You are currently viewing وینزویلا: گرفتاری، بحران اور تیل کے پیچھے طاقت کی جنگ

وینزویلا: گرفتاری، بحران اور تیل کے پیچھے طاقت کی جنگ

وینزویلا: گرفتاری، بحران اور تیل کے پیچھے طاقت کی جنگ

جمہوریت ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں، اور عوام آزاد و منصفانہ انتخابات کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ اس نظام میں قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور جواب دہ حکومت کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔تاہم جمہوریت آج ایک گہرے بحران کا شکار ہے۔ وہ اقدار جنہیں کبھی انسانی آزادی اور وقار کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ آزاد و منصفانہ انتخابات، آزادیِ صحافت، اور قانون کی حکمرانی،اب عالمی سطح پر حملوں، پسپائی اور تحریف کی زد میں ہیں۔ جمہوریت اب صرف کمزور نہیں، بلکہ خود اپنے دعوؤں کے بوجھ تلے دبتی دکھائی دیتی ہے۔

ایک چوتھائی صدی قبل، سرد جنگ کے اختتام پر یہ تاثر عام تھا کہ مطلق العنانیت تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکی جا چکی ہے اور لبرل جمہوریت نے بیسویں صدی کی عظیم نظریاتی جنگ جیت لی ہے۔ مغرب نے خود کو تاریخ کا فاتح قرار دیا، اور جمہوریت کو ایک عالمگیر نسخے کے طور پر پیش کیا گیا۔ مگر آج، وہی جمہوریت خود شکستہ، متنازع اور کمزور نظر آتی ہے۔

فریڈم اِن ورلڈ کی رپورٹس کے مطابق، مسلسل بارہ برسوں سے جمہوری زوال کا شکار ممالک کی تعداد ان ممالک سے زیادہ ہے جہاں جمہوریت مضبوط ہوئی۔ وہ ریاستیں جو کبھی کامیابی کی علامت سمجھی جاتی تھیں، آمرانہ طرزِ حکمرانی کی جانب واپس لوٹ رہی ہیں۔ جمہوریت نہ صرف بیرونی آمریتوں سے، بلکہ اندرونی کھوکھلے پن سے بھی نبرد آزما ہے۔لیکن اس بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ جمہوریت کو اب ایک اخلاقی اصول کے بجائے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اس کی سب سے واضح مثال ہے۔

وینیزویلا میں جو کچھ ہوا، وہ جمہوریت کے نام پر جمہوریت کی توہین ہے۔ ایک خودمختار ملک کے عوام نے بارہا اپنی سیاسی سمت کا تعین کیا، مگر جب وہ انتخاب واشنگٹن کے مفادات سے مطابقت نہ رکھ سکا، تو اسے”غیر جمہوری”قرار دے دیا گیا۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ، اور حکومت کی تبدیلی کی کھلی کوششیں،یہ سب جمہوریت کے فروغ کے نام پر کی گئیں، مگر نتیجہ عوامی بدحالی، معاشی تباہی اور سیاسی انتشار کی صورت میں نکلا۔یہاں سوال یہ نہیں کہ وینیزویلا کی حکومت مثالی تھی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جمہوریت کے نام پر دوسرے ملک کی خودمختاری روند دے؟ اگر عوام کا ووٹ صرف اس وقت معتبر ہو جب وہ طاقتور ریاستوں کو پسند آئے، تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ منتخب آمریت ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے پر یہ دعویٰ پورے اعتماد سے کیا گیا تھا کہ مطلق العنان نظام شکست کھا چکے ہیں اور لبرل جمہوریت نے بیسویں صدی کی نظریاتی جنگ جیت لی ہے۔ مغرب نے خود کو تاریخ کے اختتام پر کھڑا فاتح قرار دیا، اور یہ تاثر دیا گیا کہ اب دنیا کا مستقبل صرف جمہوریت ہی ہے۔ مگر ایک چوتھائی صدی بعد، یہی جمہوریت خود عدم استحکام، انتشار اور اخلاقی زوال کا شکار دکھائی دیتی ہے۔تاہم بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، مسلسل بارہ برسوں سے دنیا میں جمہوری زوال کا شکار ممالک کی تعداد ان ممالک سے زیادہ ہے جہاں جمہوری بہتری آئی ہو۔ کئی ریاستیں جو کبھی جمہوریت کی کامیاب مثالیں سمجھی جاتی تھیں، آہستہ آہستہ آمرانہ طرزِ حکمرانی کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے اور یہی جدوجہد آج کمزور پڑتی جا رہی ہے۔

وینیزویلا میں جمہوریت کے نام پر جو کچھ کیا گیا، وہ دراصل جمہوریت کی روح کے خلاف تھا۔ جب عوامی فیصلے عالمی طاقتوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہ رہے، تو انہیں تسلیم کرنے کے بجائے مسترد کر دیا گیا۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور حکومت کی تبدیلی کی کھلی کوششیں — یہ سب“جمہوریت کے فروغ”کے عنوان کے تحت کی گئیں، مگر ان کا اصل خمیازہ عام شہریوں نے بھگتا۔ مہنگائی، ادویات کی قلت، اور معاشی تباہی نے عوامی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا۔یہاں بنیادی سوال کسی ایک حکومت کی کارکردگی کا نہیں، بلکہ اصول کا ہے۔ اگر عوام کا ووٹ صرف اس وقت قابلِ قبول ہو جب وہ طاقتور ریاستوں کی پسند کے مطابق ہو، تو پھر جمہوریت ایک عالمی قدر نہیں رہتی، بلکہ ایک منتخب استحقاق بن جاتی ہے۔ ایسی جمہوریت، جو کمزور ممالک کے لیے مختلف اور طاقتور ممالک کے لیے مختلف معیار رکھتی ہو، دراصل جمہوریت نہیں بلکہ طاقت کی سیاست ہے۔دوسری طرف، خود نام نہاد مضبوط جمہوریتیں اندرونی بحرانوں میں گھری ہوئی ہیں۔ بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، سماجی تقسیم، نسلی تعصب، دہشت گردی کا خوف، اور مہاجرین کے خلاف نفرت نے جمہوری معاشروں کو اس حد تک منقسم کر دیا ہے کہ مکالمہ ممکن نہیں رہا۔ سیاست مسئلے کے حل کے بجائے خوف کو فروخت کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔

کچھ ملک ایسے ہوتے ہیں جہاں سیاست صرف حکومت کے چار دیواری تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ہر گلی، ہر گھر، اور ہر انسان کی زندگی میں اثر ڈالتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا پر اس وقت تک اثر رکھے گا جب تک وہاں “محفوظ، مناسب اور منصفانہ”طاقت کی منتقلی ممکن نہ ہو۔ یہ بیان اسی وقت آیا جب امریکی افواج نے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا، جہاں ان پر منشیات کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔یہ گرفتاری کسی عام سیاسی کارروائی سے بڑھ کر ہے۔ یہ انسانی مصائب، طاقت کے کھیل، اور تیل کی دولت کی جنگ کی تصویر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ مادورو کو ملک میں منشیات کے فروغ اور جرائم پیشہ گروہوں کے اثر و رسوخ کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، اور انہیں لاکھوں تارکین وطن کے بحران کا بھی ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ پچھلے کئی سالوں میں تقریباً 80 لاکھ وینزویلا کے شہری اپنے ملک کے معاشی اور سیاسی بحران سے بچنے کے لیے ہجرت کر چکے ہیں۔صدر ٹرمپ نے الزام لگایاکہ مادورو نے اپنی جیلیں اور پناہ گاہیں خالی کر کے قیدیوں کو امریکہ ہجرت پر مجبور کیا، اور وینزویلا کے دو گروہوں،”ٹرین ڈی آراگوا”اور”کارٹیل ڈی لاس سولس”، کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔ مادورو نے اس کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ امریکہ ان پر قبضہ کرنے اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مادورو کا سفر ایک عام انسان سے صدر تک کا سفر ہے۔ایک سابق بس ڈرائیور، یونین رہنما، جو شاویز کی جانشینی کے بعد ملک کی قیادت سنبھالے۔ مگر اقتدار کی یہ کہانی عوام کے لیے بحران اور تکلیف کی شکل اختیار کر گئی۔ 2024 کے صدارتی انتخابات نے اس بحران کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ مادورو کو فاتح قرار دیا گیا، حالانکہ اپوزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ان کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز نے بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔ حزب اختلاف کی رہنما، ماریہ کورینا ماچاڈو، نوبل امن انعام حاصل کرنے کے باوجود اپنے ملک واپس جانے سے محتاط ہیں،یہ خوف اور حقیقت کی تلخ کشمکش ہے۔اور پھر وہ تیل۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ذخائر ہیں، مگر بدانتظامی، سرمایہ کاری کی کمی اور پابندیوں نے اس دولت کو عوام کے فائدے کے لیے استعمال ہونے سے روک رکھا ہے۔ امریکی دباؤ، گرفتاری، اور الزامات ایک بڑے کھیل کی کڑی ہیں، جس میں عام شہری اکثر پس پشت رہ جاتے ہیں۔

یہ کالم ہمیں مجبور کرتا ہے سوچنے پر کہ طاقت اور دولت کے نشے میں ڈوبی امریکہ کی حرص اور تیل کی لالچ کس طرح عام انسان کی زندگی کو روند رہی ہے۔ وہ لوگ جو بھوکے، بیمار اور خوفزدہ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں، وہ اس بحران کا حقیقی چہرہ ہیں۔ گرفتاری، الزامات اور تیل کی سیاست کے بیچ، سوال یہ ہے کہ وینزویلا کے حقیقی وارث اس کے شہری اپنے ہی وطن میں کب تک محفوظ رہ پائیں گے؟یہ واقعہ ہمیں واضح طور پر یاد دلاتا ہے کہ امریکہ، اپنے تیل اور عالمی اثر و رسوخ کے نشے میں چور، دنیا کے امن کو تباہ کر رہا ہے اور لاکھوں انسانوں کا جینا حرام کر رہا ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ وینزویلا کے صدر امریکہ کے پسندیدہ صدر نہیں تھے، تو یہ ہرگز مطلب نہیں کہ امریکہ اپنے فوجی طاقت کے ذریعے انہیں گرفتار کرے، ظلم ڈھائے اور ایک پوری قوم کو خوف میں مبتلا کرے۔سیاست اور دولت کے کھیل میں عام انسان کی زندگی اکثر پس منظر کی مانند نظر آتی ہے، لیکن کبھی کبھار یہی پس منظر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو جاتا ہے، اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ طاقت اور لالچ کے لیے انسانی مصائب کا سودا کس حد تک ہو سکتا ہے۔ وینزویلا کی کہانی صرف ایک ملک کا بحران نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے کہ جب طاقت اور لالچ انسانیت پر حاوی ہو جائیں، تو امن، زندگی اور انصاف سب دبا دیے جاتے ہیں۔

                                                                                                                                                      فہیم اختر۔لندن

Leave a Reply