اقوامِ متحدہ کو شاید کمزور کیا گیا، شاید خود اس کی کمزوریاں اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئیں، لیکن اس کے باوجود دنیا آج بھی اس ادارے سے امن کی امید وابستہ کیے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جب دنیا بھر کے سربراہان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو نگاہیں صرف تقریروں پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی مرکوز ہوتی ہیں کہ عالمی طاقتیں جنگ اور امن کے بارے میں کیا راستہ اختیار کرنے جا رہی ہیں۔
مگر اس مرتبہ جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے بارے میں دی جانے والی دھمکی نے دنیا کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر اقوامِ متحدہ کے مرکز میں بھی طاقتور ملک دھمکی کی زبان استعمال کریں گے تو پھر عالمی امن کے اس ادارے کی حیثیت کیا رہ جائے گی؟ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں یہ سوال اٹھایا کہ آیا کسی معاہدے کا راستہ اختیار کیا جائے یا اسلامی جمہوریہ کو ”تباہ“ کر دیا جائے۔یہ محض ایک تقریر کا جملہ نہیں۔ ایسے الفاظ کے پیچھے ایک پوری دنیا کا خوف چھپا ہوتا ہے۔ کیونکہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی؛ اس کے اثرات سرحدوں سے بہت دور تک جاتے ہیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تجارت متاثر ہوتی ہے، سمندری راستے غیر محفوظ ہوتے ہیں، معیشتیں دباؤ میں آتی ہیں اور سب سے بڑھ کر عام انسان کی زندگی غیر یقینی کا شکار ہو جاتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ اشارہ سامنے آیا کہ اگر امریکی فوجی دباؤ اور اقتصادی ناکہ بندی میں کمی کی جائے تو وہ ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے موقع پر بالواسطہ رابطے بھی ہوئے، اگرچہ دونوں فریق اب بھی بنیادی معاملات پر ایک دوسرے سے خاصے دور ہیں۔یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے ایران کو تباہ کرنے کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف اسی اجتماع کے موقع پر امریکی اور ایرانی نمائندے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے جیسے معاملات پر بات چیت کرتے ہیں۔ دنیا کے سامنے سوال یہی ہے کہ اگر آخرکار مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہے تو پھر دھمکی، تباہی اور جنگ کی زبان کیوں؟
ایران کا ردِعمل بھی قابلِ غور ہے۔ ایرانی قیادت نے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے اپنی شرائط کے ساتھ سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھا۔اسے کوئی ایران کی دلیری کہے گا، کوئی ضد، کوئی قومیخودمختاری کا اظہار اور کوئی خطرناک مزاحمت۔ لیکن ایک بات واضح ہے: جنگ کے میدان میں طاقت کا مظاہرہ اور سفارتی میز پر مسئلے کا حل دو مختلف چیزیں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سے بڑی فوجی طاقت بھی ہمیشہ سیاسی مسئلے کا مستقل حل نہیں دے سکتی۔مجھے اقوامِ متحدہ کے بارے میں سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ یہ ادارہ جس مقصد کے لیے قائم ہوا تھا، آج اسی مقصد کے حصول میں بار بار بے بس دکھائی دیتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے صدرِ جنرل اسمبلی نے بھی حالیہ امن کی تقریب میں ”خطرے کے مقابلے میں امن“ اور ”تباہی کے مقابلے میں مکالمے“ کو ترجیح دینے پر زور دیا تھا۔لیکن سوال یہ ہے کہ مکالمہ کرے کون؟ جب بڑی طاقتیں اپنی طاقت کو بین الاقوامی اصولوں سے بالاتر سمجھنے لگیں، جب دھمکی سفارت کاری کی جگہ لینے لگے اور جب جنگ کو مسئلے کا پہلا حل سمجھا جانے لگے تو پھر اقوامِ متحدہ کی عمارت خواہ کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو، اس کے اندر سے امن کی آواز کمزور پڑنے لگتی ہے۔
یہاں مجھے ایک تلخ مگر سادہ حقیقت یاد آتی ہے: جب قومیں احمق یا غیر ذمہ دار قیادت کو اپنا رہنما منتخب کرتی ہیں تو پھر انہیں اپنے فیصلوں کے نتائج بھی بھگتنا پڑتے ہیں۔لیڈر صرف اپنی ذات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ وہ کروڑوں انسانوں کے نام پر فیصلے کرتا ہے۔ اس کی زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ بازاروں کو ہلا سکتا ہے، ایک حکم ہزاروں جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور ایک غلط فیصلہ نسلوں کو اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اسی لیے قیادت صرف طاقت، مقبولیت یا بلند آواز کا نام نہیں؛ قیادت دراصل ذمہ داری، تدبر، برداشت اور نتائج کو سمجھنے کا نام ہے۔دنیا کو ایسے حکمرانوں کی ضرورت نہیں جو ہر اختلاف کا جواب دھمکی سے دیں۔ دنیا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو طاقت رکھتے ہوئے بھی طاقت کے استعمال سے پہلے سو بار سوچیں۔ جو جنگ جیتنے سے پہلے امن کو جیتنے کی کوشش کریں۔ جو مخالف کو مٹانے کے بجائے مسئلے کو مٹانے کا راستہ تلاش کریں۔ٹرمپ کی تقریر نے شاید ایران کو خوف زدہ کرنے کا مقصد رکھا ہو، لیکن ایران کا جواب یہ یاد دلاتا ہے کہ قوموں کو صرف فوجی طاقت سے ہمیشہ خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ دوسری طرف ایران کے لیے بھی یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مزاحمت اور مسلسل جنگ کی اپنی انسانی اور معاشی قیمت ہوتی ہے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف سے آگے بڑھ کر ایسا راستہ تلاش کریں جس میں انسان، خطہ اور آنے والی نسلیں محفوظ رہ سکیں۔اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں اقوامِ متحدہ کو دوبارہ اپنی اصل روح تلاش کرنا ہوگی۔دنیا کو ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو طاقتور کو بھی یاد دلائے کہ طاقت قانون کا متبادل نہیں، اور کمزور کو یہ یقین دلائے کہ اس کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے۔ اگر اقوامِ متحدہ یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو دنیا میں طاقتور کی مرضی ہی قانون بن جائے گی۔
قومیں صرف سرحدوں کی حفاظت سے محفوظ نہیں ہوتیں، وہ اپنے فیصلوں کی حفاظت سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔ جب ہم اپنے ووٹ، اپنی رائے اور اپنے فیصلے کو محض نعروں، جذبات اور شخصیت پرستی کے حوالے کر دیتے ہیں تو پھر اقتدار میں آنے والے لوگ صرف حکومت نہیں کرتے، ہمارے مستقبل کا فیصلہ بھی کرتے ہیں۔اس لیے ہر قوم کو یہ سوال خود سے پوچھنا چاہیے:ہمیں ایسا لیڈر چاہیے جو دنیا کودھمکی دے، یا ایسا رہنما جو دنیا کو جنگ سے بچانے کی کوشش کرے؟کیونکہ تاریخ میں طاقتور حکمرانوں کے نام تو بہت لکھے گئے ہیں، مگر ہمیشہ یاد وہی رہتے ہیں جنہوں نے اپنی طاقت سے انسانیت کو بچایا، نہ کہ وہ جنہوں نے اپنی طاقت سے دنیا کو خوف زدہ کیا۔دنیا کو آج مزید طاقتور دھمکیوں کی نہیں، مضبوط سفارت کاری کی ضرورت ہے؛ مزید جنگوں کی نہیں، ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو اختلاف کے باوجود امن کا راستہ تلاش کرنا جانتے ہوں۔ یہی انسانیت کی اصل فتح ہے۔
ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی اور دھمکی آمیز طرزِ سیاست نے صرف ایران ہی نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ سمیت پوری دنیا کو شش و پنج میں مبتلا کر دیا ہے۔ آج ہر امن پسند انسان کے ذہن میں یہی سوال گردش کر رہا ہے کہ طاقت کی یہ زبان دنیا کو کس سمت لے جائے گی؟ کیا آنے والے دن انسان کو امن، سکون اور چین کی زندگی نصیب کریں گے یا جنگ، خوف اور بے یقینی کے سائے مزید گہرے ہوتے جائیں گے؟ وقت ہی اس سوال کا جواب دے گا، مگر تاریخ ہمیں یہ سبق ضرور دیتی ہے کہ دنیا دھمکیوں سے نہیں، تدبر سے محفوظ رہتی ہے؛ جنگیں سرحدیں تو بدل سکتی ہیں، مگر انسانیت کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ کاش دنیا کے طاقتور حکمران یہ سمجھ سکیں کہ اصل بہادری کسی ملک کو تباہ کرنے میں نہیں، بلکہ تباہی کے دہانے پر کھڑی دنیا کو امن کی طرف واپس لانے میں ہے۔
فہیم اختر۔ لندن