر کی ادبی خدمات” پر منعقدہ یہ سمپوزیم اب تک کے کامیاب ترین پروگراموں میں شمار کیا جا رہا ہے، اور اس کا سب سے بڑا ثبوت مرشدآباد کے لوگوں کی غیر معمولی تعداد میں شرکت ہے۔ ہال میں موجود سامعین، سنجیدہ چہروں، متوجہ نگاہوں اور دیر تک بجتی ہوئی تالیوں نے اس بات کا کھلا اعتراف کیا کہ اردو آج بھی زندہ ہے، اور اس کے چاہنے والے آج بھی پوری وابستگی کے ساتھ موجود ہیں۔یہ منظر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جب کسی شہر کی مٹی میں زبان کی محبت رچی بسی ہو، اور جب ادارے کے ذمہ دار لوگ خلوص کے ساتھ کام کریں، تو نتائج محض کامیاب نہیں بلکہ یادگار ہوتے ہیں۔ نواب بہادر انسٹی ٹیوشن اور مسعود عالم کی کاوشوں نے” فہیم اختر کی ادبی خدمات “پر سمپوزیم کو ایک ایسی ادبی مثال بنا دیا ہے جسے مرشدآباد مدتوں یاد رکھے گا۔یہ پروگرام دراصل اس بات کی بھی گواہی ہے کہ اردو صرف ماضی کی وراثت نہیں، بلکہ حال کی ضرورت اور مستقبل کی امید بھی ہے اور مرشدآباد اس امید کا روشن استعارہ بن کر ابھرا ہے۔

یہ محض شکریہ نہیں، دل سے اٹھنے والی وہ صدا ہے جو لفظوں میں ڈھل کر مرشدآباد کے لوگوں تک پہنچنا چاہتی ہے۔میں مرشدآباد کے تمام لوگوں کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کی خلوص بھری موجودگی اور بے مثال محبت نے اس پورے سفر اور پروگرام کو ایک یادگار تجربہ بنا دیا۔ خاص طور پر پروگرام کے کنوینر سید محمد مہتاب جاہ کا ممنون ہوں، جن کی بصیرت اور محنت نے اس سمپوزیم کو ایک واضح سمت اور وقار عطا کیا۔اسی طرح نواب بہادر انسٹی ٹیوشن کے ہیڈ جناب مسعود عالم کا خلوص اور انتھک کاوشیں قابلِ تحسین ہیں، جن کی بدولت یہ پروگرام محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک تہذیبی جشن بن گیا۔چھوٹے نواب جناب حسین اور ان کی بیگم صبا کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کی بے پناہ محبت، اپنائیت اور مہمان نوازی نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم کسی اجنبی شہر میں نہیں بلکہ اپنے ہی لوگوں کے درمیان موجود ہیں۔آخر میں مرشدآباد کے ان تمام چہروں، مسکراہٹوں اور جذبوں کے احسان مند ہیں جنہوں نے ہمیں یہ یقین دلایا کہ اردو آج بھی دلوں میں زندہ ہے، اور یہی محبت ہمارے لیے اس سفر کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔جسے ہم یاد کر کے برسوں محظوظ ہوتے رہے گے۔

تحریر : فہیم اختر

 

Leave a Reply