یہ سوال کہ کیا خدا موجود ہے؟ انسانی تاریخ کے قدیم ترین اور بنیادی سوالات میں سے ایک ہے۔ ہر دور میں انسان نے کائنات، اپنی ذات اور زندگی کے مقصد پر غور کرتے ہوئے اس سوال کا سامنا کیا ہے۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے اس سوال کا جواب صرف عقلی یا سائنسی دلائل تک محدود نہیں بلکہ ایمان، وحی، عقل اور مشاہدے کے امتزاج سے سامنے آتا ہے۔اسلام کے مطابق خدا،یعنی اللہ،واحد، ازلی اور ابدی ہے۔ وہی کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے۔ قرآنِ مجید بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے: آسمانوں کی وسعت، زمین کا نظم، دن اور رات کا آنا جانا، اور زندگی کی پیچیدگی سب اس بات کی نشانیاں ہیں کہ یہ کائنات کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک باخبر اور قادر ہستی کی تخلیق ہے۔ اگر ہر چیز کا ایک سبب ہے تو پھر اس عظیم نظام کا سبب خود سبب سے ماورا ہونا چاہیے اور وہی خدا ہے۔
عقلی طور پر دیکھا جائے تو کائنات کا منظم ہونا، قوانینِ فطرت کا مستقل رہنا، اور زندگی کا بامقصد ہونا خدا کے وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر خدا نہ ہو تو اخلاقی اقدار جیسے انصاف، خیر و شر، حق و باطل کی کوئی حتمی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ انسان کا ضمیر، اس کی فطری نیکی کی پہچان، دراصل اللہ کی طرف سے رکھی گئی ہدایت ہے۔اسلامی نقطہ نظر میں وحی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انبیا کرام، بالخصوص حضرت محمد ﷺ، اللہ کے پیغام کو انسانیت تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ قرآن نہ صرف خدا کے وجود کا اعلان کرتا ہے بلکہ انسان کے دل کو مخاطب کرتا ہے۔ بہت سے لوگ دلیل سے زیادہ خدا کو دعا، مصیبت، شکر اور تنہائی کے لمحوں میں محسوس کرتے ہیں۔ یہ باطنی تجربہ بھی ایمان کی ایک مضبوط بنیاد ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ خدا کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا، مگر ہر وہ چیز جو نظر نہیں آتی، غیر موجود نہیں ہوتی۔ عقل، محبت اور شعور بھی نظر نہیں آتے مگر ان کے اثرات واضح ہیں۔ اسی طرح خدا کو اس کی نشانیوں، صفات اور اثرات سے پہچانا جاتا ہے۔
عصرِ حاضر میں کچھ معروف ادبی و فکری شخصیات اپنے بیانات کی وجہ سے مسلسل خبروں اور مباحث کا حصہ بنی رہتی ہیں۔ خاص طور پر جب کوئی شخص اسلام جیسے بڑے اور حساس مذہب پر طنز یا تمسخر آمیز انداز اختیار کرے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیایا یہ تنقید فکری دیانت پر مبنی ہے یا محض شہرت اور مخصوص طبقے کی پذیرائی حاصل کرنے کا ذریعہ۔ایک مسلمان نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تنقید اور سوال اٹھانا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ اسلام خود غور و فکر، سوال اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تنقید علمی بنیادوں کے بجائے تمسخر، عمومی الزامات اور انتخابی مثالوں پر کھڑی ہو۔ جب اسلام کو اس کے ماننے والوں کے اعمال یا سیاسی حالات تک محدود کر کے پیش کیا جائے، تو یہ نہ صرف فکری بددیانتی ہے بلکہ ایک پورے مذہب کو مسخ کرنے کے مترادف بھی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلام پر تنقید، خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں اسلاموفوبیا پہلے سے موجود ہو، باآسانی مقبولیت دلا دیتی ہے۔ بعض دانشور اس فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے بیانات دیتے ہیں جو غیر مسلم سامعین کو خوش کریں، میڈیا میں جگہ بنائیں، اور خود کو ’روشن خیال یا بے باک‘ ثابت کریں۔ اس عمل میں اسلام کو اکثر ایک جامد، پرتشدد یا غیر عقلی مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس کی فکری گہرائی، اخلاقی تعلیمات اور روحانی پہلو کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام پر تنقید کرتے وقت عموماً اسی مذہب کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ دیگر مذاہب کے عقائد اور تاریخ کو اسی سختی سے پرکھنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ مقصد اصلاح یا مکالمہ نہیں بلکہ مخصوص طبقے کی تائید اور واہ واہ سمیٹنا ہے۔
مسلمانوں کے لیے ایسے بیانات یقیناً تکلیف دہ ہوتے ہیں، کیونکہ مذہب صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ شناخت، تاریخ اور ایمان کا حصہ ہوتا ہے۔ تاہم اس کا جواب غصے یا نفرت سے نہیں بلکہ علم، وقار اور اخلاق سے دینا زیادہ مؤثر ہے۔ اسلام اپنی مضبوط فکری بنیاد کی وجہ سے طنز و تمسخر سے کمزور نہیں ہوتا، بلکہ ایسے مواقع مسلمانوں کو اپنے دین کو بہتر انداز میں سمجھنے اور پیش کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ 20دسمبر کو دہلی میں ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں مفتی شمائل ندوی اور ملحد جاوید اختر کے درمیان موضوعِ بحث ’کیا خدا موجود ہے؟‘ رکھا گیا۔ بظاہر یہ پروگرام فکری مکالمے اور سنجیدہ بحث کے عنوان سے پیش کیا گیا، مگر ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ کہنا مشکل نہیں کہ اس نوعیت کے پروگرام اکثر علم میں اضافے کے بجائے وقت کی بربادی اور سوشل میڈیا کی مقبولیت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اسلام کسی سوال یا مکالمے سے نہیں گھبراتا۔ مگر مکالمہ اس وقت بامعنی ہوتا ہے جب دونوں طرف علمی دیانت، سنجیدگی اور سیکھنے کی نیت موجود ہو۔ جب بحث پہلے سے طے شدہ کرداروں، میڈیا اسکرپٹ اور تالیاں سمیٹنے کے لیے کی جائے تو وہ علم نہیں بلکہ تماشا بن جاتی ہے۔ایسے پروگراموں کو فکری فتح یا شکست کے پیمانے پر پرکھنے کے بجائے ان کے حقیقی اثرات پر غور کرنا چاہیے۔ اگر نتیجہ صرف سوشل میڈیا کلپس، طنزیہ جملے اور وقتی مقبولیت ہو، تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ مباحث وقت کی بربادی ہیں۔ خدا کا وجود،اسٹیج پر جیتا یا ہارا نہیں جاتا؛ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ماننے کے لیے دل کی آنکھ درکار ہوتی ہے، نہ کہ کیمرے کی روشنی۔
جاوید اختر اس معاملے میں اپنی لاعلمی یا کم از کم دینی گہرائی سے ناواقفیت کا اظہار ماضی میں خود کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں بار بار ایسے موضوعات پر مدعو کرنا جن کا تعلق الہیات اور ایمان سے ہے، اس بات کی علامت ہے کہ اصل مقصد علمی گفتگو نہیں بلکہ ایک ’دلچسپ تصادم‘ پیدا کرنا ہے۔ اس تناظر میں ان کی حیثیت ایک سنجیدہ فکری مخالف کے بجائے زیادہ تر ایک فنکار یا مزاحیہ کردار کی سی محسوس ہوتی ہے، جس کی باتوں کو سن کر لوگ تالیاں بجاتے ہیں، سوچتے نہیں۔ تاہم پروگرام کے دوران یہ بات بھی قابلِ غور تھی کہ جاوید اختر کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اب یہ خوفِ خدا تھا یا کسی بیماری کی علامت، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ بہرحال، ہم سب کے لیے یہی بہتر ہے کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بلا اور بیماری سے محفوظ رکھے۔
تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جاوید اختر نے ماضی میں دعاؤں کا مذاق اڑایا ہے، جو ایک افسوس ناک بات ہے۔یہ بات سوال و جواب کے دوران بھی دیکھنے کو ملی،جب جاوید اختر نے حسبِ معمول کئی دفعہ سوالات کا مذاق اڑایا۔ ایک سوال کے جواب میں اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کو ماننے سے انکار کیا اور غیر مناسب، غیر سنجیدہ اور بے ربط جواب دیا۔ اس طرزِ عمل سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ انہیں متعلقہ موضوع پر کوئی ٹھوس علم نہیں، بلکہ انہیں محض تماشہ دکھانے اور لوگوں کو تفریح فراہم کرنے میں ہی دلچسپی ہے۔ یہی وہ روش ہے جس کے ذریعے انہوں نے زندگی بھر شہرت اور روزی کمائی ہے، تاہم یہ رویہ ہر ذی شعور انسان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
آخرکار وہ مرحلہ بھی آ پہنچا جب جاوید اختر کو اسٹیج پر تنہا رہ کر بات کرنے کے بجائے ایک سنجیدہ فکری چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ اب تک وہ بلا روک ٹوک اللہ تعالیٰ کے بارے میں اشتعال انگیز گفتگو اور چیلنج کرتے رہے، مگر مفتی شمائل ندوی کے مدلل سوالات اور جوابات نے اس بحث کی سمت بدل دی۔ اس بحث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جاوید اختر نہ صرف دینی علوم سے ناآشنا ہیں بلکہ دنیاوی علم میں بھی ان کی گرفت کمزور دکھائی دی۔ نتیجتاً وہ بحث کے دوران بے ربط دلائل دیتے اور خاصے نروس نظر آئے، جیسے اندر ہی اندر اپنی ہی باتوں پر نادم ہوں۔باتوں کی بے ربطی، لہجے کی لرزش اور چہرے کی گھبراہٹ سب کچھ کہہ رہے تھے کہ جاوید اختر کی اللہ کے خلاف اشتعال انگیزی محض ایک فلمی اسکرپٹ اور ڈائیلگ ہے جو کہ صرف تماش بینوں کا دل بہلاتا اور ہنساتا ہے۔تاہم وہیں مفتی شمائل میں بھی وہ پختگی دکھائی نہیں دی، جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔ ممکن ہے مفتی شمائل پر بھی گھبراہٹ گھیرے ہوئے تھی۔ اور ویسے بھی وہ ابھی کم عمر ہیں اور شاید ان کا مطالعہ بھی اس قدر گہرا نہ ہو۔ تاہم ایک بات نہایت اہم اور قابلِ توجہ یہ تھی کہ پہلی مرتبہ جاوید اختر سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی گئی، جو بلاشبہ دلچسپ بھی تھی اور ضروری بھی۔
مجھے یاد ہے کہ چند ماہ قبل جاوید اختر کی بعض ویڈیوز میری نظر سے گزریں، جن میں انہوں نے کھلے عام اللہ کی شان میں گستاخی کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر میں سخت برہم ہوا۔ اسی دوران جب میں نے کلکتہ کے ایک رہائشی غلام عامر کو اس حوالے سے آگاہ کیا تو انہوں نے فیس بک پر لائیو آ کر جاوید اختر کی انہی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کھل کر اور بھرپور انداز میں مذمت کی۔اس کے بعد گویا ایک سلسلہ چل نکلا۔ کیا عالمِ دین اور کیا عام آدمی، ہر کوئی جاوید اختر پر گفتگو کرنے لگا، مگر افسوسناک پہلو یہ تھا کہ وہیں بہت سارے لوگ سماجی اور سیاسی دباؤ سے مرعوب دکھائی دیے اور خاموشی ہی کو ترجیح دی۔اور یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس سے قبل بھی جاوید اختر کی اس حرکت پر سبھی خاموش تھے۔شیخ غلام عامر نے جس جرأت، وضاحت اور بے باکی کے ساتھ جاوید اختر کے طرزِ فکر اور بیانات کی مخالفت کی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تنقید کا رخ جاوید اختر کے بجائے خود غلام عامر کی طرف مڑ گیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ زیادہ تر مسلمانوں ہی نے شیخ غلام عامر کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف مایوس کن تھا بلکہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں حق بات کہنے والوں کے لیے گنجائش دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے۔جس کا نتیجہ یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ آج ہم دنیا کے کمزور ترین قوم بن کر رہ گئے ہیں۔
خدا کے وجود پر بحث کوئی نئی بات نہیں۔ صدیوں سے فلسفی، مفکرین اور علما اس پر گفتگو کرتے آئے ہیں۔ اسلام میں یہ مسئلہ محض منطقی مشق نہیں بلکہ ایمان، وحی اور قلبی یقین سے جڑا ہوا ہے۔ جب اس جیسے گہرے اور مقدس موضوع کو اسٹیج، کیمروں اور تالیوں کے ماحول میں لا کر پیش کیا جائے، تو مقصد سچ کی تلاش کے بجائے ناظرین کی توجہ، کلپس کے وائرل ہونے اور شخصی شہرت بن جاتا ہے۔قرآنِ مجید ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ہر شخص ہدایت کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، سورۃ ابقرۃ میں اللہ فرماتا ہے کہ ’اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے‘۔ یہ تصور مسلمان کو یہ سمجھاتا ہے کہ ایمان محض دلیل سے نہیں بلکہ دل کی آمادگی سے نصیب ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے مناظرے، جہاں ایک فریق پہلے ہی انکار پر قائم ہو اور دوسرا فریق اسٹیج پر اسے قائل کرنے کی کوشش کرے، اکثر بے نتیجہ رہتے ہیں۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ خدا کا وجود صرف ایک فلسفیانہ سوال نہیں بلکہ زندگی کو معنی دینے والی حقیقت ہے۔ اللہ پر ایمان انسان کو مقصد، امید، اخلاق اور ذمہ داری عطا کرتا ہے۔ اسلام میں خدا پر ایمان اندھی تقلید نہیں بلکہ غور و فکر، سوال اور یقین کا سفر ہے۔ ایک ایسا سفر جو انسان کو اس کے خالق کے قریب لے جاتا ہے۔ مذہب پر تنقید اگر دیانت داری، علم اور احترام کے ساتھ ہو تو مکالمے کو جنم دیتی ہے، مگر جب وہ مذاق اور تضحیک میں بدل جائے تو یہ صرف شہرت کا ذریعہ بنتی ہے، سچ کی تلاش کا نہیں۔ ایک ذمہ دار دانشور سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اختلاف بھی وقار اور انصاف کے ساتھ کرے، نہ کہ کسی مذہب کو نشانہ بنا کر وقتی مقبولیت حاصل کرے جیسا کہ ملحد کا چولا پہنے جاوید اختر کر رہے تھے۔
خیراس بحث سے یہ پہلو بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا کہ ایک طرف مذہبی و فکری نمائندہ مفتی شمائل عالمی سطح پر متعارف ہونے لگے اور مختلف حلقوں میں ان کی شناخت مضبوط ہوئی، جبکہ دوسری جانب معروف فلمی شخصیت جاوید اختر کی شہرت میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس بحث نے سوشل میڈیا، عوامی مباحث اور فکری حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں دونوں شخصیات توجہ کے مرکز میں آ گئیں، اگرچہ وجوہات اور زاویے مختلف تھے۔ ایک کے لیے یہ موقع علمی و فکری پہچان کا ذریعہ بنا، تو دوسرے کے لیے یہ بحث مزید شہرت اور عوامی گفتگو کا سبب ثابت ہوئی۔ یوں یہ بحث محض ایک نشست تک محدود نہ رہی بلکہ اس کے اثرات دور رس ثابت ہوئے اور طویل عرصے تک زیرِ بحث رہنے والے موضوعات نے جنم لیا۔