You are currently viewing !کون بنے گا بہار کا مُکھ منتری

!کون بنے گا بہار کا مُکھ منتری

دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان کے صوبہ بہار میں نومبر میں الیکشن ہورہا ہے۔  ہندوستان میں ہر سال کسی نہ کسی صوبے میں انتخاب ہوتا رہتاہے اور جس پر چرچا پوری دنیا میں ہوتاہے۔ اس کی ایک وجہ بی جے پی  یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقبولیت کی کمی اور اضافے پر لوگوں کی نظر رہتی ہے تو وہیں ہندوستان کے تین مرتبہ منتخب وزیراعظم نریندر مودی کے 56 انچ کے سینے کی لاج کا  بھی سوال ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی بہار الیکشن میں حکمراں جنتا دل یونائٹڈ کی اتحادی پارٹی ہے۔

تاہم ہندوستان کے پچھلے عام انتخاب میں مودی کے 56انچ سینے کی ہوا تب نکل گئی جب ان کی پارٹی دعوے کے بعد اکثریت لانے میں ناکام رہی۔ اور آخر کار انہیں بہار کی جے ڈی یو اور آندھرا پردیش کی پارٹی کو ساتھ ملا کر حکومت بنانا پڑی۔یعنی جسے ہندوستان کی سیاسی پارٹیاں ڈبل انجن کی سرکار(ڈبل انجن حکمرانی، ریاستی+ مرکزی کا ماڈل)کہہ کر مذاق اڑاتی ہیں۔اور یہی ڈبل انجن  سرکار بہار میں بھی حکومت چلا رہی جہاں بی جے پی ایک بار پھر اس خواب سے الیکشن لڑ رہی ہے کہ وہ اس بار اپنے بل بوتے پر سرکار بنا لے گی جو کہ محض ایک خواب ہی لگ رہا ہے۔

وہیں بہار کی علاقائی پارٹی جے ڈی یو یعنی جنتا دل یونائٹیڈ نے نہ جانے کتنی بار کتنوں کے ساتھ ہاتھ ملا چکی ہے اور پھر پیٹھ میں خنجر بھونک کر سرکار سے اپنے اتحادی کو ذلیل و خوار کر چکی ہے۔ لیکن جے ڈی یو ہر بار اپنی حکومت اور نتیش کمارکو ہی مُکھ منتری بنانے میں اہم رول نبھایا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نومبر 2025کے ریاستی الیکشن میں ایک بار پھر نتیش کمار اپنی حکومت بنا کر مُکھ منتری بن جائے گا یا اس بار نتیش کمار کو سیاست سے سنیاس لینا پڑے گا۔بہار کی ریاستی اسمبلی انتخاب، جن کا انعقاد نومبر 2025 میں دو مراحل میں 6اور 11نومبر کو ہو رہا ہے، جو اس بار خاص اہمیت لیے ہوئے ہیں۔ 243  اسمبلی سیٹیں کے انتخاب دو مراحل میں ہوں گی۔ ووٹنگ  اس کی وجہ صرف ریاستی سیاست  نہیں ہے بلکہ بہار الیکشن ہندوستان کے سیاسی ماحول پر بھی اس کے اثرات کا امکان بھی ہے۔

ایک طرف این ڈی اے، یعنی نیشنل ڈیموکریٹک الائینس ہے، جس کی قیادت حکومتِ بہار میں نتیش کمار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کر رہے ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن کے پلیٹ فارم آئی این ڈی آئی اے، یعنی انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلیوسیو ایلائنس (انڈیا)ہے، جس میں تیجسوی پرساد یادو کی قیادت راشٹریہ جنتا دل کے تحت ہے۔بہار ہندوستان کی غریب ترین ریاستوں میں شامل ہے، جہاں بے روزگاری، بیرونِ ریاست ہجرت، صحت و تعلیم میں کمزوریاں اور سماجی و معاشی طبقات کی تقسیم طویل عرصے سے سیاسی بحث کا محور رہے ہیں۔ حال ہی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی اور ووٹر اندراج میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی سیاسی کشیدگی کا باعث بنی ہیں۔ اس مرتبہ انتخابی مہم ان مسائل کے گرد  گھوم رہی ہے، جن میں نوکریاں، قانون و انتظام، صحت کا نظام اور ریاستی ترقی کا معاملہ اہم وجہ بنی ہوئی ہے۔تاہم وہیں بہار کے اب تک کے الیکشن کے نتائج سے یہی پتہ چلتا ہے کہ بہار کے انتخاب میں وجوہات کچھ بھی ہوں جیت طنز و مزاح کی ہوتی ہے۔

نتیش کمار، جنہوں نے طویل عرصے سے بہار کی سیاست میں حصہ لیا ہے، اس بار بھی این ڈی اے کے اندر اہم چہرہ ہیں۔اندازہ یہی لگایا جارہا ہے کہ بی جے پی تقریباً تسلیم کر چکی ہے کہ نتیش کمار دوبارہ ان کے اتحادی کے طور پر وزیراعلیٰ منتخب ہوں گے۔نتیش کمار کی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ گزشتہ دور کی حکومت میں ان کی قیادت میں ریاست نے ترقی کی سمت کامیاب قدم اٹھائے ہیں۔حکومتی اتحاد بڑے ووٹر بلاکس مثلاً خواتین،کسانوں، نوجوانوں کو ٹارگٹ کر رہا ہے اور خاص طور پر سابقہ وعدوں کی تکمیل کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

وہیں تیجسوی پرساد یادو جو کے آر جے ڈی کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد کے چہرے ہیں، انہوں نے انتخابی مہم میں ریاستی حکمرانی پر شدید تنقید کی ہے اور خود کو تبدیلی کا نمائندہ بتا یاہے۔ان کا وعدہ ہے کہ اگر ان کو موقع ملا تو ریاست میں بے روزگاری، نوجوانوں کی ہجرت، صحت کی ناکافی سہولیات اور انتظامی شفافیت جیسے مسائل کو جلد حل کریں گے۔جس میں ہر گھر میں سرکاری نوکری کا وعدہ اور مختصر وقت میں اس کو نافذ کرنے کا عزم بھی کیا ہے۔اس کے علاوہ قانون و انتظام کے نظام کو بہتر بنانے، ریاست کو کرپشن فری بنانے اور ریاست کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا پروگرام بھی شامل ہے۔

اس بار اگر دیکھا جائے توبہار الیکشن  صرف سیاسی جماعتوں کا مقابلہ نہیں بلکہ عوامی توقعات اور عدم اعتماد کا امتحان بھی ہے۔اگر حکومت کو شکست ہوئی تو یہ صرف کسی ایک پارٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ بے روزگاری، ہجرت، وعدوں کی عدم تکمیل جیسے مسائل کے سبب ہوسکتی ہے۔ تاہم اپوزیشن کے وعدے (مثلاً ہر گھر کو نوکری)  دلچسپ ہیں مگر ان کی حقیقت پسندی، نفاذ کی صلاحیت اور مدّت کے اند ر یہ وعدے پورے کیے جاسکتے ہیں یا نہیں، اس پر عوام کا امتحان ہے۔ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وطن سے باہر رہنے والے بہاریوں کی تعداد کافی بڑی ہے اور ان کی انتخابی شرکت پر  حکمِت عملی بنائی جارہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تقریباً دو کروڑ بہاریوں کو نشانہ بنایا ہے جنہوں نے ریاست سے باہر رہائش اختیار کی ہے اور جن میں سے اندازاً 65%فی صد ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ یہ بہاری اپنی آبائی حلقوں پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ کیونکہ بیرونِ ملک رہنے والے بہاری اپنی ریاست کی ترقی، بے روزگاری، ہجرت اور سماجی حالت کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

بہار ایک بار پھر انتخابی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ ہر گلی، ہر چوراہے پر سیاست کی بات ہے، ہر دیوار کسی نہ کسی امید یا مایوسی کی کہانی سناتی ہے۔ مگر مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اس بار کی ہوا میں ایک خاموش سی تبدیلی یعنی بدلاؤ آنے والا ہے۔ یوں تو بہار کی سیاست ہمیشہ وعدوں سے بھری رہی ہے، ترقی کے خواب، روزگار کے دعوے اور بہار کو خوشحال بنانے کے نعرے وغیرہ۔ مگر برسوں کے بعد بھی عام بہاری کی زندگی میں وہ بہتری نہیں آئی جس کا وعدہ ہر دور میں کیا گیا۔ آج وہی ووٹر، جس نے استحکام کے نام پر ووٹ دیا، اب سوال کر رہا ہے کہ ترقی کی منزل آخر کب آئے گی۔

پچھلے  عام انتخاب میں شاید میں واحد کالم نویس تھا جس نے لکھا تھا کہ این ڈے کو اکثریت نہیں ملے گی اور ویسا ہی ہوا بھی تھا۔ اس بار میں پھر لکھ رہا ہوں کہ ہندوستان کی ریاست بہار کے نتائج حیران کن ہوں گے اور ہوا کا رخ انڈیا اتحاد کی سمت ہوگا۔ کیونکہ یہ بدلتی ہوئی فضا بہار کی ترقی اور سیاست کے لیے اہم ہے۔ بہار کے عوام اب اقتدار نہیں، احساسِ شرکت بھی چاہتے ہیں اور شاید یہی بہار کی نئی صبح کی پہلی کرن ہو۔

Leave a Reply