You are currently viewing ورونا وبا:برطانیہ میں انکوائری رپورٹ

ورونا وبا:برطانیہ میں انکوائری رپورٹ

دنیا کے مختلف معاشروں میں انصاف کے پیمانے اور احتساب کے طریقے ان کی تہذیبی قدروں اور سیاسی روایات کا آئینہ ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں مدتوں سے ایک روایت چلی آرہی ہے کہ جب کسی بڑے سانحے، پالیسی کی ناکامی یا حکومت یا انتظامیہ کی کوتاہی پر سوال اٹھے، تو عوام کی طرف سے پبلک انکوائری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

یہ مطالبہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا عمل سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے حقیقت کی تہہ تک پہنچ کر مستقبل کے لیے رہنما اصول مرتب کیے جائیں۔برطانیہ کی پبلک انکوائریوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ کسی کو الزام کی بھٹی میں جھونکنے پر کم اور اصلاحی سفارشات مرتب کرنے پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ مقصد سزا دینا نہیں، سیکھنا ہوتا ہے۔ راستہ بدلنا ہوتا ہے، راستے میں کھڑے فرد کو گرانا نہیں۔ چنانچہ نتائج میں تفصیلی تجزیہ، ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی، اور آئندہ کے لیے مضبوط سفارشات شامل ہوتی ہیں، جو پالیسی سازی میں حقیقی تبدیلی کا سبب بنتی ہیں۔

اس کے برعکس برصغیر میں پبلک انکوائری کا تصور اکثر سیاسی فضا کی دھول میں گُم ہو جاتا ہے۔ یہاں انکوائری کا مطالبہ تو ضرور کیا جاتا ہے، مگر اس کا مقصد اکثر سیاسی فائدہ اٹھانا، مخالفین کو دباؤ میں لانا یا وقت گزارنا بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ تو کوئی فرد باقاعدہ طور پر قصوروار ٹھہرتا ہے، نہ کوئی سزا سامنے آتی ہے۔ اور نہ ہی اصلاحاتی سفارشات عوام تک پہنچتی ہیں۔ یوں انکوائری ایک کارروائی سے زیادہ ایک روایت بن کر رہ جاتی ہے—ایسی روایت جس میں شفافیت کم اور سیاسی مصلحت زیادہ ہوتی ہے۔یہ فرق محض طریقہ کار کا نہیں بلکہ نظریے کا ہے۔ برطانیہ میں پبلک انکوائری عوام کا حق اور اداروں کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، جبکہ برصغیر میں یہی عمل اکثر طاقت کے کھیل کا حصہ بن جاتا ہے۔ انصاف وہاں مضبوط اداروں کا ثمر ہے، اور یہاں کمزور نظام کا بوجھ۔اگر برصغیر اپنے معاشروں میں حقیقی تبدیلی اور اعتماد پیدا کرنا چاہتا ہے، تو اسے پبلک انکوائری کو سیاست کے شکنجے سے آزاد کر کے اسے عوامی حق اور اجتماعی اصلاح کا ذریعہ بنانا ہو گا۔ تبھی کوئی سانحہ محض خبر نہیں بلکہ سبق بنے گا۔

کورونا وبا کی انکوائری رپورٹ نے آخر وہ سب کچھ لکھ دیا جو عام شہری برسوں سے محسوس کر رہے تھے۔ برطانیہ، جس کی صحت عامہ کی تاریخ اور سائنسی قوت پر دنیا اعتماد کرتی ہے، وبا کے سب سے مشکل وقت میں بدترین فیصلہ سازی اور کمزور قیادت کا شکار رہا۔ یہ رپورٹ صرف ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہزاروں جانیں اس لئے ضائع ہوئیں کیونکہ حکومت وقت نے ذمہ داری نبھانے میں تاخیر اور غفلت سے کام لیا۔سب سے پہلے یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ برطانیہ ایک نئی وبا کے لیے تیار تھا ہی نہیں۔ حکومتی منصوبہ بندی ایک عام فلو وبا کے ماڈل پر قائم تھی، گویا یہ آنے والی حقیقت نہیں بلکہ پرانے نصاب کی مشق تھی۔ سائنس دانوں اور ماہرین کی وارننگز پر دیر سے توجہ دی گئی، اور جب حکومت کو خطرے کا احساس ہوا تب تک وائرس اپنے پھیلاؤ کی رفتار سے کئی قدم آگے نکل چکا تھا۔

مارچ 2020 کا مہینہ، جسے رپورٹ نے ’گمشدہ مہینہ‘کہا، درحقیقت قیادت کی گمشدہ سمت کا آئینہ ہے۔ لاک ڈاؤن پر تاخیر، غیر سنجیدہ گفتگو، اور بدلتے ہوئے بیانیے نے ایک خطرناک پیغام دیا: حکومت خود بھی نہیں جانتی کہ اسے کیا کرنا ہے۔ یہ محض سیاسی ناکامی نہیں بلکہ انسانی جانوں کا المیہ تھا۔ اگر صرف ایک ہفتہ پہلے فیصلہ کر لیا جاتا تو ہزاروں خاندان آج کم از کم سوگ سے محفوظ ہوتے۔رپورٹ میں وزیراعظم آفس کے ’توکسک‘ماحول کا ذکر بھی اہم ہے۔ پالیسی سازی میں ذاتی کشمکش، سخت لہجے، اور ناقابلِ قبول اندرونی رویوں کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ بحران کے وقت قیادت کا کردار انتشار میں تبدیل ہو چکا تھا۔ جب حکومتی ایوان خود اختلافات اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کا مرکز بن جائے تو عام شہریوں سے نظم و ضبط کی توقع ہی کیا کی جا سکتی ہے؟عوامی ہدایات کی بے ترتیبی بھی اس تباہی کا حصہ ہے۔ کبھی گھر میں رہیں، کبھی باہر جائیں اور کھانا کھائیں، کبھی قوانین، کبھی مشورے۔حکومت کی مسلسل بدلتی ہدایات نے لوگوں میں بے یقینی پیدا کی۔ اسی کنفیوژن نے ایسے فیصلے پیدا کیے جو بیماری کو قابو کرنے کے بجائے اسے مزید پھیلنے کے مواقع دیتے رہے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ رپورٹ نے کمزور اور خطرے کا شکار گروہوں کو نظرانداز کرنے کو اجاگر کیا ہے۔ اقلیتی کمیونٹیز، معذور افراد اور صحت کے مسائل رکھنے والے شہری اُس وقت سب سے زیادہ مدد کے محتاج تھے، مگر ریاستی نظام انہی طبقات تک موثر طریقے سے پہنچنے میں ناکام رہا۔ مساوات کے محکمے جب بحران میں بھی دوسری ترجیحات پر لگا دیے جائیں تو یہ کمزور حلقوں کے ساتھ ناانصافی کی بدترین مثال ہوتی ہے۔انکوائری رپورٹ نے نہ صرف ماضی کی فہرستِ غلطیاں آشکار کی ہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح پیغام دیا ہے: شفافیت، بروقت فیصلہ سازی اور ماہرین کی رائے اعتماد کی بنیاد ہے۔ اگر حکومتیں وبا کو سیاسی کھیل سمجھیں تو نقصان ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے۔اس ملک کو اب محض افسوس نہیں، بلکہ ٹھوس اور ایماندارانہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر آنے والی قیادت اس رپورٹ سے حقیقی سبق نہیں لے گی تو اگلی وبا میں کہانی شاید پھر وہی ہوگی۔صرف تاریخ کے صفحات بدلیں گے، انسانی دکھ نہیں۔

آپ کو تو یاد ہی ہوگا کہ کورونا وبا (کووِڈ-19) نے 2020 میں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیاتھا۔ برطانیہ، ایک ترقی یافتہ ملک ہونے کے باوجود، اس بحران کے دوران انتظامی، طبی اور سیاسی چیلنجز کا شکار رہا۔ اب، یو کے کی سرکاری انکوائری رپورٹ نے یہ واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی درستیاں ناکافی تھیں اور کئی فیصلے وقت پر نہ لیے جانے یا تاخیر کی وجہ سے ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔برطانیہ کی کووِڈ-19 پبلک انکوائری کی اس لیے شروعات کی گئی تاکہ وبا کے دوران کیے گئے اقدامات اور فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ رپورٹ کے مختلف ماڈیولز ہیں جن میں تیاری، انتظام، فیصلہ سازی اور عوامی پیغام رسانی کی جانچ کی گئی ہے۔ ماڈیول  خاص طور پر تیاری اور پیشگی حکمتِ عملی پر مرکوز ہے۔ انکوائری رپورٹ نے سب سے پہلی بات یہ اٹھائی کہ برطانیہ ’غلط نوعیت کی وبا‘کے لیے تیار تھا؟ حوالہ طور پر، وبا کی تیاری اس انداز میں کی گئی تھی جیسے یہ کوئی فلو وبا ہو، جبکہ کووِڈ-19 حقیقی معنوں میں ایک نئے اور تیزی سے پھیلنے والا وائرس تھا۔ اسی طرح، رپورٹ کہتی ہے کہ سرکاری منصوبہ بندی پرانے اور پیچیدہ تھی، اور وبا کے ماڈل کو اپ گریڈ کرنے یا اس کے امکانات کے مطابق لچکدار بنانے میں ناکام رہی۔ ایک اور بڑا مسئلہ یہ تھا کہ برطانیہ میں ٹیسٹ، ٹریس اور آئسولیٹ (جانچ، ٹریس اور علیحدگی) کا نظام وبا شروع ہونے پر موثر طریقے سے کام نہ کر سکا۔

انکوائری رپورٹ میں سب سے سنگین تنقید فیصلہ سازی کے عمل پر ہے۔ برطانیہ کی حکومت، خاص طور پر اُس وقت کے وزیراعظم بورس جانسن کی قیادت میں، وبا کے ابتدائی مرحلے میں کافی تیز اور ٹھوس ایکشن نہ لے سکی۔ رپورٹ نے مارچ 2020 کی ایک “لاسٹ منتھ”، یعنی گمشدہ مہینہ کی نشاندہی کی ہے، جب حکومت وبا کی شدت کو بروقت تسلیم کرنے اور  انسدادی اقدامات پر عمل کرنے میں ناکام رہی۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن ایک ہفتہ پہلے نافذ کیا جاتا، تو تقریباً 23000 زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔ مزید برآں، رپورٹ برطانیہ کی مرکزی حکومت (نمبر ٹین،ڈاؤننگ اسٹریٹ) کی ثقافت کو”ٹوکسِک اور کا اوٹک “قرار دیتی ہے، جہاں فیصلہ سازی نہ صرف غیر منظم تھی بلکہ مشیروں کے درمیان داخلی تنازع اور غلط رویہ عام تھا۔ خصوصاً مشاورتی حلقے کے اہم رکن کا کردار رپورٹ میں تنقید کی زد میں ہے۔ ان کی جانب سے استعمال کیا گیا زبانی انداز، اور ان کی حکومتی ماحول میں مداخلت کو رپورٹ نے  زہریلاقرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وزارت صحت اور حکومت کی جانب سے عوام کو دی جانے والی ہدایات غیر واضح اور اکثر متضاد تھیں۔ پیغامات میں بدلتے قوانین اور مشوروں نے عوام میں الجھن پیدا کی، اور لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ کون سی ہدایات قانونی پابندیاں ہیں اور کون سی محض مشورے۔ مزید برآں، رپورٹ نے خصوصی طور پر “ایٹ آؤٹ ٹو ہیلپ آؤٹ”،اسکیم کی مذمت کی ہے، جو حکومت نے ریستورانوں کو عوامی آمدورفت بڑھانے کے لیے پیش کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اس اسکیم نے غلط اشارے دیے کہ حالات معمول پر واپس آ گئے ہیں، اور اس نے عوام میں وبا کی شدت کو کم کرکے پیش کرنے کا خطرہ بڑھایا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت وبا کے حوالے سے کمزور اور خصوصاً خطرے سے دوچار طبقات،مثلاً معذور افراد اور اقلیتی نسلی گروپ کو مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ مثال کے طور پر، رپورٹ کہتی ہے کہ ڈاؤن سنڈروم والے افراد کو ’شیلڈڈ پیشنٹ‘ لسٹ میں شامل کرنے میں تاخیر ہوئی، جو ان کی بڑھتی ہوئی بیماری کی نوعیت کے پیش نظر خطرناک ثابت ہوئی۔ علاوہ ازیں، مساوات کے معاملات پر کام کرنے والی سرکاری یونٹس، وبا کے دوران اپنے مرکزی کاموں سے ہٹا دیے گئے، جس نے خطرے میں زیادہ رہنے والے گروپس کی آواز کمزور کردی۔

انکوائری رپورٹ برطانیہ کی حکومت کی جانب سے وبا کے دوران کیے گئے انتظامی اور فیصلہ سازی کے عمل پر سخت تنقید کرتی ہے۔ اس تبدیلی کی بنا پر متعدد سفارشات پیش کی گئی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی ہی کسی وبا سے نمٹنے میں بہتر تیاری کی جا سکے:وبا کی حکمتِ عملی کو معمولی فلو جیسی وباؤں کے بجائے زیادہ خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والے جراثیمی خطرات کے تناظر میں تیار کرنا چاہیے۔فیصلہ سازی میں مرکزی واحدٹاسک فورس قائم کی جانی چاہیے تاکہ بحران کے وقت جلد اور مربوط اقدامات لیے جا سکیں۔وبائی پیغامات میں وضاحت اور یکسانیت ہونی چاہیے،عوام کو یہ واضح بتایا جائے کہ کون سی ہدایات قانونی پابند ہیں اور کون سے مشورے اہم ہیں۔سائنسدانوں اور ماہرین کی مشاورت کو سنبھالا جائے اور انہیں سیاسی دباؤ یا سیاسی ماحول کے بدلتے رجحانات سے کم متاثر ہونے دیں۔کمزور اور خطرے میں رہنے والی آبادیوں (مثلاً معذورین، اقلیتی نسلی گروپ) کو وبا کے دوران خصوصی تحفظ اور ترجیحی مدد فراہم کی جائے حکومتی اداروں کی جوابدہی اور شفافیت کو بڑھایا جائے، تاکہ مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی اور عوامی اعتماد قائم رکھا جا سکے۔

Leave a Reply