Fahim Akhter is a poet, short story writer and a columnist in Urdu. By Profession he is a registered Social Worker in England. He was born in 1966 in Calcutta. He has 9 brothers and sisters. He married to Huma Syed an IT professional and he has a daughter Zara Fahim. His father Sufi Jamil Akhter was a Sufi follower. He was graduated from Maulana Azad College Calcutta in 1988 and completed M.A in 1991 from University of Calcutta. In 2005 London Borough of Merton sponsored Fahim Akhter to complete the Diploma in Social Work training to become a qualified Social Worker. 
He was elected General Secretary of Maulana Azad College Calcutta in 1987 before he was also elected Cultural Secretary of MAC Student’s Union and organised College’s Diamond Jubilee celebration.

Fahim Akhter

فہیم اختر   اردو کےافسانہ نگار ، شاعراور کالم نگار ہیں۔  پیشے کے لحاظ سے وہ انگلینڈ میں ایک رجسٹرڈ سوشل ورکرہیں   ۔
 وہ 1966 میں کلکتہ میں پیدا ہوئے۔  ان کے 9 بھائی بہن ہیں۔  انہوں نے آئی ٹی پروفیشنل ہما سید سے شادی کی اور ان کی ایک بیٹی زارا فہیم ہے۔  ان کے والد صوفی جمیل اختر ایک صوفی پیروکار تھے۔  انہوں نے 1988 میں مولانا آزاد کالج کلکتہ سے گریجویشن کیا اور 1991 میں کلکتہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔  2005 میں لندن بورو آف میرٹن نے فہیم اختر کو ایک قابل سماجی کارکن بننے کے لیے سوشل ورک کی تربیت میں ڈپلومہ مکمل کرنے کے لیے اسپانسر  
کیا۔
وہ 1987 میں مولانا آزاد کالج کلکتہ کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے اس سے پہلے کہ وہ MAC اسٹوڈنٹس یونین کے کلچرل سکریٹری بھی منتخب ہوئے اور کالج کی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب کا اہتمام کیا۔

 

Fahim Akhter

Fahim Akhter is a short story writer and a columnist in Urdu. By Profession he is a registered Social Worker in UK and he works for Royal Hospital for Neuro-disability London.He was elected General Secretary of Maulana Azad College Calcutta in 1987.He was graduated from Maulana Azad College Calcutta in 1988 and completed M.A in 1991 from University of Calcutta. In 2005 London Borough of Merton sponsored Fahim Akhter to complete the Diploma in Social Work training to become a qualified Social Worker.

انسانیت کے ماتھے پر ایک شرمناک داغ

بچوں کی نسل کشی انسانی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے کسی بھی مہذب معاشرے میں کبھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ جب معصوم جانیں، جو مستقبل کی امید اور امن کی علامت ہوتی ہیں، جنگ اور طاقت کے کھیل کا نشانہ بن جائیں تو یہ صرف ایک قوم کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا...

Read more
« of 265 »
« of 3 »

5 July 2026

انسانیت کے ماتھے پر ایک شرمناک داغ

انسانیت کے ماتھے پر ایک شرمناک داغ

بچوں کی نسل کشی انسانی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے کسی بھی مہذب معاشرے میں کبھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ جب معصوم جانیں، جو مستقبل کی امید اور امن کی علامت ہوتی ہیں، جنگ اور طاقت کے کھیل کا نشانہ بن جائیں تو یہ صرف...

قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے

قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے

محرم کا انتہائی بابرکت مہینہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ چار مقدس مہینوں میں سے ایک ہے اور ا س کی خاص اہمیت ہے۔  اللہ تعالیٰ نے سال کے چار مقدس مہینوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ تاہم بہت سے مسلمان اسے پیغمبر اسلام ﷺ کے نواسوں...

ریشمی کو ڈچ شہریت مل گئی

ریشمی کو ڈچ شہریت مل گئی

زندگی میں بعض سفر محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے اندر خوشیوں، ملاقاتوں اور یادوں کا ایک پورا جہان سموئے ہوتے ہیں۔ میرا حالیہ سفر بھی کچھ ایسا ہی تھا، جس کا آغاز لندن کے ایک خوشگوار دن سے...

منافقت یا مجبوری؟

منافقت یا مجبوری؟

انسانی تاریخ میں منافقت ہمیشہ سے ایک ایسا رویہ رہی ہے جس نے معاشروں کو نقصان پہنچایا، اعتماد کو مجروح کیا اور اصول و اقدار کو کمزور کیا۔ منافقت کی سادہ تعریف یہ ہے کہ انسان زبان سے کچھ اور کہے، عمل میں کچھ اور کرے، یا حالات...