You are currently viewing روایت کے پاسدار فہیم اختر

روایت کے پاسدار فہیم اختر

یہ سچ ہے کہ آسان اور سلیس لفظوں میں زندگی کی لازوال سچائیوں کا ذکر ہی غزل کی خوبصورتی کو دوبالا کرتا ہے۔محض پیچیدہ بیانی سے غزل کا حسن زائل ہو جاتا ہے۔ عام فہم  لفظیات کے استعمال سے غزل کی دلکشی ابھر کر سامنے  آتی ہے۔  ان دنوں ہماری شاعری میں لب و رخسار کی باتیں کم ہوتی ہیں اور سماجی مسائل  کا تذکرہ  زیادہ ہوتا ہے۔

 دراصل شاعر اپنے عہد کے مسائل اور میلانات کو اپنی نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی شاعری حیات و کائنات کی تلخ حقیقتوں کی عکاس ہوتی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو لندن میں مقیم ہمارے عہد کے نمائندہ شاعر فہیم اختر کی شاعری حسرت و حرماں نصیبی اور نشاط و غم کی ملی جلی تصویریں پیش کرتی ہے۔ ان کے اکثر شعروں میں ایک حساس اور دکھی انسانیت کا ذاتی کرب سمٹ آیا ہے۔ فہیم صاحب جس ذہنی کیفیت سے گذرتے ہیں اس کو ہو بہو اپنی شاعری میں پیش کر دیتے ہیں۔ ان کی کلاسیکی غزلوں میں انسانی تجربات و مشاہدات کی رنگینیاں نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہیں کہیں گفتگو کا لب و لہجہ اختیار کیا ہے۔ ان کا یہ رویہ لوگوں کو پسند آتا ہے کہ وہ ہر وقت زندگی کی ستم ظریفیوں کو بے نقاب کرنے کی دھن  میں رہتے ہیں۔کہتے ہیں:

قوم  کی آبرو لوٹ لیتا  ہے جو

ایک قاتل ہے وہ کوئی رہبر نہیں

خود کو وطن پرست جو کہتا تھا ہر گھڑی

آیا مفاد  سامنے غدار ہو گیا

 فہیم اختر نے ایک لمبا شعری سفر طے کیا ہے۔ اس سفر میں انہیں زندگی کے مختلف حالات و حادثات سے گزرنا پڑا۔ انہوں نے اس سفر میں جو تجربات حاصل کئے ہیں انہیں اپنی شاعری میں من وعن پیش کر دیا۔ ان کی غزلیں تازگی اور توانائی سے بھر پور ہوتی ہیں۔ ویسے اختر کلاسیکی رچاؤکا بخوبی احساس رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی نیا طرز بھی اپنائے ہوئے ہیں جس سے ایک نئی شعری فضا خلق ہوتی ہے۔ یہاں عاشق کا نٹ کھٹ پن دیکھیں:

معصوم  ا تنی   ہے  کہ  غز الہ  لگے  مجھے

اب پاس جا کے اس کے،  شرارت کروں گا میں

غزل کا تعلق انسان کے جمالیاتی احساس سے ہے۔ اسی حوالے سے شاعر نے اپنی شاعری میں حسن و عشق اور عاشق سے چھیڑ چھاڑ کی باتیں بھی خوب کہی ہیں:

اک حسینہ کی جل تھل نگاہوں میں دل

ڈوب  کر  رہ گیا  اور  ابھر  نہ سکا

ہاتھ  سے  کیا  گیا  کیا  بچا  رہ گیا

پیار میں لٹ کے میں  سوچتا رہ گیا

 ان کے شعروں میں ظلم وجبر اور استحصال کے خلاف نبرد آزمائی بھی ملتی ہے۔ کہتے ہیں:

نفرتیں کل جو جتا تا تھا مرے قاتل سے

آج  اسی  شخص  کا رشتہ وہ پرانا  نکلا

جو حاسد ہیں دھو کے دئے جا رہے ہیں

مگر  تیری  خاطر  جئے  جا رہے ہیں

سب جانتے ہیں صرف وہی جانتا نہیں

دل  بغض سے بھرا ہے مگر مانتا  نہیں

فہیم صاحب صرف لفظوں کے گل بوٹے سجاکر اہم موضوع کو زائل نہیں کرتے بلکہ ان کا فکر انگیز اسلوب نگارش قاری کو لطف اندوز کئے بنا نہیں رہتا۔ فہیم صاحب ہمیشہ اپنی شاعری کے ذریعے حق پرستی کی حمایت کرنے میں کوشاں رہتے ہیں، یہ کہتے ہوئے:

ہم اہل حق ہیں ہمیں یقیں ہے فہیم اختر

ہمارے حصے میں سرفرازی کا تاج ہوگا

فہیم صاحب نے اپنی غزلوں میں روایات  کے صالح عناصر کو سلیقے سے برتا ہے۔ ان کے شعروں میں خوبصورت بندشوں کے ساتھ غنائیت بھی دیکھی جا سکتی ہے جو قاری کے دلوں میں دیر پا تاثر چھوڑ جاتی ہے۔  ان کے ہاں کہیں تنہائی کا کرب ہے تو کہیں غم کی کسک

 اور کہیں خوشیوں کی روداد  بیان کی گئی ہے۔ یہ شعر دیکھیں:

یہ دل کی لگی ہے کہ مدہوش ہو کر

ترا نام لب پر لئے جا رہے ہیں

منتظرکب سے ہوں گھر کی دہلیز پر

وعدہ کر کے  مری جاں  نبھایا کرو

یہی  سوچ کر  کہ  تو آئے گی

میں تو خواب میں  بھی جگا رہا

حقیقی معنوں میں صحیح قلمکار وہی ہے،جس کے قلم کی روشنائی تا دیر چمکتی ہے اور شعر و ادب کی رفتار پر جس کی گہری نظر ہوتی ہے۔ شعر و شاعری کے لئے جن عناصر اور لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب کچھ اختر صاحب کے ہاں بدرجہا اتم موجود ہے۔ موصوف غزل کے رموز و علائم کو سلیقے سے برتنے کے قائل ہیں۔ ان کی شاعری زندگی کے نئے تجربوں سے مزین ہوتی ہے۔اور جذبوں کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ یہاں ان کے چند اشعار درج کئے جاتے ہیں جن کے اظہار کی تازگی قاری کے دلوں میں خوشبوئیں بکھر دیتی ہے:

گواہی دے رہی ہیں بھیگی آنکھیں

کہا کس نے کہ دل روتا نہیں ہے

یہ  غلط  ہے  مجھے  حالات  پہ  رونا  آیا

کتنا بے بس ہوں میں اس بات پہ رونا آیا

زندگی  خود کے لئے ہے کہ زمانے کے لئے

بارہا    ایسے   سوالات    پہ   رونا    آیا

  ان شعروں میں جو صداقت ہے وہ ہمارے فکر و شعور کو مہمیز کرتی ہے۔ غزلوں کے علاوہ فہیم اختر نے نظم کو بھی وسیلہء اظہار بنایا ہے۔ ان کی نظموں میں انسان دوستی اور عملی زندگی کا اشاریہ ہوتا ہے۔ نظموں میں بھی غزلوں کی طرح وہی نشست و برخاست اور نئی تراکیب کا استعمال ہوا ہے۔اس طرح کی نظمیں پڑھ کر ہماری نظروں میں ان کی توقیر دوچند ہو جاتی ہے۔

فہیم اختر کا ایک شعر ہے:

ہے  شہر  یہ  عجیب کوئی پوچھتا نہیں

مہمان ہوں میں یہ بھی کوئی سوچتا نہیں

موصوف دیار غیر لندن،برطانیہ میں گزشتہ 31سالوں سے اپنی ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔انہوں نے مولانا آزاد کالج کلکتہ سے بی اے آنرز اور کلکتہ یونیورسٹی سے ا یم اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1993 میں تلاش معاش کے سلسلے میں لندن گئے۔ وہاں کی سٹی یونیورسٹی لندن، اوپن یونیورسٹی لندن اور کنگسٹن یو نیورسٹی لندن سے سو شل ورک میں ٹریننگ اور ڈگریاں حاصل کیں۔ ان دنوں بطور رجسٹرڈ سینئرسوشل ورکر، لندن کے معروف ہسپتال، رائل ہوسپٹل فور نیورو ڈِس ایبی لیٹی لندن سے وابسطہ ہیں۔

برطانوی کونسل نے موصوف کی سماجی خدمات کے اعتراف میں انہیں ” سوِک ایوارڈ” سے نوازا ہے۔ ہندوستان کے علاوہ یورپ اور پاکستان کے مختلف اخباروں میں پچھلے بارہ برسوں سے اپناکالم لکھ  رہے ہیں۔ ان کے منتخب کالموں کا مجموعہ ‘لندن ڈائری’ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ موصوف نے دنیا کے مختلف اہم ممالک مصر، ترکی، جرمنی، فرانس، بلجیم، ہالینڈ، امریکہ، مراکش، بنگلہ

 دیش وغیرہ کا ادبی سفر کیا ہے۔ اب تک ان کی تصانیف ایک گریزاں لمحہ(افسانے)، لندن کی ڈائری(کالم کا مجموعہ) فہیم اختر مقصد و حیات،فہیم اختر کے افسانے اور ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے (مضامین) گرد سفر (ثقافتی و ادبی سفر کا مجموعہ) خواب پلکوں پہ(شعری تصنیف)، لفظوں کا سفر، دائرہ مکمل ہوتا ہے (رضاعلی عابدی کے مضامین) اور اردو کا تیسرا مرکز برطانیہ،شائع ہو کر مقبول ہوچکی ہیں۔

Leave a Reply