You are currently viewing شرم تم کو مگر نہیں آتی!

شرم تم کو مگر نہیں آتی!

لیجئے ایک بار پھر” حجاب اور برقعے” پر سیاست گرمایا۔ لیکن یہ معاملہ نہ یورپ سے ہے، نہ امریکہ سے ہے بلکہ اس کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔اب آپ ہی میری طرح شش و پنج میں پڑ گئے ہوں گے کہ آکر ہندوستان کے صوبہ بہار میں حجاب اور برقعہ کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کیوں ہورہا ہے۔
عام طور پر ہمارے ذہن میں ایران یا سعودی عرب یا دیگر مسلم آبادی والے ممالک میں اگر مذہبی کسی احکام پر احتجاج یا تنقید ہوتی ہے تو ہمارے ذہن میں طرح طرح کے سوالات ابھرنے لگتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے یہ ممالک اسلامی عقیدے کے لوگوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔اس لئے اگر مذہبی یا ثقافتی طور پر کوئی بحث چھڑتی ہے تو ہم سب کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔اس کے بعد امریکہ اور مغربی ممالک تو تاک میں بیٹھے رہتے ہیں۔ بس جناب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ مسلم ممالک کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ تو برطانیہ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا ہے۔جس میں اپنی ٹانگ اڑانا یہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
ویسے بھی اسلام کے متعلق کوئی بھی بات جب زیرِ بحث ہوتی ہے تو سب سے زیادہ بے چین اور بیقرار مغربی لوگ ہوتے ہیں۔اور ہوں بھی کیوں نہ، کیونکہ یہ تو اپنے آپ کو انسانی حقوق کا چمپئین سمجھتے ہیں۔ یعنی کہ اگر دیکھا جائے تو زبان، ثقافت سے لے کر تمام مغربی اقدار کو پوری دنیا میں رائج کرنا ہی ان کا اولین مقصد ہے۔اب یہ ان مسلم ممالک جہاں عورتیں حجاب اور برقعہ پہننا ضروری سمجھتی ہیں، اس کے خلاف آئے دن پروپگنڈا چلانا یا کوئی آرٹیکل لکھ کر تماشہ بنانا ان کا ایک اہم ایجنڈاہوتا ہے۔یعنی کہ ان کا ماننا ہے کہ دنیا بھر کی عورتیں مغربی لباس پہنیں اور جسم کی نمائش ہو تو بس انہیں لگتا ہے کہ عورتوں کو ان کے حقوق اور آزادی مل گئی۔
مذہبی لباس کی آزادی کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے کی بنیادی پہچان ہوتی ہے۔ یہ آزادی صرف کپڑے پہننے کے حق تک محدود نہیں بلکہ شناخت، عقیدے، وقار اور ذاتی خودمختاری کے احترام کا اعلان ہوتی ہے۔ حجاب اور برقعہ مسلمان عورت کے لیے محض ثقافتی یا سماجی علامت نہیں بلکہ ایک شعوری مذہبی انتخاب ہے، جسے حقارت یا نفرت کی نظر سے دیکھنا دراصل مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔
اسلام میں حجاب اور برقعہ عورت کی عزت، پردہ نظر اور ذاتی حدود کی علامت ہیں۔ یہ کسی جبر کا نہیں بلکہ اختیار کا اظہار ہیں۔یہ فیصلہ عورت خود کرتی ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق کیسے جینا چاہتی ہے۔ ایسے میں جب حجاب یا برقعہ کو پسماندگی، شدت پسندی یا ریاست مخالف رویے سے جوڑا جاتا ہے تو یہ نہ صرف غلط فہمی بلکہ تعصب پر مبنی بیانیہ بن جاتا ہے۔
اسلام میں حجاب اور نقاب محض لباس نہیں بلکہ عقیدہ، شناخت اور وقار کی علامت ہیں۔ حجاب عورت کی عفت، خودمختاری اور ذاتی حدود کا اعلان ہے، جس کا احترام کرنا نہ صرف مذہبی رواداری بلکہ بنیادی انسانی شائستگی کا تقاضا ہے۔ کسی بھی عورت کے لباس کو، بالخصوص ایک سرکاری عہدے پر فائز شخص کی جانب سے، اس کی مرضی کے بغیر چھونا یا بدلنے کی کوشش کرنا اس کی جسمانی خودمختاری اور مذہبی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔
حجاب اور برقعہ کی بے حرمتی اکثر ترقی، سیکولرازم یا سیکیورٹی کے نام پر کی جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر ریاست یا سماج کسی مخصوص مذہبی لباس کو نشانہ بناتا ہے تو وہ غیر جانبدار نہیں رہتا۔ حقیقی سیکولرازم کا مطلب یہ نہیں کہ مذہب کو عوامی زندگی سے مٹا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر مذہب کو برابر عزت اور تحفظ دیا جائے۔
نفرت انگیز رویوں کا سب سے گہرا اثر مسلمان عورت پر پڑتا ہے، جو ایک طرف اپنی پیشہ ورانہ اور سماجی صلاحیتوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے، اور دوسری طرف اپنی شناخت کی وجہ سے شک، طنز یا تضحیک کا سامنا کرتی ہے۔ یہ رویہ عورت کو بااختیار بنانے کے بجائے اسے مزید دبانے کا سبب بنتا ہے، اور سماج میں تقسیم کو گہرا کرتا ہے۔
کسی بھی عورت کے حجاب یا برقعہ کو چھیڑنا، زبردستی اتارنے کی کوشش کرنا، یا اس پر تمسخر اڑانا صرف بدتمیزی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ عمل اس کے جسمانی اور مذہبی حق پر حملہ ہے، جسے کسی صورت جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔مذہبی لباس کا احترام دراصل انسان کے احترام سے جڑا ہے۔ جب تک معاشرے حجاب اور برقعہ کو مسئلہ سمجھتے رہیں گے، تب تک مذہبی رواداری ایک نعرہ ہی رہے گی۔ اصل امتحان یہی ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے عقیدے، لباس اور انتخاب کو قبول کر سکیں کیونکہ آزادی وہی معتبر ہوتی ہے جو سب کے لیے ہو، نہ کہ صرف اکثریت کے لیے۔
حال ہی میں ہندوستان کے صوبہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے ایک سرکاری تقریب میں ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کے حجاب کو ہاتھ لگانا اور پھر اسے کھینچ کر بے نقاب کردینا، محض ایک فرد کی ناپسندیدہ حرکت نہیں، بلکہ یہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو آج کے بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے گرد تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے۔ اس عمل پر لوگوں کی جانب سے سخت مذمت، اور اسے احمقانہ اور قابلِ مذمت قرار دینا، اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ واقعہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی اور آئینی مسئلہ ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک نئی تعینات ہونے والی یونانی ڈاکٹر اپنا تقرری نامہ وصول کرنے کے لیے بہار کے وزیر اعلیٰنتیش کمار کی طرف آگے بڑھی۔ اس لمحے کو اس نوجوان ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ زندگی کی خوشی اور فخر کا موقع ہونا چاہیے تھا، مگر وہ لمحہ ذلت اور صدمے میں بدل گیا۔سوشل میڈیا پر ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی عوامی غم و غصہ پھوٹ پڑا، اور یہ سوال ایک بار پھر شدت سے ابھرا کہ، کیا بھارت میں مسلمان اپنی شناخت کے ساتھ عوامی زندگی میں محفوظ ہیں؟
بعض لوگوں کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ وزیرِ اعلیٰ بہار صحت کے مسائل کا شکار ہیں، تاہم یہ جواز اس عمل کی سنگینی کو کم نہیں کرتا۔ اگر کوئی شخص واقعی ذہنی یا اعصابی مسائل کا شکار ہے تو یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آیا وہ ایک آئینی منصب پر فائز رہنے کے اہل ہیں یا نہیں۔ بیماری ہمدردی کا تقاضا کر سکتی ہے، مگر غلطی کو درست نہیں بنا سکتی۔
اس واقعے کے بعد سیاسی جماعتوں، ماہرینِ تعلیم اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے اس عمل کو“ناقابلِ تسخیر”اور“گہری تشویش ناک”قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ یہ واقعہ ایک فرد تک محدود نہیں رہا۔ ناقدین کے مطابق یہ اس وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جہاں مسلمانوں کی مذہبی علامات چاہے وہ حجاب ہو، داڑھی یا نام کو عوامی حلقوں میں اشتعال انگیزی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اسلام میں حجاب عورت کو سماج سے الگ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اسے عزت کے ساتھ سماج میں موجود رہنے کا حق دیتا ہے۔ ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا حجاب اس کی پیشہ ورانہ اہلیت میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کی شناخت کا حصہ ہے، جسے ریاستی سطح پر تسلیم اور محفوظ کیا جانا چاہیے۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب ریاستی طاقت شائستگی، قانون اور مذہبی آزادی کی حدود سے تجاوز کرے تو سرکاری تقریبات بھی جبر اور تضحیک سے محفوظ نہیں رہتیں۔ سوال صرف ایک حجاب کا نہیں، بلکہ اس حق کا ہے کہ کیابھارت میں مسلمان عورت اپنی شناخت کے ساتھ، خوف کے بغیر، عوامی زندگی میں سانس لے سکتی ہے یا نہیں۔ایک جمہوری ریاست میں جوابدہی صرف معافی مانگنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس سوچ کا محاسبہ بھی ہونا چاہیے جو ایسے واقعات کو ممکن بناتی ہے۔ حجاب کو سمجھنا، اس کا احترام کرنا، دراصل انسانی وقار اور آئینی اقدار کا احترام ہے اور یہی کسی بھی مہذب معاشرے کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
میں نے دنیا کے بیشتر مسلم اور غیر مسلم ممالک، ایشیائی ممالک اور یوروپی ممالک کا سفر کیا ہے۔ جہاں میں نے زیادہ تر خواتین کو حجاب پہننا،ان کی پسند پایا ہے۔ جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عام طور پر مسلم خواتین کسی کے دباؤ میں حجاب پہننا ضروری نہیں سمجھتی بلکہ وہ مذہبی اور ذاتی طور پر حجاب پہننا پسند کرتی ہیں۔ تاہم حجاب کے متعلق کچھ واقعات ایسے بھی رونما ہو ئے ہیں جہاں اسلام کو بدنامکرنے کے لئے توڑ موڑ کر بات کو پیش کی جاتی ہے اوراسے انسانی حقوق سے جوڑ کر حجاب پہننے کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے جو کہ ایک ناقابلِ قبول بات ہے۔
میں اس شرمناک واقعہ کی پر زور مذمت کرتا ہوں اور بہار کے وزیراعلیٰ کو یہی مشورہ دوں گا کہ وہ ہندوستان کی آئین کا احترام کرتے ہوئے آئندہ ایسی کوئی حرکت کسی بھی مذہب کے لوگوں کے ساتھ نہ کریں۔ میں ان کے حمایتی سے بھی یہی درخواست کروں گا کہ وہ منہ کھولنے سے پہلے ایسی شرمناک حرکت پر اپنے احمقانہ بیانات سے گریز کریں، خیر جن لوگوں کو اس بات پر پچھتاوا نہیں ان سے یہی  کہوں گا کہ “شرم تم کو مگر نہیں آتی”۔
فہیم اختر۔ لندن

Leave a Reply