You are currently viewing بنگال الیکشن:ایک فیصلہ کن موڑ

بنگال الیکشن:ایک فیصلہ کن موڑ

ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک مانا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کا ہر الیکشن اہم تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ریاستی سطح پر بھی جو الیکشن ہوتے ہیں اس کی اہمیت کا فی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کا براہ راست یا بالواسطہ طور پر مرکزی حکومت یاریاستی حکومت کو اپنی طاقت آزمانے کاموقعہ مل جاتا ہے۔

اسی لیے مرکزی حکومت کے بڑے بڑے لیڈر ان ریاستی انتخابات کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔بیان بازیاں، دلچسپ پوسڑسے لے کر طرح طرح کی باتیں انتخاب کے دن تک سننے یا دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان انتخابات کی خبریں بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، سے لے دنیا بھر کے نیوز ایجنسیاں نشریات کرتی رہتی ہیں۔ پچھلے دنوں ہندوستانی الیکشن کمیشن نے ہندوستان کی کئی ریاستوں میں الیکشن کا اعلان کیا ہے جس میں معروف بنگالی ادیب اور شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے بنگال میں بھی الیکشن ہونا ہے۔یہ الیکشن دو مرحلے میں ہوگا۔مغربی بنگال میں 294اسمبلی حلقے ہیں جن کے لیے 23اپریل اور 29اپریل کو دو مراحل میں پولنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی آسام، کیرالہ، اور تمل ناڈو کے ساتھ یونین ٹیریٹری پونڈی چیری کی  4 مئی کو ہوگی اور اسی دن الیکشن کا رزلٹ بھی آ جائے گا۔

ماں، ماٹی، مانش کے علاوہ ’کھیلا ہوبے، دیکھا ہوبے، جیتا ہوبے‘،ایسے بنگالی کے الفاظ ہیں،جنہیں سمجھنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔ دراصل یہ بنگلہ زبان کے خوبصورت الفاظ ہیں جس کے معنی، ماں، مٹی، انسان،کھیلے گے، دیکھے گے،جیتے گے ہیں۔یہ باتیں بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پچھلے الیکشن میں کہی تھیں۔ تاہم اس بار” جوے بانگلہ” کا نعرہ ہر طرف سنائی دے رہا ہے۔اس کی ایک وجہ بی جے پی کی فرقہ پرست نعروں کے جواب میں دیا جارہا ہے۔جب جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے حمایتی،جے شری رام کا نعرہ بلند کرتے ہیں، اس کے جواب میں ترنمول کانگریس کے حمایتی “جوے بانگلہ” کا نعرہ لگا کر انہیں جواب دیتے ہیں۔ اس سے اس بات کا پتہ چل رہا ہے کہ بنگال کا الیکشن دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جس پر دنیا بھر کے لوگوں کی نظر ہے۔

 مغربی بنگال کی سیاست اس وقت ایک دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک ایسی ریاست جو ہمیشہ اپنی متحرک سیاسی روایت اور عوامی بیداری کے لیے جانی جاتی رہی ہے، آج 2026 کے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں ایک نئی تصویر پیش کر رہی ہے۔ یہ تبدیلی محض چہروں کی نہیں بلکہ سیاسی بیانیے، ترجیحات اور حکمت عملیوں کی بھی عکاس ہے۔بنگال کی سیاسی تاریخ طلبہ تحریکوں، نظریاتی وابستگیوں اور عوامی احتجاج سے جڑی رہی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں سیاست کو ایک فعال عوامی عمل اور اجتماعی جدوجہد کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ مگر موجودہ منظرنامہ اس روایت کو ایک نئے رخ پر لے جاتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں سیاسی بحث کا مرکز اب روزمرہ مسائل، حکمرانی کی کارکردگی اور عوامی توقعات بن چکے ہیں۔تاہم اس بدلتے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پہلو فرقہ وارانہ سیاست کا بھی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ انتخابی فائدے کے لیے ہندو-مسلم تقسیم کو ہوا دیتی ہے اور مذہبی شناخت کو سیاسی بیانیے کا حصہ بناتی ہے۔”جے شری رام”  جیسے نعروں کا بڑھتا ہوا استعمال اور اس کے جواب میں “جوئے بنگلہ” جیسے نعرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انتخابی فضا میں مذہبی اور شناختی سیاست نے بھی اپنی جگہ بنا لی ہے۔جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، ویسے ویسے ریاست میں شہریت، روزگار، بدعنوانی اور ترقی جیسے مسائل زیادہ شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ یہی عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بنگال کی سیاست اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں ایک طرف عوامی مسائل توجہ کا مرکز ہیں، وہیں دوسری طرف شناختی اور فرقہ وارانہ بیانیہ بھی ووٹر کے فیصلے کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

2026 کے انتخابات کے قریب آتے ہی ریاست میں سیاسی بحث کئی اہم مسائل کے گرد گھوم رہی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون  سی اے اے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی ایس آئی آر نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف بی جے پی ان اقدامات کو غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، تو دوسری طرف ترنمول کانگریس اسے حقیقی ووٹروں کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کے طور پر پیش کر رہی ہے۔یہ تنازع محض قانونی نہیں بلکہ جذباتی اور سیاسی بھی ہے۔ خاص طور پر اقلیتی برادری میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے ان کی سیاسی شمولیت متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممتا بنرجی نے خود کو ان طبقات کی آواز کے طور پر پیش کیا ہے، جو انتخابی سیاست میں ایک اہم حکمت عملی بن چکی ہے۔تاہم اس الیکشن میں معاشی محاذ پر، بے روزگاری سب سے بڑا سوال بن کر ابھری ہے۔ نوجوان طبقہ، جو کسی بھی انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے، اس وقت ملازمتوں کی کمی، صنعتی ترقی کی سست روی اور ہنر مند افراد کی ریاست سے باہر نقل مکانی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ یہ عوامل حکومت کی کارکردگی پر براہ راست سوال اٹھاتے ہیں۔حزب اختلاف نے انہی نکات کو بنیاد بنا کر ریاستی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ ان کے مطابق معاشی جمود اور محدود سرمایہ کاری حکمرانی کی ناکامی کی واضح علامات ہیں۔ دوسری جانب، حکمران جماعت اپنی فلاحی اسکیموں اور ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

مغربی بنگال کے الیکشن میں بدعنوانی کا مسئلہ بھی اس انتخاب میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، خاص طور پر سرکاری بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات نے عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ بی جے پی اور سی پی ایم پارٹیوں نے اسے اپنی مہم کا کلیدی نکتہ بنایا ہے، جبکہ ترنمول اس کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔فلاحی اسکیمیں، خاص طور پر براہ راست فائدہ منتقلی، اب بھی ترنمول کانگریس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ خواتین اور معاشی طور پر کمزور طبقات میں ان اسکیموں نے ایک مضبوط حمایت پیدا کی ہے، جو انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

سیاسی بیانیے میں بھی تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے اور ترنمول کانگریس کے رہنما ابھیشیک بنرجی نے بی جے پی کے “ڈبل انجن ” بیانیے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق بی جے پی کا یہ نعرہ محض ایک سیاسی حکمت عملی ہے، جس کے پیچھے دو مختلف انجن کام کر رہے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ پہلا انجن جمہوری اداروں کے مبینہ غلط استعمال پر چلتا ہے۔ جس میں الیکشن کمیشن کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا، حقیقی ووٹروں کو فہرستوں سے خارج کرنا، ایماندار افسران کے تبادلے کے ذریعے ریاستی نظام کو کمزور کرنا، اور انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت شامل ہے۔جبکہ دوسرا انجن، ان کے بقول، فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اے آئی ایم آئی ایم،آئی ایس ایف اوراے جے یو پی جیسے گروہوں کو استعمال کر کے مذہبی تقسیم کو گہرا کیا جا رہا ہے، تاکہ ووٹوں کو تقسیم کر کے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔الفاظ کے ایک دلچسپ کھیل میں، انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ” بنگال کے عوام ایسی حکومت کا انتخاب کریں گے جو عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہونہ کہ ایسی حکومت جو عوام سے دور ہو، انہیں خریدنے کی کوشش کرے، اور پھر ان سے لاتعلق ہو جائے”۔ابھیشیک بنرجی نے مزید کہا کہ” بی جے پی کا اصل ڈبل انجن ماڈل دراصل بداعتمادی، تقسیم اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششوں پر مبنی ہے، لیکن بنگال کے عوام اس کھیل کو بخوبی سمجھ چکے ہیں “۔انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ریاست کے ووٹرز ایک بار پھر ماں، مٹی، مانش کے نظریے کو ترجیح دیں گے”۔یہ وہ سیاسی نعرہ ہے جسے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے متعارف کرایا تھا، اور جو ترنمول کانگریس کی سیاسی شناخت بن چکا ہے۔

بنگال کے اسمبلی انتخاب بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں کے لیے اہم ہے۔بی جے پی کیرالہ کے ساتھ ساتھ بنگال کو بھی ’حتمی سرحد‘ کے طور پر مانتی ہے جہاں پارٹی اب تک حکومت تشکیل نہیں دے سکی ہے۔جسے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ ایک بہت بڑا چیلنج مان رہے ہیں۔بی جے پی اور اس کے پیشوا جن سنگھ کے بانی سیاما پرساد مکھرجی کا تعلق بھی بنگال سے ہی تھا۔ جن کے نام سے کلکتہ پورٹ ٹرسٹ کو منسوب کیا گیا ہے۔ بی جے پی ہندوستان بھر اور ریاست مغربی بنگال میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ ان کی حکومت یہاں بن جائے تاہم بی جے پی کا یہ سنہرا خواب فی الحال تو نا ممکن لگ رہا ہے۔

فی الحال ترنمول کانگریس کو بنگال میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں پر سبقت حاصل ہے۔ ممتا بنرجی نے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے 2011میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بنگال میں بائیں محاذ کے 34سالہ پرانی حکمرانی کے خلاف پُر جوش لڑائی کی قیادت کی تھی۔ بنگال پر پارٹی کی گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے وزیر اعلی ممتا بنرجی ملک کے وزیر اعظم مودی کے لئے ایک بہت بڑی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔تاہم آئندہ بنگال انتخابات میں، ممتا بنرجی کی زیر قیادت ٹی ایم سی(ترنمول کانگریس) کو نہ صرف بی جے پی کا سامنا ہے بلکہ بائیں بازو اور کانگریس سے بھی ایک نبرد آزماہونا ہے۔ یوں تو صوبائی الیکشن اس بار چار ریاستوں میں ہو رہا ہے لیکن بی جے پی نے اپنی پوری طاقت بنگال پر لگا دی ہے۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ممتا بنرجی نے اب تک بنگال میں ترقیاتی کاموں کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں نمایاں رول ادا کرتی رہی ہیں۔جس کا احساس ہر عام و خاص کوہے۔ تاہم کچھ باتیں ایسی ہیں جس سے کچھ مفاد پرست لوگ موقعہ کا فائدہ اٹھا کر ممتا بنرجی کو رسوا و ذلیل کبھی کر رہے ہیں۔جو کہ سیاست میں ایک عام سی چلن ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں بھارتیہ جنتا پارٹی جس ہندوتوا کے ایجنڈے پر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے، جوبہت ہی افسوس ناک ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی سیکولر طاقت کو مضبوط کیا جائے تاکہ فسطائی طاقتوں کے ناپاک عزائم کو مسمار کیا جاسکے۔ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اقلیتی طبقہ اپنے ووٹ کو بکھرنے نہ دے اور مثبت سوچ کا ثبوت پیش کرے اور موجودہ صورتِ حال میں خوب سوچ سمجھ کر اپنی حق ِ رائے دہی کا استعمال کرے۔تاہم اگر اقلیتی طبقے نے نے ٹی ایم سی سمیت دیگر سیکولر پارٹیوں کو اپنا ووٹ دیا تو جوتیوں میں دال بٹنے لگے گی اور فائدہ بلا شبہ بی جے پی کو ہوگا۔اگر ایسا ہوا تو بی جے پی کم ووٹ پاکر بھی حکومت تشکیل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کا یہ انتخاب محض اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ ریاست کی سیاسی شناخت کی نئی تشکیل بھی ہے۔ کیا بنگال اپنی روایتی عوامی سیاست کو برقرار رکھ پائے گا یا فرقہ وارانہ طاقت سیاسی عمل پرحاوی ہوجائے گی؟ کیا ترقی اور فلاح کے بیانیے عوامی بے چینی کو کم کر سکیں گے، یا بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے مسائل حکومت کے لیے چیلنج بنے رہیں گے؟ان سوالات کے جوابات تو انتخابی نتائج ہی دیں گے، لیکن اتنا واضح ہے کہ 2026 کا انتخاب بنگال کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونے جا رہا ہے۔

تحریر : فہیم اختر

Leave a Reply