Fahim Akhter

You are currently viewing لندن کا مئیرسر صادق خان اور اسلامو فوبک ڈونلڈ ٹرمپ

لندن کا مئیرسر صادق خان اور اسلامو فوبک ڈونلڈ ٹرمپ

سر صادق خان لندن کے موجودہ مئیر ہیں اور سیاست، شہرت، سماجی انصاف اور ماحولیات کے میدان میں ایک فعال کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ سرصادق خان پاکستان سے برطانیہ آنے والے والدین کے یہاں پیدا ہوئے اور ایک عام خاندان میں پرورش پائی۔جس نے ان کی شخصیت اور وژن پر گہرا اثر چھوڑا۔

حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب لندن آئے تھے تو انہیں عام لوگوں کے احتجاج سے دور رکھنے کے لیے ان کے بیشتر پروگرام کو خاص بنا کر مکمل کیا گیا۔ تاہم مجھے لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انگلینڈ کے دورے سے خوش نہیں تھے اور جس کا نتیجہ یہ دیکھنے کو آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ لندن کا ایک خوفناک، خوفناک مئیر ہے جس نے لندن میں شریعت قانون نافذ کر دیا ہے‘۔ جس کے جواب میں سر صادق خان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں ظاہر کیا ہے کہ وہ ’نسل پرست، جنس پرست، بد انتظامی اور اسلامک فوبک ‘ہیں۔ سر صادق خان نے یہ بھی کہا کہ’ لوگ حیران ہیں کہ ٹرمپ نے اس مسلمان مئیر کے بارے میں کہا ہے جو ایک لبرل، کثیرثقافتی، ترقی پسند اور کامیاب شہر کی قیادت کر تا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دماغ کے اندر کرائے کے بغیر زندگی گزار رہا ہوں‘۔انہوں نے مزید کہا ’ میرے خیال میں صدر ٹرمپ نے ظاہر کیا ہے کہ وہ نسل پرست ہیں، وہ جنس پرست ہیں، وہ بد سلوکی پر مبنی ہیں اور وہ اسلامو فوبک ہیں‘۔

سر صادق خان نے ٹرمپ کی باتوں پر بیان دیتے ہوئے مزید کہا کہ جب لوگ باتیں کہتے ہیں، جب لوگ ایک خاص طریقے سے کام کرتے ہیں۔ جب لوگ ایک خاص طریقے سے برتاؤ کرتے ہیں، تو آپ کو ان پر یقین کرنا پڑے گا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ’ شکر ہیں کہ ہمارے پاس ریکارڈ تعداد میں امریکی لندن آرہے ہیں‘۔ اس کے علاوہ مختلف معیارات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثقافت کے حوالے سے لندن اکثر دنیا کا نمبر ایک شہر ہوتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے سر صادق خان کو نشانہ بنایاہو۔ 2019میں انہوں نے لندن کے مئیر کو، جو 2024 میں تیسری مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہوئے، سر صادق خان کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ ماضی میں ٹرمپ نے سر صادق خان کو آئی کیو ٹیسٹ کا چیلنج دیا تھا اور 2017میں لندن برج حملے پر ان کے رد عمل پر تنقید کی تھی۔اسکاٹ لینڈ کے دورے کے دوران ٹرمپ نے سر صادق خان کو ’ ایک گندا شخص کہا، جس نے خوفناک کام کیا‘۔ان باتوں کے علاوہ لندن کے میئر سرصادق خان نے یہ کہہ کر سبھی کو حیران کر دیا کہ’جب امریکی صدر لندن آئے گے تو وہ ان سے ضرور ملاقات کریں گے‘۔

صادق خان نے یہ بھی کہا کہ’وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ لندن میں بسے ہرعقیدے کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں،اس کے ساتھ جشن مناتے ہیں اوراسے گلے لگاتے ہیں‘۔ ظاہر سی بات ہے کہ صادق خان کے اس بیان سے لوگوں کو جہاں حیرانی ہوئی تو وہیں انہیں سر صادق خان کے اخلاقی جرات سے خوشی بھی ہوئی ہے۔ دراصل سرصادق خان جب سے لندن کے مئیر منتخب ہوئے ہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ٹویٹ کے ذریعہ ان کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ جس سے ایک بات تو صاف طور پر پتہ چلتی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو شاید لندن کا ایک مسلم مئیر ہضم نہیں ہورہا ہے۔ ورنہ سر صادق خان میں ایسی کون سی خرابی ہے جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل ان کے خلاف طنزیہ اور مضحکہ خیز ٹویٹ اور بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔

لندن برِج اور بورو مارکیٹ کے حملے کے بعد سرصادق خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ’لندن کے لوگوں کو ان بزدلانہ حملوں سے خوف نہیں کھانا چاہئے بلکہ وہ اپنی معمول زندگی کو جاری رکھیں۔ اس کے علاوہ راستوں میں پولیس کی موجودگی سے انہیں گھبرانا نہیں چاہئے‘۔جس سے بوکھلا کر ڈونالڈ ٹرمپ نے فوراً اس کے جواب میں ٹویٹ کیا کہ ’سرصادق خان کا بیان ایک شدید ناکامی والا بیان ہے جسے انہیں اس کی وضاحت کرنی چاہئے‘۔ دسمبر 2015میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کیلیفورنیا میں چلی گولی کے بعد کہا تھا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگا دینی چاہئے۔ 2016میں جب صادق خان لندن کے مئیر منتخب ہوئے تو ڈونالڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ’کیا وہ صادق خان کو امریکہ آنے پر پابندی لگائے گے‘۔تو انہوں نے جواب دیا کہ ’پابندی میں رعایت کی گنجائش ہو سکتی ہے‘۔ لیکن مئیرسر صادق خان نے ٹرمپ کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں رعایت کی صورت میں امریکہ نہیں جاؤں گا۔یہ بات صرف میرے لئے نہیں بلکہ میرے دوست، رشتے دار اور دنیا کے تمام لوگوں کے لئے اہم ہے‘۔

شروع  میں سرصادق خان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جارحانہ باتوں کو سرے سے خارج کیا تھا۔ اس کے علاوہ سر صادق خان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا تھا کہ وہ ٹویٹ کے ذریعہ ان فضول باتوں میں الجھنا نہیں چاہتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ کو امریکہ سے اپنی دوستی کو قائم رکھنی چاہئے۔سر صادق خان تیسری بار لندن کے مئیر بنے ہیں اور لندن مئیر کے الیکشن میں انہیں نمایاں کامیابی ملی تھی۔ 13لاکھ سے زیادہ لندن والوں نے سر صادق خان کو ووٹ دیا تھا۔ سر صادق خان کی اس جیت کو ایک تاریخی جیت بتایا گیا تھا۔ کیونکہ اس سے قبل لندن کا کوئی بھی مئیر اتنی تعداد میں ووٹ نہیں پایا تھا۔ اس کے علاوہ سر صادق خان سب سے پہلے مسلم اور ایشیائی لندن مئیر بھی ہیں جو ہر طور سے کافی مقبول اور کامیاب ہیں۔

لندن مئیر منتخب ہونے کے بعد بھی سرصادق خان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ایک سال قبل یو گو پول کے مطابق 58% لندن کے لوگ سرصادق خان کے کام سے خوش ہیں۔ زیادہ تر لندن کے لوگ سرصادق خان کو ’صادق‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے لوگ سابق مئیر کین اور بورس کو ان کے نام سے جانتے تھے۔لندن کے مئیر سرصادق خان کے خلاف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹویٹ نے جہاں سر صادق خان کو وقتی طور پر پریشان کیا تو وہیں سرصادق خان نے اپنے اعلیٰ ظرف اور اخلاق سے مدلل جواب دیئے۔سر صادق خان نے اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ کے ٹویٹ کا جواب ہمیشہ سلیقے اور سمجھداری سے دیا ہے۔اس کے علاوہ ٹی وی شو میں لندن کے مئیر نے ایک قدم آگے بڑھ کر اپنے اخلاق کا ایسا مظاہرہ  کیا ہے کہ امریکی صدر اس کا جواب ٹویٹ کے ذریعہ دینا ہی بھول گئے۔ظاہر سی بات ہے کہ ٹرمپ اس بات سے شاید حیران ہیں کہ جس آدمی کو وہ اپنے ٹویٹ کے ذریعے ہراساں کر رہے تھے اس نے کیونکر اس کا جواب اپنے اخلاقی مظاہرے سے کیا ہے۔

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی کسی کو پسند نہیں کرتا ہے یا اس کی ترقی سے اسے پریشانی ہوتی ہے تو ایسے لوگ خوامخواہ دوسرے انسان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو معاملہ اتنا سنگین ہوجاتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان سے اس قدر حسد کرتا ہے کہ وہ اس کی جان لینے کے لئے تمام حدود کوپار کر جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی طاقت اور دولت کی گھمنڈ میں چور ایسی حرکت کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ تاہم ایسے لوگوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے کیونکہ جب ان کی طاقت کمزور ہونے لگتی ہے تو وہ اپنے حرکتوں پر پچھتاوا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ حسد کرنے والوں کو اپنے خاندان، رشتے دار، محلّے والے، دوستوں اور دفاتر میں بہت عام پاتے ہیں۔ دراصل ایسے لوگوں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ کسی طرح سے اپنے ناپسندیدہ شخص کو جانی یا مالی نقصان پہنچائے۔ لیکن ان ہی لوگوں میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو نہ کہ حسد کرنے والوں کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھی وہ انہیں معاف بھی کر دیتے ہیں۔

اخلاق کا لفظ ذہن میں آتے ہی ایک ایسا خاکہ ابھر کر سامنے آجاتا ہے کہ جس کو ہر انسان اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔حضرت محمد ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو‘۔ ممکن ہے سر صادق خان نے بھی حضرت محمد ﷺ کے نقشِ قدم پر چل کر ٹی وی شو میں ٹرمپ سے ملنے کی بات کو کہہ کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اسلام مذہب کے ماننے والوں میں سے ہیں۔ جس کے نبی نے اخلاق کا بہترین نمونہ دنیا کو پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’رسول اللہ کی زندگی تمھارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ حضور کے نقشِ قدم پر چل کر ہی انسان بلند اخلاق کا مالک بن سکتا ہے‘۔

 

Leave a Reply