You are currently viewing پروسٹیٹ کینسر: خاموش علامات اور بروقت تشخیص کی اہمیت

پروسٹیٹ کینسر: خاموش علامات اور بروقت تشخیص کی اہمیت

بیماری جب کسی جاندار کے جسم میں گھر بناتی ہے تو عموماً اس کی علامات کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ مگر بعض اوقات  یہ علامات اس وقت سامنے آتی ہیں جب بیماری خاصی پھیل چکی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بیماریاں، خصوصاً پروسٹیٹ کینسر، ابتدائی مرحلے میں خاموش رہتی ہیں اور جب تک علامات واضح ہوں، علاج مشکل ہو چکا ہوتا ہے۔

بیماریوں کے مطالعے کو پیتھالوجی کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے بیماری کی وجوہات اور اس کے جسم میں پھیلاؤ کو سمجھا جاتا ہے۔ انسانی جسم عموماً خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے، مگر لاعلمی یا لاپرواہی کے باعث ہم ان اشاروں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہمیں بیماریوں سے متعلق بنیادی آگاہی حاصل ہو تو ہم ابتدائی علامات کو پہچان کر بروقت احتیاط اور علاج کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔گزشتہ دنوں برطانیہ میں ایک معروف شخصیت کی پروسٹیٹ سے متعلق صحت کی خبر نے اس موضوع کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنایا۔ اس واقعے کا مثبت پہلو یہ رہا کہ عوام میں پروسٹیٹ بیماریوں کے بارے میں جاننے کا رجحان بڑھا، اور بڑی تعداد میں لوگوں نے طبی معلومات حاصل کرنے اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب صحت کے مسائل پر کھل کر بات کی جائے تو آگاہی میں اضافہ ہوتا ہے۔

ویٹامن اور سپلیمنٹس خریدیں

تاہم پروسٹیٹ کے مسائل صرف معروف شخصیات تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں عام مرد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں، مگر شرم، خوف یا لاعلمی کے باعث بروقت علاج سے محروم رہتے ہیں۔ دیہی علاقوں اور ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے، جہاں طبی سہولیات محدود اور آگاہی ناکافی ہے۔ کئی افراد صرف اسی وقت ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں جب پیشاب میں شدید دشواری، درد یا خون آنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

پروسٹیٹ ایک چھوٹا مگر نہایت اہم غدود ہے جو مردوں کے تولیدی نظام کا حصہ ہے اور مثانے کے نیچے واقع ہوتا ہے۔ پیشاب کی نالی اسی غدود کے درمیان سے گزرتی ہے۔ عمر کے ساتھ اس کا بڑھ جانا ایک عام بات ہے، جسے بینائن پروسٹیٹک ہائپرپلیشیا کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بار بار پیشاب آنا، رات کو نیند سے اٹھنا، پیشاب کے بہاؤ میں کمزوری اور مثانے کے مکمل طور پر خالی نہ ہونے کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔عام لوگوں میں اکثر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ پروسٹیٹ کے بڑھنے کا مطلب کینسر ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑھا ہوا پروسٹیٹ کینسر نہیں ہوتا۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کینسر اور سادہ بڑھوتری کی علامات ایک جیسی ہونے کے باعث مرض نظر انداز ہو جاتا ہے۔ پروسٹیٹ کینسر عموماً آہستہ بڑھتا ہے اور ابتدائی مرحلے میں کوئی خاص علامت ظاہر نہیں کرتا، اسی لیے باقاعدہ طبی جانچ بے حد ضروری ہے۔

پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ عمر کے ساتھ بڑھتا ہے، خاص طور پر پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں۔ جن افراد کے خاندان میں پہلے کسی کو یہ مرض لاحق ہو چکا ہو، ان میں خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ مختلف مطالعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ طرزِ زندگی، غیر متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی کی کمی بھی اس کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔تشخیص کے لیے پی ایس اے خون کا ٹیسٹ، جسمانی معائنہ اور بعض صورتوں میں بایوپسی کی جاتی ہے۔ اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں پکڑی جائے تو علاج کے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔ کئی مریض محض نگرانی یا معمولی علاج سے معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسرے مریضوں کے لیے سرجری، ریڈیوتھراپی یا ہارمون تھراپی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سے مرد، علامات کے باوجود، خاندان یا معاشرتی دباؤ کے باعث ڈاکٹر سے بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ یہی خاموشی اس بیماری کو مزید مہلک بنا دیتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پروسٹیٹ کے مسائل پر کھلے دل سے بات کی جائے، جیسے شوگر یا بلڈ پریشر پر کی جاتی ہے۔موومبر، جسے پہلے نومبر کے نام سے جانا جاتا تھا، وہ مہینہ ہے جب دنیا بھر کے مرد مونچھیں اگاتے ہیں  اور خواتین مردوں کی صحت کے لیے بیداری پیدا کرنے اور فنڈز جمع کرنے میں ان کی حمایت کرتی ہیں۔ اس مہم کا مقصد خاص طور پر پروسٹیٹ کینسر، خصیوں کے کینسر، ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام کے شعبوں میں مردوں کی مدد کرنا ہے۔موومبر کی شروعات 2003 میں میلبورن، آسٹریلیا میں چند دوستوں نے ایک پب میں بیئر پیتے ہوئے کی۔ اس کے بعد یہ ایک عالمی تحریک بن گئی، جس کے دوران مرد ایک مہینے کے لیے مونچھیں اگاتے ہیں اور دوستوں، خاندان اور ساتھیوں کو اس مہم کے لیے عطیات دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ نہ صرف مرد، بلکہ خواتین بھی اس مہم میں حصہ لے سکتی ہیں یا اسے میزبانی کر سکتی ہیں، تاکہ مرد خوش، صحت مند اور لمبی زندگی گزار سکیں۔

موومبر کے اہم مقاصد درج ذیل شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہیں: پروسٹیٹ کینسر، خصیوں کا کینسر، ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام۔ اس تحریک نے دنیا بھر میں پانچ ملین سے زیادہ حامیوں کو ایک ساتھ جوڑا ہے اور 20 سے زائد ممالک میں 1200 سے زیادہ جدید مردوں کی صحت کے منصوبوں کو فنڈ فراہم کیا ہے۔برطانیہ میں پروسٹیٹ کینسر پر تحقیق موومبر کی مہم کا بنیادی مرکز ہے۔ پچھلے دس سالوں میں، برطانیہ بھر کے مو بروس اورمو سیستاس نے اپنی کوششوں سے تحقیقی اقدامات میں نمایاں تعاون کیا اور مردوں کی خدمات میں سرمایہ کاری کو یقینی بنایا۔

اپنی بنیاد کے بعد سے، موومبر نے مردوں کی صحت کے مسائل کے لیے 400 ملین پاؤنڈ سے زیادہ جمع کیے ہیں، جن میں سے بیشتر تحقیق اور متعلقہ خدمات میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ یہ مہم نہ صرف مالی مدد فراہم کرتی ہے بلکہ مردوں کی صحت کے بارے میں شعور بڑھانے اور معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پروسٹیٹ کینسر بروقت تشخیص کی صورت میں جان لیوا نہیں رہتا۔ اصل دشمن لاعلمی، خوف اور تاخیر ہے۔ مردوں کو چاہیے کہ وہ پچاس سال کی عمر کے بعد اپنی صحت کو نظرانداز نہ کریں اور کسی بھی غیر معمولی علامت پر فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو صحت عطا فرمائے اور بروقت شعور کی توفیق دے۔ آمین۔

تحریر : فہیم اختر

Leave a Reply