ایک نوجوان میئر ظہران ممدانی کی کہانی، جیت اور اس کے پیچھے کی حقیقت پر دنیا بھر میں چرچا رہا۔نیویارک کے سٹی ہال میں ایک نوجوان میئر کی آمد نے شہر کی سیاست میں ایک نیا رنگ بھرا ہے۔ ظہران ممدانی، جس کی عمر صرف 34 سال ہے، نے نہ صرف اپنی نوجوانی بلکہ مسلم اور ایشیائی شناخت کے ذریعے ایک مضبوط سیاسی پیغام دیا: یہ شہر سب کے لیے ہے، نہ کہ صرف امیروں اور طاقتور طبقے کے لیے۔ ان کی جیت ایک محض انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی خواہش کی نمائندگی ہے۔ایک ایسی خواہش جو مہنگائی، کرایوں کی بڑھتی قیمتوں اور شہری ناانصافیوں سے تنگ آچکی ہے۔ مگر ان کی کہانی صرف فتح کی نہیں؛ اس کے پیچھے چھپی ہے وہ پیچیدہ حقیقت کہ وعدے اور نظریات اقتدار کی سخت زمین پر آزمائے جائیں گے، جہاں ریاستی اور وفاقی دباؤ، مالی وسائل کی کمی اور کاروباری حلقوں کی محتاط مخالفت ایک نوجوان میئر کے لیے حقیقی چیلنج ہیں۔ یہ وہ کہانی ہے جو نہ صرف نیویارک بلکہ امریکہ کی سیاست میں نوجوان قیادت کے لیے ایک امتحان ہے۔
سیاست میں بعض اوقات جیت محض ووٹوں کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ وقت، حالات اور عوامی تھکن کا اظہار بن جاتی ہے۔ نیویارک سٹی کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کی کامیابی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہ جیت صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ایک ایسے شہر کی ہے جو مہنگائی، عدم مساوات اور سیاسی جمود سے بیزار ہو چکا تھا۔ظہران ممدانی کوئی روایتی سیاست دان نہیں۔ نہ ان کے پیچھے سیاسی خاندان کی طاقت تھی، نہ کارپوریٹ سرمایہ، اور نہ ہی وہ اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ امیدوار تھے۔ 18 اکتوبر 1991 کو پیدا ہونے والا یہ نوجوان سیاست دان، یکم جنوری 2026 کو امریکہ کے سب سے بڑے شہر کا 112واں میئر بن گیااور اس کے ساتھ ہی تاریخ میں کئی نئی سطریں لکھی گئیں۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان اور ایشیائی نژاد امریکی میئر بنے، اور کوئنز سے تعلق رکھنے والے پہلے فرد بھی جنہیں یہ منصب حاصل ہوا۔
لیکن ممدانی کی کہانی شناخت سے کہیں آگے جاتی ہے۔ان کی سیاست کی بنیاد اسمبلی کے دنوں میں پڑی، جب انہوں نے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، کرایوں کی بے قابو قیمتوں اور متوسط طبقے کی خاموش پسپائی کو اپنی آواز بنایا۔ وہ ایسے وقت میں ابھرے جب نیویارک میں کام کرنے والا طبقہ خود کو اس شہر میں اجنبی محسوس کرنے لگا تھا۔جہاں نوکری ہے مگر گھر نہیں، شہر ہے مگر تحفظ نہیں۔ممدانی نے اسی خلا کو پہچانا۔ان کا پیغام سادہ تھا، مگر اثر انگیز: یہ شہر صرف امیروں کے لیے نہیں ہے۔
یونیورسل مفت بچوں کی دیکھ بھال، مفت پبلک بس سروس، سبسڈی والے مکانات کے کرایوں کو منجمد کرنا، اور شہر کے زیرِ انتظام گروسری اسٹور،یہ وعدے بظاہر انقلابی لگتے تھے، مگر درحقیقت یہ ایک ایسے طبقے کی روزمرہ ضروریات کا اظہار تھے جسے برسوں سینظرانداز کیا جا رہا تھا۔ نوجوان ووٹرز، کرایہ دار، محنت کش خاندان،یہ سب ممدانی کے بیانیے میں خود کو پہچاننے لگے۔یہی وہ مقام تھا جہاں روایت پسند سیاست شکست کھا گئی۔ممدانی کی جیت کی حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ان کی مقبولیت کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ ان کے مخالفین کی کمزوریوں کا بھی عکس تھی۔ ایک ایسی سیاست جو برسوں سے یہی کہتی آ رہی تھی کہ”متبادل ممکن نہیں “، اچانک ایک نوجوان آواز کے سامنے بے وزن ہو گئی۔ ووٹرز نے نظریہ نہیں، امید کو ووٹ دیا۔تاہم، جیت کے بعد کہانی کا دوسرا باب شروع ہوتا ہے اور یہ باب کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
اقتدار سنبھالتے ہی یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انتخابی مہم کے نعرے اور حکمرانی کے فیصلے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ممدانی کو ایک ایسے شہر کی باگ ڈور ملی ہے جو مالی دباؤ، سیاسی تقسیم اور وفاقی و ریاستی طاقت کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ کچھ وعدے وہ اپنے انتظامی اختیارات سے پورے کر سکتے ہیں، مگر بہت سے فیصلے سٹی ہال سے باہر طے ہوں گے۔یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان میئر کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ان کی ٹیکس پالیسی، جس کا مقصد امیروں اور بڑی کارپوریشنز سے زیادہ وصولی ہے، اخلاقی طور پر عوامی حمایت رکھتی ہے، مگر سیاسی طور پر سخت مزاحمت کا سامنا کرے گی۔ ریاستی حکومت کی منظوری، گورنر کی سیاسی ترجیحات اور کاروباری دباؤ—یہ سب عوامل اس راستے کو مشکل بناتے ہیں۔
وفاقی سطح پر بھی حالات آسان نہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ممدانی کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور مستقبل میں امیگریشن، فنڈنگ اور شہری خودمختاری جیسے معاملات پر ٹکراؤ خارج از امکان نہیں۔ ممدانی کا یہ اعلان کہ نیویارک“تارکینِ وطن کا شہر”رہے گا، ان کے نظریے کی وضاحت کرتا ہے مگر یہ اعلان سیاسی قیمت بھی مانگ سکتا ہے۔کاروباری دنیا اب تک مخمصے کا شکار ہے۔ابتدا میں خوف تھا، اب محتاط مکالمہ ہے۔ کچھ حلقے تعاون کے لیے تیار نظر آتے ہیں، مگر خدشات بدستور موجود ہیں: کیا ایک 34 سالہ میئر، جس کا جھکاؤ واضح طور پر ترقی پسند ہے، سرمایہ اور روزگار کو شہر میں رکھ پائے گا؟اور پھر سب سے نازک سوال: عوامی تحفظ۔اعداد و شمار کچھ بھی کہیں، نیویارک میں رہنے والا شہری سب سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا وہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے یا نہیں۔ ممدانی کا زور کمیونٹی سیفٹی، ذہنی صحت اور سماجی خدمات پر ہے ایک ایسا ماڈل جو ہمدردی پر مبنی ہے، مگر جسے عملی نتائج میں ڈھلنا ہوگا۔ نیویارک نظریات کو نہیں، کارکردگی کو مانتا ہے۔
آخرکار، ظہران ممدانی کی جیت ایک علامت ہے۔اس بات کی علامت کہ شہری سیاست میں اب صرف طاقت اور پیسے کی نہیں، بلکہ بیانیے اور سچائی کی بھی جگہ ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر علامت کو خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔یہ نوجوان میئر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر وہ امید کو نظم و ضبط، نظریے کو عمل، اور جیت کو حکمرانی میں بدلنے میں کامیاب ہو گیا تو اس کی کہانی صرف نیویارک تک محدود نہیں رہے گی۔اور اگر وہ اس امتحان میں
فہیم اختر۔لندن