
دنیا میں امن سب سے قیمتی چیز ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کا گھر، گاؤں یا ملک خوشحال اور پر امن ہو۔ لیکن کبھی کبھی لوگ فوری فائدے یا وقتی خوشی کے لیے ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جو دراصل دھوکہ ہوتے ہیں۔ یہی حقیقت ہمیں ” امن یا امن کا سودا اور ایک دھوکہ” کے واقعے سے سمجھ آتی ہے۔
فرض کریں کہ دو ممالک جنگ کے قریب ہیں۔ ایک ملک نے امن کے نام پر معاہدے کرنے کی پیشکش کی، لیکن اس کے پیچھے اپنے مفاد کے لیے چالاکی چھپی ہوئی تھی۔ دوسری طرف کے لوگ چونکہ امن کے جذبے میں بھروسہ کر بیٹھے، وہ دھوکہ کھا گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عارضی امن کے بدلے دیر پا نقصان ہوا۔یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ امن قیمتی ہے، مگر اسے حاصل کرنے کے لیے ہوشیاری اور سمجھداری ضروری ہے۔ صرف نام یا وعدے پر یقین کرنا کافی نہیں۔ ہر فیصلے میں تحقیق، دانشمندی اور صبر ضروری ہے تاکہ ہم دھوکہ کھانے کے بجائے حقیقی امن حاصل کر سکیں۔ آج کے زمانے میں بھی یہ سبق ہمارے لیے اہم ہے۔ چاہے معاشرتی تعلقات ہوں، کاروبار ہو یا بین الاقوامی سیاست، امن کا سودا صرف تب کامیاب ہوتا ہے جب اس میں ایمانداری اور سچائی ہو۔ دھوکہ ہمیشہ نقصان دے کر جاتا ہے، لیکن صحیح فیصلے دیر پا امن اور خوشھالی کا باعث بنتے ہیں۔
مجھے آج بھی سنیچر 7اکتوبر2023 کی دوپہر یاد ہے جب میں میں عمان کی راجدھانی مسقط میں ہوٹل کی لابی میں بیٹھا ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا کہ اچانک بی بی سی کی ورلڈ سروس پر حماس کے طرف سے اسرائیل کی خبر سے میرے ہوش اڑ گئے۔ خبروں میں مرجھائی شکل اور غمگین لہجے میں خبروں کو پڑھتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا جس میں کئی سو اسرائیلی کی ہلاکت اور اسرائیل پر حملے کی خبر کو دہرایا جارہا تھا۔ذہن عجیب کشمکش میں مبتلا ہوگیا اور مجھے ڈر لگنے لگا کہ اسرائیل ہر بار کی طرح ایک بار پھر فلسطینیوں کو نیست و نابود کرے گااور امریکہ اور یوروپی ممالک کی پشت پناہی سے اسرائیل نے 60000سے زائد فلسطینی کو مارڈالا اور ان کے گھروں کو تباہ و برباد کر دیاہے۔
تاہم میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اس بات پر افسوس ہی کرتارہا کہ اسرائیلوں نے فلسطینیوں پر ظلم کی ہرانتہا پار کر دی ہے۔کبھی ہم اپنی بے بسی پر آنسو بہا کر خاموش بیٹھ جاتے تو کبھی احتجاجاً کچھ لکھ کر اپنی آواز کے ذریعہ دنیا کو آگاہ کرتے کہ بس اب فلسطینیوں پر ظلم بند ہونی چاہیے۔تو کبھی ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا مانگتے کہ یا اللہ کوئی حل نکلے اور فلسطین آزاد ہو۔وہیں اپنے اپنے طور پر دنیا بھر میں لوگ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی احتجاج کر رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اب تک اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔جس کی ایک وجہ فلسطینیوں کی کمزور لیڈر شپ اور عرب ممالک کی لاپرواہی بھی کہا جاسکتا ہے۔
یوں تو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں تناؤ مسلسل بنا رہتا ہے۔ جس کی ایک وجہ اسرائیلیوں کا فلسطینی زمین پر ناجائز قبضہ اور ان کا جارحانہ رویہ ہے۔ جس کی مخالفت میں امریکہ اور مغربی طاقتیں اپنا منہ بند کئے بیٹھی رہتی ہیں۔ آئے دن سوشل میڈیا اور کبھی کبھار عالمی خبروں کے ذریعہ اسرائیلی لوگوں کو فلسطینی زمین ہڑپ کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔جس میں بے بس فلسطینی سوائے اپنی آواز بلند کرنے کے اور کچھ نہیں کر پاتے۔ اس پر ستم یہ کہ ان بے گھر فلسطینی کا کوئی پرسانِ حال بھی نہیں ہوتا ہے۔اگر کسی نے ان کی حمایت میں بات کرنے کی کوشش کی تو اس کو مختلف زاویے سے کسی نہ کسی طرح اسرائیلی مخالف بتا کر منہ بند کروادیا جاتا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے مابین لڑائی کوئی پہلی بار نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ ہر سال چھوٹے بڑے پیمانے پر جھڑپ ہو ہی جاتی ہے۔اسرائیلی ہزاروں فلسطینیوں کو مار ڈالتا ہے اور اقوام متحدہ بے بس تماشہ دیکھتی رہتی ہے۔عام طور پر یروشلم میں ایک مقدس پہاڑی کے احاطے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے مابین اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔اس جگہ کا مسلمان اور اسرائیلی دونوں احترام کرتے ہیں۔مسلمانوں کے لئے قبلہ اول بیت المقدس،(حرم الشریف،نوبل سینکچری) اور یہودیوں کے لئے ہیکل پہاڑ قابلِ احترام ہے۔ ایک صدی سے زیادہ عرصے یہودی اور عرب دریائے اردن اور بحیرہ روم کے سمندر کے درمیان سر زمین کا مالک بننے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ 1948میں اسرائیل کا قیام ہونے کے بعد سے فلسطینیوں کو کئی طرح کی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جبکہ تنازعہ اب بھی جاری ہے اور دونوں ہی محفوظ نہیں ہیں۔ ایک یقینی بات یہ ہے کہ ہر چند سالوں میں میں کم از کم ایک سنگین اور پر تشدد بحران ضرور پیدا ہوتا ہے۔آئے دن اسرائیلی پولیس فلسطینیوں پر فائرنگ کرتی ہے یا انہیں مارتی پیٹتی ہے۔اس کے علاوہ مسجد اقصیٰ، (جو کہ مکہ اور مدینہ منورہ کے بعد مسلمانوں کے لئے سب سے مقدس مقام ہے)کے اندر سی ایس گیس اور اسٹن گرینیڈ استعمال کئے جاتے۔
دونوں طرف اپنی گہری مذہبی اور قومی اہمیت کے حامل لوگوں میں اس شہر کی تقدیر کئی عشروں پرانے اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کا مرکز رہا ہے۔اسرائیل نے 1980میں مشرقی یروشلم کو منسلک کر دیا تھا اور اس پورے شہر کو اپنا دارلحکومت سمجھا تھا۔ حالانکہ اس کو دوسرے ممالک کی اکثریت تسلیم نہیں کرتی ہے۔ وہیں فلسطینی امید اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یروشلم کے مشرقی نصف حصہ ان کی اپنی ریاست ہے۔غزہ کی پٹی سے حماس کی اسرائیل پر حملے اور ہزاروں اسرائیلوں کی ہلاکت سے اسرائیل سمیت عالمی برادری کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ جس کے جواب میں ہر بار کی طرح اسرائیل، امریکہ اور مغربی طاقتوں کی پشت پناہی میں غزہ پٹی کو نیست و نابود کررہا ہے۔لیکن حماس بھی ہر بار کی طرح اسرائیل سے مرتے دم تک لڑرہی ہے اور فلسطینی آزادی کے لئے اپنا خون بہائے جارہی ہے۔
ہر بار کی طرح اس بار بھی کئی دنوں کے مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اکتوبر کواعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس نے غزہ کے لیے اپنے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں غزہ سے 1700 فلسطینی قیدیوں اور تقریباً 250فلسطینی قیدی جو اسرائیلی جیلوں میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، ان کے بدلے میں تمام 20زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی متوقع ہے۔اس کے علاوہ امریکی فوج کی نگرانی میں لگ بھگ 200فوجیوں پر مشتمل ایک کثیر القومی فورس جنگ بندی کی نگرانی کرے گی۔ فورس میں مصر، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ دنیا کے سب سے پیچیدہ اور طویل عرصے سے جاری تنازعات میں اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ تنازعہ بنیادی طور پر زمین، شناخت، مذہب اور سیاسی خود مختاری کے گرد گھومتا ہے۔1948میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے، اس خطے میں کئی جنگیں، تشدد اور انسانی المیے دیکھنے میں آئے ہیں، جس نے نہ صرف اسرائیلی اور فلسطینی عوام کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے گئے ہیں۔
فلسطینی عوام اپنی زمین اور حقوق کے لیے جدوجہد کرتے آرہے ہیں، جبکہ اسرائیل اپنی ریاست اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتا رہا ہے۔دونوں فریقین کے درمیان عدم اعتماد اور تاریخی تلخیاں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جس کی وجہ سے امن قائم ہوتے ہی پھر لاکھوں فلسطینیوں کو جان بھی گنوانا پڑتا ہے۔امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ طرفین مذاکرات کی میز پر آئیں، ایک دوسرے کی حقوق اور شناخت کا احترام کریں اور عسکری حل کی بجائے سیاسی اور سفارتی راستے اپنائیں۔ عالمی برادری کا کردار بھی اس معاملے میں نہایت اہم ہے، کیونکہ مستقل امن کے بغیر خطے مں ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ تاہم امریکہ اور یوروپی ممالک کی سرپرستی سے ہر بار اسرائیل اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوجاتا ہے جس سے فلسطینی بے بس اور مجبور ہو کر کوئی ایسا قدم اٹھا لیتے ہیں جو ان کے حق میں کافی نقصان ہوتا ہے۔
امن کا مقصد صرف جنگ کی روک تھام نہیں بلکہ انسانی زندگی کی قدر، انصاف اور مساوات کو یقینی بنانا بھی ہے۔اگر اسرائیل اور فلسطین اپنے اختلافات کو بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کر لیں تو یہ نہ صرف خطے کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی ایک کرن ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے آج بھی بے شمار ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات ہمیں شاید کبھی نہ مل سکیں۔ آخر کیوں صدر ٹرمپ نے اچانک امن مذاکرات کرانے کی کوشش کی؟ کیا ان کا مقصد واقعی خطے میں امن قائم کرنا تھا یا نوبل امن انعام حاصل کرنا؟ دو سال تک امریکہ نے اسرائیل کی کھلم کھلا حمایت کی، پھر اچانک امن کی بات کیوں کی گئی؟ غزہ کو کیو ںمکمل طور پر تباہ و برباد کردیا گیا؟ کیوں معصوم فلسطینیوں کو بھوک، پیاس اور محرومیوں میں مبتلا کر کے ان کی زندگی کو اذیت بنا دیا گیا؟
ایسے بے شمار سوالات ہیں جو آج بھی جواب کے منتظر ہیں، مگر شاید ان کے جوابات ہمیں کبھی نہ مل پائیں۔تاہم فی الحال ذہن اس بات سے پریشاں ہے کہ کہیں یہ واقعی امن ہے، یاامن کا سودا ہے یا ایک اور دھوکہ ہے۔