’ شیشے کے گھروں میں رہنے والے پتھر نہیں پھینکتے‘۔ یہ محاورہ نہ صرف زبانِ اردو کا خوبصورت حصہ ہے بلکہ انسانی رویوں اور اخلاقیات کے بارے میں گہری دانش بھی رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جوخود کمزور یا خامیوں والے ہوں، انہیں دوسروں پر تنقید یا الزام تراشی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کوئی شخص خود غلطیوں سے آگاہ نہیں، تو اسے دوسروں کی غلطیوں کو اچھالنے کا کوئی حق نہیں۔
شیشے کا گھر ایک علامت ہے نازک مزاجی، کمزوری اور شفافیت کی۔ جیسے شیشہ ذرا سی ضرب سے ٹوٹ جاتا ہے، ویسے ہی وہ لوگ جو خود کسی نہ کسی لحاظ سے کمزور ہوں، دوسروں پر تنقید کے پتھر برسانے سے اپنے ہی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی کامل نہیں، ہر انسان سے غلطیاں سر زد ہوتی ہیں۔ اس لیے دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے ہمیں اپنے دامن میں جھانکنا چاہیے۔ یہ محاورہ ہمیں بردباری، برداشت اور خود احتسابی کا سبق دیتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کی نا کامیوں کو نظر انداز کر کے ان کی خوبیوں کو سراہیں، تو معاشرہ زیادہ پر امن اور خوشگوار بن سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں لوگ دوسروں کی کوتاہیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، جبکہ اپنی غلطیوں کو چھپانے میں ماہر ہیں۔ یہی رویہ اختلافات، نفرت اور بد گمانیوں کو جنم دیتا ہے۔
انسانی رویوں میں سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ دوسروں کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے مگر اپنی لغزشوں کو فراموش کر دیتا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ایسا ہی منظر سامنے آیا جہاں چند افرادکچھ ذمہ دار شخص پر تنقید کے تیر برسا رہے تھے، حالانکہ ان کے اپنے دامن بھی پاکیزہ نہ تھے۔ وہ خود ماضی میں مختلف الزامات کی زد میں رہ چکے ہیں۔ چند سال قبل ایک معزز اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر نے ایک سرکاری ادارے میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے اس بنا پر استعفیٰ دے دیا کہ ان پر ایک اہم فائل غائب کرنے کا الزام تھا، جس میں لاکھوں روپے کے گھپلے کی تفصیلات درج تھیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وہی ایسو سی ایٹ پروفیسر دوبارہ منظر عام پر آچکا ہے اور چند نا سمجھ افراد کو اپنے گرد جمع کر کے اُن لوگوں سے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات اُن لوگوں پر لگوارہا ہے جو اس کی سابقہ بے ضمیری اور گناہوں سے واقف ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر سال دوسروں پر الزام لگانے والوں کا دن ہوتا ہے؟ چونکئے مت، آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ یہ سال کے پہلے جمعہ کو آتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا امریکہ میں ہوئی، جب ایک خاتون جس کا نام این مویل تھا اور اس کا الارم کلاک، بند نہیں ہوا، جس کی وجہ سے اس کا دن آفت کا تھا اوراس نے دوسروں پر الزام لگایا۔ اگر چہ اسے تھوڑا سا مذاق بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ یعنی الزام تراشی تو تھی مگر بے معنی تھی۔کچھ لوگ روز مرہ کسی دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ جو کہ یہ کسی کے لیے مذاق نہیں ہے اوریہ ایک زہریلا سلوک ہے۔ الزام لگانے والے کے لیے جھوٹا الزام لگانا اور اس سے دور رہنا مبہم، بدنما اور بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور الزام لگانے والے کو طویل مدت میں کوئی راحت نہیں ملتی۔
یہ بھی مانا جاتا ہے کہ خراب مزاج اکثر دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی وجہ بنتا ہے۔ لیکن اکثر دوسروں پر الزام لگانا ہمارے اندر بُرے احساسات کا باعث بنتا ہے۔ جتنا ہم دوسروں پر الزام لگاتے ہیں، اتنا ہی برا محسوس کرتے ہیں۔بشرطیکہ کہ آپ کو اس بات کا ملال ہو کہ آپ نے کسی کہ بہکاوے یا کسی کو پریشان کرنے کے لیے ایسی حرکت کی۔ ڈاکٹر لنڈا برمن نے اپنی کتاب ” سوچنے کے طریقے” میں لکھا ہے کہ ” الزام تراشی کے بارے میں حقیقت یہ ہے کہ کیا یہ ذمہ داری آپ کی نہیں ہے”؟ انہوں نے الزام تراشی پر ریسرچ کرتے ہوئے کئی ایسی باتوں کا انکشاف کیا ہے جس سے ہم اور آپ واقف ہی نہیں ہیں۔ اور آئے دن ہم ایک دوسرے پر الزام لگا کر اپنا دامن جھاڑ لیتے ہیں۔
معروف انگریزی ادیب، لیو ٹالسٹائی کہتے ہیں کہ” خراب موڈ اکثر دوسروں پر الزام لگانے کی وجہ بنتا ہے۔ لیکن اکثر دوسروں پر الزام لگانے سے ہم میں برے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ جتنا ہم دوسروں پر الزام لگاتے ہیں، اتنا ہی برا محسوس کرتے ہیں “۔ جب ہم دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں تو آخر کیوں برا محسوس کرتے ہیں؟ ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ الزام تراشی پر اچھا ردعمل ظاہر نہیں کرتے اور ہم خود ہی غیر مقبول ہو جائیں گے۔ الزام تراشی ہمارے رشتوں کو خراب کر دیتی ہے۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ اگر ہم دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں تو ہمیں کبھی اپنے آپ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ہمیں بدلنے کی ضرورت ہے۔ صرف وہ شخص جس کی مدد نہیں کی جاسکتی وہ ہے جو دوسروں پر الزام لگاتا ہے۔
ہم اکثر اپنی غلط فہمی کی ذمہ داری دوسروں پر عائد کرتے ہیں۔ اس میں عام طور پر لوگوں کا ایک گروہ شامل ہوتا ہے جو الزام تراشی کو ہوا دیتا ہے۔ جو مظلوم کی پریشانیوں اور مایوسی کو دیکھ کر خوشیاں مناتا ہے۔ہم اکثر لوگوں سے سنتے ہیں کہ جب آپ ایک انگلی سے اشارہ کرتے ہیں تو تین انگلیاں آپ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ جب ہم دوسروں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں،، ہمیں پریشان کر رہے ہیں یا ہمیں ناکام یا بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم اپنی کمزوریوں سے بچ رہے ہوتے ہیں۔ مختصر مدت میں دوسروں پر بے جا الزام لگانا آسان طریقہ ہے۔ تاہم طویل مدت میں دوسروں پر الزام تراشی کا عمل اکثر الٹا اثر کرتا ہے اور ہمارے حل نہ ہونے والے مسائل ہمیں پریشان کرنے لگتے ہیں۔ جو کہ ایک افسوس ناک بات ہے۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی کسی کو پسند نہیں کرتا یا اس کی ترقی سے اسے پریشانی ہوتی ہے تو ایسے لوگ خوامخواہ دوسرے انسان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو معاملہ اتنا سنگین ہوجاتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان سے اس قدر حسد کرتا ہے کہ وہ اس کی جان لینے کے لئے تمام حدود کوپار کر جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی طاقت اور دولت کے گھمنڈ میں ایسی حرکت کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ تاہم ایسے لوگوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے کیونکہ جب ان کی طاقت کمزور ہونے لگتی ہے تو وہ اپنے حرکتوں پر پچھتاوا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ حسد کرنے والوں کو اپنے خاندان، رشتے دار، محلّے والے، دوستوں اور دفاتر میں بہت عام پاتے ہیں۔ دراصل ایسے لوگوں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ کسی طرح سے اپنے ناپسندیدہ شخص کو جانی یا مالی نقصان پہنچائے۔ لیکن ان ہی لوگوں میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو نہ کہ حسد کرنے والوں کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھی وہ انہیں معاف بھی کر دیتے ہیں۔
الزام تراشی ہمارے سماج میں زہر بن کر کتنی زندگیاں برباد کر رہی ہے۔ دوسرے پر الزام لگانا نقصان دہ ہے اور اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ دوسروں میں دفاعی اور برے جذبات پیدا کرتا ہے، تنازعات اور غلط فہمیوں کو بڑھاتا ہے۔ یہ زندگی کو بھی مشکل بنا دیتا ہے۔ اس لیے جو شیشے کے گھروں میں رہتے ہیں، وہ پتھر نہیں پھینکتے۔ یہ محض ایک کہاوت نہیں، بلکہ زندگی کا ایک اصول ہے۔ اگر ہم اسے سمجھ لیں تو معاشرہ بہت سے جھگڑوں، بد گمانیوں اور انتقامی رویوں سے پاک ہوسکتا ہے۔
انسان کی اصل عظمت دوسروں کو گرانے میں نہیں، بلکہ خود کو سنوارنے میں ہے۔ لہذاضروری ہے کہ ہم دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنے ضمیر کے آئینے میں جھانکیں، کیونکہ جو شیشے کے گھروں میں رہتے ہیں، اُنہیں پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں۔