You are currently viewing برطانیہ میں کرسمس: تہوار، روایت اور تنہایاں

برطانیہ میں کرسمس: تہوار، روایت اور تنہایاں

سال 2025کا یہ میرا آخری کالم ہے۔پچھلے تیرہ برسوں میں ہر ہفتے، اب تک میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ میں ہر موضوع پر کالم لکھوں اور مجھے اس بات کا یقین بھی ہے کہ میرے کالم پڑھنے والوں کو ہر ہفتے ایک نئے مو ضوع کو جاننے اور پڑھنے کا موقعہ مل رہا ہے۔

میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ میرے مضامین کے ذریعہ لوگوں کے معلومات اور علم میں اضافہ ہوتا رہے اور اس کا ثبوت میرے چاہنے والوں کے فون، ای میل اور فیس بُک کے ذریعہ ان کے مفید مشورے اور حوصلہ افزائی سے ہوتا رہتا ہے۔آج میں نے سوچا کیوں نہ ہم آپ لوگوں سے برطانیہ میں کرسمس کے تہوار کے موضوع پر گفتگو کریں۔میں سب سے پہلے لوگوں کو کرسمس کے تہوار کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آج اسی مو ضوع پر آپ کو بتائیں گے کہ برطانیہ میں کرسمس کا تہوار کیسے مناتے ہیں۔

کرسمس بنیادی طور پر وہ مسیحی تہوار ہے جس میں جیززکرائسٹ کا یوم ولادت منایا جاتاہے اوراس کا آغاز 25 دسمبر کو ہوتا ہے۔ مگر برطانیہ میں کرسمس منانے کی روایت، وقت کے ساتھ بدلتی ثقافتی اور سماجی رواجوں کے امتزاج سے اب صرف مذہبی تہوار سے آگے بڑھ چکی ہے۔ گھر، عوامی مقامات، بازار اور شہر کی سڑکیں درخت (کرسمس ٹری)، روشنیوں، سجاوٹ، شادیسی رنگ، اور تفریحی ماحول کے ذریعے دسمبر کے آغاز میں ہی روشن اور سجی نظر آتی ہیں۔برطانیہ کا اپنا منفرد اندازِ جشن اب بھی قائم ہے: مثلاً کرسمس کریکرجو 1847 میں لندن کے ایک مٹھائی فروش نے ایجاد کیا تھا  جودسترخوان کو خوش مزاج اور یادگار بناتا ہے، جس میں چھوٹے تحائف، کاغذی ٹوپیاں اور طنزیہ پیغامات شامل ہوتے ہیں۔

کرسمس کے موقع پر برطانیہ میں جن روایات کو خاص اہمیت حاصل ہے، ان میں شامل ہیں:تحائف کا تبادلہ، خاندان، دوست اور رشتہ دار ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں۔ یہ محبت اور ربط کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ کرسمس ڈنر، برطانیہ میں روایتی کرسمس ڈنر میں عام طور پر بھنا ہوا ٹرکی، آلو، سبزیاں، ساؤس، گریوی، اور دیگر طعام شامل ہوتے ہیں، جسے خاندان ایک ساتھ بیٹھ کر خوشی کے ساتھ کھاتا ہے۔ تجملی سجاوٹ اور کرسمس ٹری،گھروں اور عوامی مقامات پر درختوں کی سجاوٹ، روشنیوں کی چمک اور رنگ برنگی تزئین کرسمس کی روح بڑھا دیتی ہے۔ کارڈز اور خاندانی اجتماعات، کارڈز بھیجے جاتے ہیں، اور قرب و جوار کے لوگ اکٹھا ہو کر تہوار مناتے ہیں، چاہے مذہبی پس منظر ہو یا نہ ہو، کرسمس ایک سماجی میل جول کا موقع ہوتا ہے۔ تاہم پچھلے چند عشرے میں برطانیہ میں کرسمس منانے کا انداز کافی سیکولر یعنی غیر مذہبی بھی بنتا جا رہا ہے۔یعنی بہت سے لوگ اسے ایک خاندانی اور سماجی تہوار کے طور پر مناتے ہیں، نہ کہ صرف مذہبی روایت کے تحت۔

یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ کرسمس برطانیہ کی معیشت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ چند اہم نکات اور تازہ اعداد و شمار یہ ہیں:2024کی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ میں ہر بالغ فرد اوسطاً تقریباً £596 کرسمس تحائف پر خرچ کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ پورے ملک میں تحائف پر کل اخراجات 2024 میں تقریباً £28.6 ارب تک پہنچنے کی توقع ہے جو 2023 کے مقابلے میں تقریباً £1 ارب زیادہ ہے۔ صرف تحائف ہی نہیں، بلکہ خوراک، سفر، اجتماعات اور سجاوٹ وغیرہ سمیت کرسمس کی پوری مدت میں شاپنگ اور خرچ کا تخمینہ £46.4 ارب تک لگایا گیا ہے۔ یعنی تقریباً £923 فی شخص۔ گھریلو خرچ کی اگر بات کی جائے تو 2023 میں ایک عام برطانوی گھرانہ تقریباً £709–£719 خرچ کرتا تھا (کھانے، تحائف، سجاوٹ، سفر وغیرہ سمیت)۔ دسمبر میں عام ماہ کے مقابلے میں خریداری اور خرچ تقریباً 29% بڑھ جاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی دلیل ہیں کہ کرسمس صرف جذبات اور جشن نہیں بلکہ معاشی سرگرمی کا بھی ایک بڑا موسم ہے جو خوردہ بازار (ریٹیل)، خوراک، سفر، تفریح اور خدمات سے منسلک شعبوں کو خاصا فروغ دیتا ہے۔

اسی اثنا میں، برطانیہ میں کرسمس کے دوران گھروں اور عوامی مقامات میں سجاوٹ و خریداری کی مانگ بڑھ جاتی ہے، جس سے چھوٹے کاروبار اور بڑی دوکانیں دونوں فائدہ اٹھاتی ہیں۔کرسمس کا تہوار برطانیہ میں صرف ایک خاندانی تقریب نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، میل جول اور کمیونٹی احساس کا موقع بھی بن جاتاہے۔ بہت سے لوگ،چاہے ان کا مذہبی پس منظر نہ ہو، کرسمس مناتے ہیں، اور اسے اپنے خاندان، دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ اشتراک کا وقت سمجھتے ہیں۔ اس طرح، کرسمس سماجی اتحاد اور رابطے کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔تہوار کے دوران خیرات اور دوسروں کی مدد کا جذبہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔  محتاجوں، کمزور طبقوں، بے گھر افراد یا پناہ گزینوں کے لیے تعاون اور سخاوت عام ہو جاتی ہے۔ برطانیہ میں بعض سرکاری اور نجی ادارے کرسمس کے موقع پر پسماندہ افراد کے لیے خاص پروگرام یا امدادی سرگرمیاں منعقد کرتے ہیں۔

کرسمس عوامی اجتماعات، بازاروں، میلوں اور تقریبوں کا بھی موقع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر،برمنگھم کرسمس مارکیٹ اور دوسرے شہروں کے کرسمس مارکیٹیں ہیں، جہاں ہزاروں لوگ ملتے ہیں، خریداری کرتے ہیں اور تہوار کا ماحول محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کرسمس ثقافتی تنوع کو بھی گلے لگاتا ہے۔مختلف نسلوں، مذاہب اور پس منظر رکھنے والے افراد اپنے انداز میں کرسمس میں شریک ہوتے ہیں، جس سے معاشرتی قبولیت اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔ تاہم ماضی کے مقابلے میں برطانیہ میں کرسمس منانے کا انداز بدل رہا ہے۔ حال ہی میں ایک مطالعے نے یہ بتایا ہے کہ 1969 کے بعد 55 سال میں وہ لوگ جنہوں نے خود کرسمس ڈے اکیلے گزارنے کی بات کہی، اس کی شرح دگنی ہو گئی ہے یعنی اب تقریباً% 11 افراد کرسمس اکیلے گزارتے ہیں، ماضی میں یہ تعداد صرف% 5تھی۔یہ تبدیلی معاشرتی تنہائی، خاندانی ساخت میں تبدیلی، زندگی کے تیز رفتار انداز، اور سماجی رسم و رواج میں تبدیلی کی عکاس ہے۔ تاہم اس کے باوجود اکثریت یعنی تقریباً 80% افراد کہتے ہیں کہ وہ کرسمس سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اور تہوار اب بھی خاندانی اتحاد، خوشی اور رفاقت کا وقت ہے۔

کرسمس کے دن پر بہت سے لوگ، خاص طور پر بزرگ، تنہائی کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ یہ وقت خاندان کے ساتھ منانے کا تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی اپنے خاندان یا دوستوں سے دور ہو تو اس دن تنہائی کا احساس اور گہرا ہوسکتا ہے۔اس کے ساتھ برطانیہ میں کئی چیریٹی تنظیمیں اور مقامی کمیونٹیز ایسے لوگوں کی مدد کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ مفت کھانے، اجتماعی تقریبات اور دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ کوئی بھی شخص اس دن تنہا نہ محسوس کرے۔ کچھ لوگ روضاکارانہ طور پر بزرگ افراد یا بے گھر لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ ان کے لیے کھانے پکاتے ہیں یا انہیں گرمجوشی کے ساتھ کرسمس کی خوشیوں میں شامل کرتے ہیں۔یہ تضاد یعنی تہوار کی چمک دمک اور تنہائی کا گہرا سایہ کرسمس کے موسم کو جذباتی طور پر بہت پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

یوں توتنہائی کسی بھی عمر میں ہوسکتی ہے لیکن اس میں شدّت وقت کے ساتھ ساتھ عمر درازلوگوں میں زیادہ ہو جاتی ہے۔کرسمس کے موقعہ پرکئی لوگوں نے اپنے اپنے طور پر اپنی تنہائی کو ایک خطرناک اور عجیب و غریب کیفیت بتایا ہے اور یہ بھی کہا کہ اس کی تلافی کرنا بے حد مشکل ہے۔ان میں کچھ لوگ اپنی بیماری، رشتہ داروں سے دوری، خاندان کا نہ ہونا، الگ تھلگ رہنے کی عادت،غربت وغیرہ جیسی وجوہات بتائی ہیں۔ایک مطالعہ کے مطابق تنہائی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مثلاً خراب صحت، ٹرانسپورٹ کی کمی، چلنے پھرنے میں دشواریاں، کم آمدنی،کسی قریبی رشتہ دار کا انتقال ہوجانا، بلا وجہ خوف کھانا اور ریٹائرمنٹ وغیرہ عام ہیں۔ لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ برطانیہ کے سماجی زندگی میں اتنی تبدیلی آگئی ہے کہ یہاں پڑوس میں رہنے والوں سے بمشکل ہی ملاقات ہوپاتی ہے۔بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ میری زندگی ہے کسی سے کیا لینا دینا لیکن پھر ان لوگوں کی زندگی پر افسوس  ہوتا ہے جن سے نہ کوئی ملنے والا ہوتا ہے اور نہ ہی بات چیت کرنے والا ہوتا ہے۔

کرسمس برطانیہ میں ایک ایسا تہوار ہے جو مذہبی رسم سے شروع ہوا، مگر آج ثقافتی، سماجی اور اقتصادی تہوار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، محبت، سخاوت، خوشی اور اشتراکیت کا اظہار کرتے ہیں، اور معاشرتی اور خاندانی روابط کو مضبوط بناتے ہیں۔ساتھ ہی، کرسمس برطانیہ کی معیشت کے لیے بھی  اہم ہے۔خریداری، خدمات، سفر، مارکیٹنگ اور تفریحی شعبے،سب کو ایک قسم کی رونق ملتی ہے۔تاہم، بدلتے سماجی حالات نے یہ بھی دکھایا ہے کہ ہر شخص تہوار کے لیے ایک جیسا وقت نہیں رکھتا۔ بعض لوگ اکیلے گزارتے ہیں، بعض کا اندازِ جشن مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ کرسمس کا حقیقی معنوی جذبہ،محبت، سخاوت، اتحاد برقرار رہے تاکہ یہ تہوار صرف چند دنوں کی خوشی نہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور انسانی رشتوں کا استعارہ بن جائے۔

 میں آپ سب کو نئے سال کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آنے والا سال ہم سب کے لئے نیک ہو اورخوشیوں سے بھرا ہو۔نیا سال مبارک ہو۔

تحریر : فہیم اختر

Leave a Reply