You are currently viewing اضطراب، انتشار، آزمائش اور نیا سال!

اضطراب، انتشار، آزمائش اور نیا سال!

یوں تو نیا سال ہمیشہ امیدوں، خوابوں اور تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب فرد بھی اور معاشرہ بھی خود سے نئے عہد کرتا ہے، نئے منصوبے بناتا ہے اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہے۔ مگر سچ یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو نئے سال کی آمد پر نہ کوئی خاص جوش محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی کسی بڑے جشن کا اہتمام کرتے ہیں۔

 وہ زندگی کو اس کی پوری تلخی اور سچائی کے ساتھ قبول کرتے ہیں، وقت کے ساتھ چلتے ہیں اور کبھی کبھار محض رسمی مسکراہٹ کے ساتھ نئے سال کو خوش آمدید کہہ دیتے ہیں۔ہم بھی آپ کو نئے سال 2026 کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ نیا سال مبارک ہو۔ہر برس کی طرح اس بار بھی دنیا بھر میں نئے سال کا جشن منایا جا رہا ہے۔ لندن میں دریائے تھیمس کے کنارے آتش بازی کی شاندار نمائش ہوتی ہے، جہاں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ جمع ہوتے ہیں۔ بگ بین کے گرد نوجوانوں کا ہجوم نمایاں رہتا ہے، جو ایک بار پھر امیدوں، خواہشوں اور نئے خوابوں کے ساتھ آنے والے سال کا استقبال کر رہے ہیں۔

لندن میں نئے سال کا جشن اب محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایک عالمی علامت بن چکا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے برصغیر میں چند بڑے تہواروں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی 31 دسمبر کی رات سے یکم جنوری کی صبح تک لندن میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت رہی، جسے شہری انتظامیہ کی جانب سے عوام کے لیے ایک تحفہ سمجھا جاتا ہے۔ جیسے ہی بگ بین نے بارہ بجنے کا اعلان کیا، لندن آئی سے آتش بازی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس لمحے لوگ ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں، پرانی تلخیوں کو بھلانے اور آنے والے سال کو بہتر بنانے کے وعدے کرتے ہیں۔

نئے سال کی تقریبات صرف لندن تک محدود نہیں رہتیں۔ سڈنی، بیجنگ، نیویارک، پیرس اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی بڑے شہروں میں بھی اسی نوعیت کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دوسرے دن عالمی اخبارات میں یہی بحث ہوتی ہے کہ اس بار کس شہر کی آتش بازی سب سے شاندار تھی۔ ان تقریبات پر خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے، جو بالآخر عام شہری ہی مختلف طریقوں سے ادا کرتے ہیں۔2025 میں عالمی سیاست کا ایک اہم پہلو بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت رہی۔ ٹیکنالوجی، تجارت، دفاع اور اثر و رسوخ کی جنگ نے دنیا کو ایک نئی قسم کی سرد کشمکش کی طرف دھکیل دیا۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر مشکل ثابت ہوئی، جہاں ایک طرف معاشی دباؤ بڑھتا گیا اور دوسری طرف سیاسی فیصلے مزید پیچیدہ ہوتے چلے گئے۔

سال 2025 دنیا کے لیے ایک نہایت بھاری اور فیصلہ کن سال ثابت ہوا۔ عالمی سیاست میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوئی۔ مشرقی یورپ میں جنگ کے بادل بدستور منڈلاتے رہے اور سفارتی کوششوں کے باوجود مکمل امن کی کوئی واضح صورت سامنے نہ آ سکی۔ اس تنازعے کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور عام آدمی کی زندگی پر مسلسل پڑتے رہے۔عالمی منظرنامہ بھی 2025 میں کوئی حوصلہ افزا تصویر پیش نہ کر سکا۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مفادات کی جنگ، جاری تنازعات اور جنگی معیشت نے کمزور ممالک پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔ عالمی منڈیوں میں عدم استحکام کا اثر براہِ راست ترقی پذیر معاشروں پر پڑا، جہاں قرض، امداد اور شرائط کے گرد گھومتی پالیسیاں عام آدمی کی زندگی کو مزید محدود کرتی چلی گئیں۔ ایسا محسوس ہوا کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں انسانی فلاح سے زیادہ عددی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید سنگین ہو گئے۔ فلسطین میں انسانی بحران نے ضمیرِ عالم کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا، مگر عالمی ادارے عملی طور پر بے بس دکھائی دیے۔ جنگ بندی کی اپیلیں ہوئیں، اجلاس منعقد ہوئے، بیانات جاری کیے گئے، مگر زمینی حقیقت میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آ سکی۔ اس سارے منظرنامے نے عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔یورپ میں 2025 کے دوران یہ رجحان مزید واضح ہوا کہ عوام کی ایک بڑی تعداد روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو چکی ہے۔ مہنگائی، مہاجرین کے بحران اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے شدت پسند اور دائیں بازو کی سیاست کو تقویت دی، جس کے نتیجے میں یورپی یونین کو اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑی۔ داخلی اختلافات اور خارجی دباؤ نے یورپ کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

جنوبی ایشیا میں بھی سیاسی فضا غیر معمولی طور پر غیر یقینی رہی۔ خطے کے ممالک میں کہیں کمزور اتحادی حکومتیں تو کہیں ادارہ جاتی کشمکش نے سیاسی استحکام کو متاثر کیے رکھا۔ عوامی مسائل اپنی جگہ موجود رہے، مگر اقتدار کی رسہ کشی نے ترقی کے عمل کو سست کر دیا۔ خطے میں سیاسی بے یقینی اور باہمی کشیدگی نے فضا کو مسلسل مکدر رکھا۔ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں داخلی سیاست کی تلخی، سفارتی تناؤ اور باہمی بداعتمادی نے نہ صرف ریاستی فیصلوں کو متاثر کیا بلکہ عوامی زندگی کو بھی بے سکون بنا دیا۔ اقتدار کی کشمکش، احتجاجی سیاست اور غیر یقینی پالیسیوں نے اس پورے سال کو اضطراب کی علامت بنا دیا، جہاں امید بار بار سر اٹھاتی رہی مگر ہر بار کسی نئے بحران کی نذر ہو گئی۔

امریکہ میں 2025 کے سیاسی فیصلوں اور عالمی معاملات میں مداخلت نے دنیا بھر میں بے چینی کو جنم دیا۔ خارجہ پالیسی کے سخت لہجے اور معاشی مفادات کو اولین ترجیح دینے کے رجحان نے عالمی نظام میں عدم توازن کو مزید بڑھایا۔ اس کے اثرات نہ صرف اتحادی ممالک بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی واضح طور پر محسوس کیے گئے۔یوں دیکھا جائے  توانسانیت کو شرمندہ کیا، اور عالمی ادارے اکثر بے اثر دکھائی دیے۔ مگر اس سب کے باوجود انسان اب بھی بہتر کل کی تلاش میں ہے۔معاشی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ اخراجات میں بے تحاشا اضافے نے عام آدمی کے لیے جینا مشکل کر دیا۔ تنخواہیں سکڑتی رہیں اور ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں بڑھتی چلی گئیں، جس سے عوامی اضطراب میں مزید اضافہ ہوا۔ ریاستی وعدے، معاشی اصلاحات کے دعوے اور ترقیاتی منصوبے کاغذوں تک محدود نظر آئے، جبکہ زمینی حقیقت یہ رہی کہ عام انسان مسلسل عدم تحفظ اور ذہنی دباؤ کا شکار رہا۔ 2025 یوں یاد رکھا جائے گا کہ یہ سال سوالات بہت دے گیا، مگر جواب کم، اور سکون شاید سب سے زیادہ نایاب شے بن کر رہ گیا۔

 سماجی سطح پر بھی بے چینی نمایاں رہی۔ عدم برداشت، طبقاتی خلیج اور اظہارِ رائے کی تنگ ہوتی گنجائش نے معاشرتی رشتوں کو کمزور کیا۔ نوجوان مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کا شکار رہے، جبکہ بزرگ طبقہ ماضی کے استحکام کو یاد کر کے حال پر افسوس کرتا دکھائی دیا۔ تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی شعبے مسلسل نظرانداز ہوتے رہے، جس نے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کو مزید گہرا کیا۔معاشی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ اخراجات میں بے تحاشا اضافے نے عام آدمی کے لیے جینا مشکل کر دیا۔ تنخواہیں سکڑتی رہیں اور ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں بڑھتی چلی گئیں، جس سے عوامی اضطراب میں مزید اضافہ ہوا۔ ریاستی وعدے، معاشی اصلاحات کے دعوے اور ترقیاتی منصوبے کاغذوں تک محدود نظر آئے، جبکہ زمینی حقیقت یہ رہی کہ عام انسان مسلسل عدم تحفظ اور ذہنی دباؤ کا شکار رہا۔ 2025 یوں یاد رکھا جائے گا کہ یہ سال سوالات بہت دے گیا، مگر جواب کم، اور سکون شاید سب سے زیادہ نایاب شے بن کر رہ گیا۔

ایسے میں نیا سال کسی تازہ امید کے بجائے ایک کڑی آزمائش بن کر سامنے آیا۔ سوال یہ نہیں کہ مشکلات کیوں بڑھیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان سے نکلنے کی سنجیدہ کوشش کہاں ہے۔ 2025 نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ اگر پالیسیاں انسان کو مرکز میں رکھ کر نہ بنائی جائیں تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے رہ جاتے ہیں، اور عام آدمی ہر سال کی طرح اس سال بھی بوجھ اٹھانے والا کردار بن کر رہ جاتا ہے۔میں نے پچھلے کئی برسوں کی طرح 2025 کو بھی ایک مشکل، بھاری اور فکری طور پر تھکا دینے والا سال پایا۔ شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ دنیا میں ایسے فیصلے زیادہ ہو رہے ہیں جو امن کے بجائے طاقت کو ترجیح دیتے ہیں۔ پھر بھی دل کسی کونے میں یہ امید رکھتا ہے کہ ایک دن عقل، انصاف اور انسانیت کو غلبہ حاصل ہوگا۔

ان تمام حالات کے باوجود، سال 2026 صرف اندیشوں کا نہیں بلکہ امکانات کا سال بھی ہے۔دنیا،منصفانہ اور پرامن نظام کی خواہاں نظر آتی ہے۔ اگرچہ مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مگر امید کی شمع ابھی بجھی نہیں۔نئے سال کی آمد محض تاریخ کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک خاموش سوال بھی ہے کہ ہم نے اضطراب، انتشار اور آزمائشوں سے کیا سیکھا؟ اگر گزرے دنوں نے ہمیں تھکایا ہے تو اسی تھکن میں برداشت کی وہ طاقت بھی پوشیدہ ہے جو ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے امید کا دامن کبھی مکمل طور پر نہیں چھوڑا۔ نیا سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم ماضی کے زخموں کو شعور میں بدلیں، خوف کو ذمہ داری سے دیکھیں اور انتشار کے بیچ انسانیت، انصاف اور باہمی احترام کو ترجیح دیں۔ شاید یہی رویہ ہمیں ایک بہتر کل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

تحریر : فہیم اختر

Leave a Reply