You are currently viewing ایران کا احتجاج: عوامی بغاوت یا امریکہ اور اسرائیل کی سازش؟

ایران کا احتجاج: عوامی بغاوت یا امریکہ اور اسرائیل کی سازش؟

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                              ایران میں حالیہ احتجاج نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا یہ مظاہرے خالصتاً عوامی غصے اور داخلی مسائل کا نتیجہ ہیں، یا پھر جیسا کہ ایرانی قیادت دعویٰ کرتی ہے، یہ امریکہ اور اسرائیل کی ایک منظم سازش ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے، مگر اسے سمجھنے کے لیے جذبات سے ہٹ کر سیاسی اور تاریخی تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔

ایران ایک طویل عرصے سے شدید معاشی دباؤ، بین الاقوامی پابندیوں، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی قدغنوں کا شکار ہے۔ عام ایرانی شہری کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، اور ایسے میں احتجاج کا ابھرنا کسی بھی معاشرے میں ایک فطری ردِعمل سمجھا جا سکتا ہے۔ نوجوان نسل، خاص طور پر شہری علاقوں میں، سیاسی آزادیوں، معاشی مواقع اور سماجی انصاف کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نظر آتی ہے۔ ان حقائق کو محض“بیرونی سازش”کہہ کر رد کرنا زمینی سچائی سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات ابتدا ہی سے مخاصمت پر مبنی رہے ہیں۔ انقلابِ ایران کے بعد سے واشنگٹن نے کھلے اور پوشیدہ دونوں طریقوں سے تہران پر دباؤ ڈالا ہے،چاہے وہ معاشی پابندیاں ہوں، سفارتی تنہائی، یا اطلاعاتی و سائبر جنگ۔ اسرائیل بھی ایران کو اپنے وجود کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ سمجھتا ہے۔ ایسے میں یہ مان لینا سادہ لوحی ہوگی کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے داخلی بحرانوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کریں گے۔

ایرانی قیادت کا یہ مؤقف کہ احتجاج کے دوران تشدد، ہلاکتیں اور بدامنی بیرونی عناصر کے ہاتھوں ہوئی، مکمل طور پر ناقابلِ یقین نہیں، لیکن مکمل طور پر قابلِ تصدیق بھی نہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر اندرونی اختلافات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں، مگر وہ اختلافات خود سے پیدا نہیں کرتیں —وہ پہلے سے موجود شگافوں میں مداخلت کرتی ہیں۔اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ احتجاج سازش ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر عوام مطمئن ہوتے، اگر ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد قائم ہوتا، تو کسی بیرونی طاقت کے لیے مداخلت کی گنجائش ہی نہ ہوتی۔ احتجاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ریاست اور معاشرے کے درمیان مکالمہ ٹوٹ چکا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خمینی کی جانب سے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کئی ہزارافراد کی ہلاکت کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر ڈالنا محض ایک داخلی بیان نہیں، بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری دہائیوں پر محیط کشیدگی کی ایک اور قسط ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اندرونی دباؤ، معاشی مشکلات اور سیاسی بے چینی کے سنگین مرحلے سے گزر رہا ہے، جبکہ خارجہ محاذ پر بھی اس کے تعلقات خاص طور پر واشنگٹن کے ساتھ مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔خمینی کا یہ دعویٰ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذاتی طورپر ایران مخالفبغاوت میں ملوث تھے، ایران کے روایتی بیانیے کی توسیع ہے، جس میں اندرونی احتجاج کو بیرونی سازش سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ تاہم اس بار بیانیے میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ایرانی قیادت نے ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو نہ صرف ایران کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

ایران کے نزدیک امریکہ محض ایک بیرونی طاقت نہیں بلکہ ایک ایسا دیرینہ حریف ہے جس پر وہ اپنی داخلی عدم استحکام کی بڑی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات بداعتمادی، پابندیوں، خفیہ جنگوں اور بالواسطہ تصادم سے بھرے رہے ہیں۔ ایرانی قیادت بارہا یہ موقف دہرا چکی ہے کہ امریکہ “رجیم چینج”کی پالیسی کے تحت معاشی دباؤ، میڈیا، اور مبینہ خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔دوسری جانب، امریکہ اور اس کے اتحادی ایران میں ہونے والے احتجاج کو عوامی غصے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی جبر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر این اے کی جانب سے ہزاروں ہلاکتوں کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زمینی حقائق مبہم اور متنازع ہیں۔ یہی ابہام دونوں فریقوں کو اپنے اپنے بیانیے مضبوط کرنے کا موقع دیتا ہے۔

خمینی کا یہ کہنا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن ملکی یا بین الاقوامی مجرموں کو سزا سے بچنے نہیں دے گا، دراصل ایک دوہرا پیغام ہے۔ ایک طرف یہ بیان بیرونی دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ ایران براہ راست تصادم سے گریزاں ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک واضح وارننگ بھی ہے کہ ایران خود کو کمزور نہیں سمجھتا۔ایران کے شمال مغربی کرد علاقوں میں زیادہ ہلاکتوں کا دعویٰ بھی اس تنازع کو ایک حساس نسلی اور علاقائی پہلو دیتا ہے، جسے ایران اکثر بیرونی مداخلت سے جوڑتا آیا ہے۔ ماضی میں بھی ایران نے کرد علیحدگی پسند تحریکوں پر امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے، چاہے اس کے ٹھوس شواہد عالمی سطح پر متنازع ہی کیوں نہ ہوں۔تاہم، یہ معاملہ محض احتجاج یا ہلاکتوں کے اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایران اور امریکہ ایک دوسرے کو داخلی بحرانوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس تصادم کو مزید گہرا کریں گے، یا پس پردہ سفارتی راستے تلاش کیے جائیں گے۔ خمینی کے حالیہ بیان نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کی قیادت اس بحران کو صرف داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی محاذ آرائی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ایسے میں، ایران امریکہ تعلقات کا مستقبل مزید کشیدگی، بیانیوں کی جنگ اور خطے میں غیر یقینی صورتحال کی جانب بڑھتا دکھائی دیتا ہے، جہاں سچ، الزام اور سیاست ایک دوسرے میں الجھ چکے ہیں۔

ایران کو درپیش مسائل کسی مفروضے یا پروپیگنڈے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہیں۔ معاشی بدحالی، مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی قدغنیں اور سماجی جمود وہ عوامل ہیں جنہوں نے عام ایرانی شہری کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں احتجاج کا جنم لیناکوئی غیر فطری عمل نہیں۔ یہ کہنا درست ہے کہ ایران کے اندر مسائل حقیقی ہیں اور ان پر پردہ ڈالنا مسئلے کا حل نہیں۔تاہم، اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایسے ہر موقعے کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں کبھی بھی کسی خطے کے داخلی بحران کو نظرانداز نہیں کرتیں، خاص طور پر جب وہ بحران ان کے اسٹریٹجک حریف سے جڑا ہو۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی ہو رہا ہے۔

امریکہ طویل عرصے سے ایران کو دباؤ میں رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور اطلاعاتی جنگ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل، جو خود کو مشرقِ وسطیٰ کی مرکزی طاقت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے، ایران کو اپنی علاقائی بالادستی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ چنانچہ ایران میں ہونے والی کسی بھی بدامنی کو اسرائیل ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہے، نہ کہ ایک المیے کے طور پر۔یہ کہنا درست ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل نے یہ احتجاج پیدا نہیں کیے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ان سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا مہمات، سیاسی بیانات، اور سفارتی دباؤ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے داخلی خلفشار کو عالمی سطح پر اپنے بیانیے کے حق میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مقصد واضح ہے: ایران کو کمزور دکھانا، اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا، اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں موڑنا۔اسرائیل خاص طور پر خطے میں اپنی قیادت اور برتری چاہتا ہے، ایسی قیادت جو نہ صرف عسکری ہو بلکہ سیاسی اور نظریاتی بھی۔ ایران کی موجودگی، اس کی مزاحمتی پالیسی اور علاقائی اتحاد اسرائیل کے اس خواب کی راہ میں حائل ہیں۔ اسی لیے ایران کے کسی بھی داخلی بحران کو اسرائیل ایک اسٹریٹجک موقع سمجھتا ہے۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایران کے اندرونی مسائل حل شدہ ہوتے، اگر عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا، تو کیا بیرونی طاقتوں کو یہ موقع ملتا؟ شاید نہیں۔ بیرونی قوتیں ہمیشہ اسی جگہ مداخلت کرتی ہیں جہاں اندرونی کمزوریاں موجود ہوں۔

ایران میں جاری سیاسی بے چینی کو محض داخلی بحران قرار دینا ایک ادھورا تجزیہ ہوگا۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ایران کو اندرونی سطح پر سنگین معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کو اپنے اسٹریٹجک اہداف میں شامل کیے ہوئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جس سب سے مؤثر ہتھیار کا استعمال کیا جا رہا ہے، وہ براہِ راست فوجی حملہ نہیں بلکہ معاشی ناکہ بندی ہے، ایک ایسا ظلم جو خاموشی سے پورے معاشرے کو مفلوج کر دیتا ہے۔معاشی پابندیاں بظاہر کسی ریاست کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر حقیقت میں ان کا سب سے بڑا شکار عام شہری ہوتا ہے۔ ایران پر عائد سخت امریکی پابندیوں نے ادویات، روزگار، صنعت، اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ مہنگائی، کرنسی کی گرتی ہوئی قدر، اور بیروزگاری نے عوامی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ ایسے میں جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو انہیں اپنے دکھ کا ذمہ دار اپنی حکومت کے ساتھ ساتھ بیرونی طاقتوں کو بھی ٹھہرانا چاہیے لیکن عالمی بیانیہ بڑی مہارت سے اس رخ کو چھپا دیتا ہے۔امریکہ کی زیادہ سے زیادہدباؤکی پالیسی دراصل حکومتِ ایران کو کمزور کرنے، عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کرنے اور بالآخر نظام کو اندر سے گرانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ اسرائیل اس پالیسی کا نہ صرف حامی ہے بلکہ اسے خطے میں اپنی بالادستی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ اسرائیل کے نزدیک ایران وہ واحد طاقت ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں اس کے سیاسی، عسکری اور نظریاتی عزائم کو کھلے عام چیلنج کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل ہر اس قدم کی حمایت کرتا ہے جو ایران کو غیر مستحکم کرے۔

ایران کے لیے سب سے بڑا خطرہ امریکہ یا اسرائیل ہی نہیں ہیں، بلکہ وہ داخلی بحران ہے جسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے لیے بھی یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ صرف دباؤ، پابندیوں اور عدم استحکام کی پالیسی نے آج تک ایران کو جھکایا نہیں، بلکہ مزید سخت گیر بنا دیا ہے۔میری نظر میں، ایران کا احتجاج نہ تو محض ایک سادہ عوامی بغاوت ہے اور نہ ہی صرف ایک غیر ملکی سازش۔ یہ ایک پیچیدہ حقیقت ہے جہاں عوامی محرومیاں، ریاستی سختی، اور عالمی طاقتوں کی چالیں ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر نہ ایران میں استحکام آ سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔سچ یہی ہے کہ جب عوام سڑکوں پر آ جائیں، تو الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہوتی ہے، چاہے وہ تہران میں ہو یا واشنگٹن میں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کی حکومت گرانے کے لیے اس کے عوام کو اجتماعی سزا دینا اخلاقی یا قانونی طور پر درست ہے؟ اگر جمہوریت اور انسانی حقوق واقعی عالمی طاقتوں کے لیے اہم ہوتے، تو پابندیوں کا نشانہ عوامی زندگی نہ بنتی۔ مگر ایران کے معاملے میں انسانی حقوق کا نعرہ اور معاشی ظلم ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ایران کو یقیناً اپنے داخلی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، مگر بیرونی دباؤ اور معاشی گلا گھونٹنے سے نہ اصلاح آتی ہے اور نہ استحکام۔ اس کے برعکس، ایسے اقدامات انتہا پسندی، ضد اور مزاحمت کو جنم دیتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں ایران کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مزید محاذ آرائی کی طرف دھکیل رہی ہیں، جس کا خمیازہ پورا خطہ بھگت سکتا ہے۔

ایران کا احتجاج نہ تو صرف بیرونی سازش ہے اور نہ ہی محض ایک داخلی معاملہ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جہاں ایران کی اپنی کوتاہیاں اور امریکہ و اسرائیل کے مفادات ایک دوسرے سے جا ملتے ہیں۔ جب تک ایران اپنے عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل نہیں کرے گا، تب تک ہر احتجاج بیرونی طاقتوں کے لیے ایک نیا موقع بنتا رہے گا۔ریاستوں کی مضبوطی نعروں سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے ہوتی ہے اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جسے نظرانداز کرنے کی قیمت ایران آج ادا کر رہا ہے۔                                                                                                                                                                                                                                                                                   فہیم اختر۔ لندن

Leave a Reply