You are currently viewing !دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے

!دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے

دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے۔ اُن دنوں میں کالج میں ہوتا تھا جب نکاح فلم دیکھنے کے لیے لوگ سنیما گھروں میں ٹوٹ پڑے تھے۔ تاہم نکاح فلم کے گانے سب کی زباں پر تھے جس میں، دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے مجھے کافی پسند تھا اور میں بھی گاہے بگاہے گاتا اور سنتا رہتا تھا۔

دل کے ارماں آنسؤں میں بہہ گئے۔ ہائے آج بھی ہم کبھی کبھی گنگنانے لگتے ہیں اور کیوں نہ گنگنائیں۔ بندہ تو سمجھ بیٹھتا ہے کہ قسمت اشاروں پر ناچے گی، لیکن قسمت نے تو سیدھا جوتا دکھا دیا۔ بڑی بڑی امیدیں لگا رکھی تھیں، جیسے دنیا اسی کے ارادوں پر چلتی ہو۔ اب جب حقیقت نے چہرے پر تھپڑ مارا تو عقل کچھ ٹھکانے آئی، مگر تب تک دیر ہوچکی تھی۔ خواب  ٹوٹے، دعائیں بے اثر گئیں اور اب صاحبِ دل میٹھے ہیں فلسفہ جھاڑتے ہوئے کہ زندگی ایک امتحان ہے۔ ارے بھئی امتحان نہیں سبق تھا۔ مگر تمہیں مضمون ہی یاد رہا، مفہوم نہیں۔ میں بھی کیا کہنے والا تھا اور نہ جانے کیوں آنسو بہانے لگا۔ تاہم آج کے کالم میں نہیں، بلکہ کوئی اور آنسو بہا رہا ہے۔

ایوارڈ ایک ایسا لفظ ہے جسے سن کر ہر کسی کودلی خوشی ہوتی ہے چاہے وہ ایوارڈ پانے والا ہو یا دینے والا ہو۔ یہ روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ جب کوئی اپنے فن یا قابلیت کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسے اس کی خاصیت اور قابلیت کے لئے ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ایوارڈ کی اہمیت صرف ایک ٹرافی، رقم یا سرٹیفیکیٹ میں نہیں چھپی ہوتی بلکہ اس اعتراف میں ہوتی ہے جو کسی کی محنت، لگن اور قابلیت کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ ایک علامت ہے کہ کسی نے اپنی کوششوں سے فرق پیدا کیا ہے، چاہے وہ فن میں ہو، خدمت میں یا علم میں۔ ایوارڈ صرف فرد کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک پیغام ہوتا ہے کہ محنت ضائع نہیں جاتی اور اچھا کام پہچانا جاتا ہے۔

روایتی طور پر ایوارڈ دینے کا مقصد صرف تعریف نہیں بلکہ ترغیب بھی ہوتا ہے۔ تا کہ دوسرے بھی حوصلہ پائیں اور اپنی کوششوں کو نئی سمت میں لے جائیں۔ مگر افسوس کہ آج کے زمانے میں کبھی کبھار یہ روایات دکھاوے اور تعلقات کا شکار بن جاتی ہے۔ اصل روح تبھی زندہ رہتی ہے جب ایوارڈ دل سے دیا جائے اور دیانتداری سے ھاصل کیا جائے۔ تب وہ صرف ایک شیلڈ نہیں بلکہ عزت کی علامت بن جاتا ہے۔ بچپن میں ہم نے ایسی کئی کہانیاں پڑھی تھیں کہ فلاں بادشاہ یا رانی نے کسی عام انسان کو اس کی بہادری کے لئے انعام سے نوازا۔ مختلف ممالک میں طرح طرح کے انعامات اور ایوارڈوں کو دئیے جانے کا رواج آج بھی قائم ہے۔ یونان میں اولمپک جیتنے والوں کو پتّوں سے سجے ہوئے تاج کو سر پر پہنا نے کا رواج اب بھی قائم ہے۔ کچھ ملکوں میں پتھروں پر لکھی ہوئی تحریر کو ایوارڈ کے طور پر دیا جاتا ہے۔بیشتر ممالک میں جنگی سپاہیوں کو بہادری کے لئے ان کے کاندھے پر کانسی کے تمغے لگائے جاتے ہیں۔ اس طرح زمانہ قدیم سے ایوارڈوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اب بھی دنیا بھر میں کافی مقبول اور عام ہے۔

اب توہندوستان اور پاکستان میں ایوارڈ گلی اور محلّے کے لوگوں کو بھی دیا جانے لگا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ ایوارڈ کی مقبولیت ہے یا ایوارڈ کا گرتا ہوا معیار ہے۔پہلے سال بہ سال چند خاص ایوارڈ حاصل کرنے والوں کا نام سنا جاتا تھا۔ لیکن اب تو ہر روز کسی نہ کسی کو ایوارڈ دئے جانے کی خبر سنی جاتی ہے۔تھوڑی دیر کے لئے اگر ہم ہندوستان اور پاکستان کی مثال لیں تو ہر روز کسی نہ کسی کو ایوارڈ دیئے جانے کی خبر ملتی رہتی ہے۔ مجھے اس سے حیرانی نہیں ہوتی ہے کیونکہ ہندوستان اور پاکستان کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس لحاظ سے ایوارڈ ہر روز بانٹنا ضروری ہو چکا ہے۔تاہم منتظمین کوشاید یہ آسانی ضرور ہوگئی ہے کہ انہیں ایوارڈ پانے والوں کی صلاحیت اور قابلیت کا جائزہ بڑے پیمانے پر نہیں لینا پڑتا اور ایوارڈ آسانی سے بانٹ دیئے جا تے ہیں۔

ان تمام باتوں کے علاوہ اب بھی دنیا میں کچھ تنظیمیں ایوارڈ دینے کے کام کو بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں اور وہ ایوارڈکا معیار بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔تبھی اُن ایوارڈوں کو پانے والوں کے نام کو سن کر کوئی حیرانی نہیں ہوتی ہے اور دل خوش ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ ایوارڈ دینے والے ادارے اس شخص کے کارنامے اور اس کی کامیابی کے بارے میں ایک جامع رپورٹ یا تفصیل شائع کرتے ہیں جس سے ایوارڈ پانے والوں کے تئیں خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا بھی ایوارڈ کے متعلق ایک عمدہ اور اعلیٰ رپورٹ شائع کرتا ہے جس سے ایوارڈ اور اس کے پانے والوں کے بارے میں تشفی بخش اطلاعات موصول ہوتے ہیں۔ایوارڈ پانے والے شخص کے ملک، خاندان، ادارہ اور سماج میں بھی خوب جشن منایا جاتا ہے۔

تاہم پچھلے کچھ دنوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے اس خبر کو پڑھ کر حیرانی کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوا کہ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنجیمن نیتن یاہو(جس کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہوا ہے)نے ایک خط امریکی صدر کو دیا جس میں انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔ بات یہی نہیں ختم ہوتی ہے، اس سے قبل پاکستانی فیلڈ مارشل نے بھی اپنے امریکی دورے کے دوران وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کرکے انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ اور رہی سہی کسر تو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے پوری کردی جب مصر کے شہر شرمیل شیخ کے غزہ امن سربراہی اجلاس میں ٹرمپ اور دنیا کے کئی لیڈروں کی موجودگی میں متعدد بار امریکی صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینا چاہیے، کی رٹ لگا کر دنیا کو حیران کر دیا۔

وہیں امریکی صدر ٹرمپ نے ماضی میں متعدد مرتبہ کہا کہ انہیں نوبل پرائز ملنا چاہیے۔جی یہ سن کر آپ کی طرح ہمارے بھی کان کھڑے ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عرب، اسرائیل میں ابراہم معاہدوں جیسے امن اقدامات کیے اور دیگر تنازعات کو کم کرنے میں مدد دی۔ ویسے ٹرمپ صاحب کو یاد دلایا جائے کہ غزہ میں ہزاروں بچوں اور عورتوں کو اسرائیلی فوجی کے ذریعہ مارنے میں امریکی اسلحہ کا خوب استعمال کیا گیا۔سونے پر سہاگا یہ کہ ٹرمپ کے نامزد کرنے والوں میں ایک اہم نام، بنجیمن نیتن یاہو ہے، جسے آئی سی سی کورٹ نے جنگی جرائم، بے گناہ شہریوں پر حملے، بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بیناد پر وارنٹ جاری کیا ہے۔یعنی کہ ٹرمپ کو نوبل امن انعام پانے کے لیے کیسے کیسے لوگوں کے تلوے چاٹنے پڑ رہے ہیں۔

آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ نوبل فاتح کون منتخب کرتا ہے۔ مختلف ادارے ہر سال ہر زمرے میں انعام دیتے ہیں۔ چھ میں سے پانچ کا انتخاب سوئیڈن میں ہوتا ہے۔ لیکن نوبل امن انعام کے فاتح کا انتخاب ناروے کی نوبل کمیٹی کرتی ہے۔یہ کمیٹی پانچ افراد پر مشتمل ہے۔ جنہیں ناروے کی پارلیمنٹ نے منتخب کیا ہے۔ ماہرین، تعلیم، یونیورسٹی کے پروفیسرز، سائنس دان، سابقہ فاتحین اور قومی حکومتوں کے ارکان، یہ سبھی ان لوگوں کے نام جمع کرانے کے اہل ہیں جنہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ امن کا نوبل انعام جیتنے کا حق دار ہے۔اس سال 343امیدوار تھے۔ جن میں سے 251افراد اور 92تنظیمیں تھیں۔لیکن ہمیشہ کی طرح، ناموں کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے کہ شارٹ لسٹ میں کون ہے۔نوبل ایوارڈ عالمی سطح پر اہم وقار کھتا ہے اور جیتنے والے کو 10ملین سویڈش کرونا یا انعامی رقم دی جاتی ہے۔

1895 میں نوبل پرائز کا آغاز معروف سوئیڈش سائنسداں الفریڈ نوبل نے کیا تھا۔نوبل پرائز کیمسٹری، ادب، امن، فزیکس اور فیجیولوجی(میڈیسن) کے ماہرین کو دیا جاتا ہے۔ تاہم 1968میں معاشیات کے لئے نوبل پرائز کی بھی شروعات کی گئی۔ایوارڈ کا فیصلہ سوئیڈش اکاڈمی کے ماہرین ممبران کرتے ہیں۔ ہر سال دس دسمبر کو سوئیڈن میں ایک خاص تقریب ہوتی ہے جس میں ایوارڈ یافتہ اپنا لکچر پڑھتے ہیں اور اپنا ایوارڈ وصول کرتے ہیں۔تو یہاں سوال یہ ہے کہ کیا نوبل امن انعام پانے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کا خواب کب پورا ہوگا؟ ممکن ہے اگلی بار یا کیوں کہ ان کی حمایت میں جس طرح پروپگنڈہ ہورہا ہے اس سے تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ٹرمپ نوبل امن انعام لے کر ہی دم لیں گے۔

ویسے اس سال نوبل امن انعام کے اعلان بھی متنازعہ بنا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ اس بار کا نوبل امن انعام اس خاتون کو دیا گیا جس نے غزہ پر اسرائیل کی بمباری کی حمایت کی تھی۔یہ پہلا موقع نہیں جب امن کا نوبل انعام ستم ظریفی اور طنز کی علامت بن گیا ہو، لیکن اس سال نوبل امن انعام کا فیصلہ واقعی چونکا دینے والا ہے۔ یہ انعام جو کبھی امن کے محافطوں کو عزت دیتا تھا اس بار جس صیہونی حکومت کے لیے کھلی ہمدردی رکھنے والی انتہا پسند دائیں بازو کی خاتون ہیں، جو اپنے ہی ملک میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام کے واشنگٹن کے ایجنڈے کے ساتھ طویل عرصے سے خود کو منسلک کرتی رہی ہیں۔دو سال سے غزہ میں نسل کشی دنیا کی آنکھوں کے سامنے آشکار ہوئی مگر اس کے باوجود اس سال نوبل امن انعام پانے والی ماچاڈو نے کبھی بھی متاثرین کے لیے بات نہیں کی اور نہ ہی مظالم کی مذمت کی۔ اس کے بجائے محترمہ نے کھلے عام اسرائیل کا ساتھ دیا اور اعلان کیا کہ دہشت گردوں کو ہر قیمت پر شکست دینی چاہیے۔

 تاہم نوبل امن انعام جیسی معتبر عالمی شناخت کا اگر سیاسی، ذاتی یا متنازعہ مقاصد کے لیے استعمال ہو تو یہ نہ صرف اس انعام کی اہمیت کو پامال کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں امن، انصاف اور اخلاقی قیادت پر سے اعتماد بھی متزلزل ہوجاتا ہے۔ویسے نوبل پرائز کی بنیاد الفریڈ نوبل کی وصیت پر رکھی گئی، جنہوں نے واضح لکھا کہ” امن انعام اس شخص یا ادارے کو دیا جائے جو قوموں کے درمیان بھائی چارہ، مسلح افواج کی کمی یا امن کانفرنسوں کے فروغ کے لیے نمایاں کام کرے۔”خیر یہ تو وصیت ہے، تو نوبل انعام کی پامالی کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر انعام سیاسی اثر و رسوخ یا کسی خاص طاقت کے دباؤ پر دیا جائے۔یا کسی متنازعہ شخصیات، وہ شخصیات جن پر جنگی جرائم یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہوں، یا اخلاقی تضاد، امن انعام ایسے شخص کو دیا جائے جو بیک وقت کسی اور جگہ جبر یا تشدد میں ملوث ہو۔

اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ہنری کسنجر کو 1973میں ویتنام جنگ کے دوران امن انعام ملا۔  حالانکہ ان پر لاکھوں ہلاکتوں میں کردار کا الزام تھا۔اس بات سے ناراض ہوکر خود نوبل کمیٹی کے کچھ ممبران نے استعفیٰ دے دیا تھا۔اب اگر ڈونلڈ ٹرمپ جیسی متنازعہ شخص کو یہ انعام دیا گیا تو یہ صرف ایک افسوس ناک بات نہیں ہوگی بلکہ اخلاقی معیار کے انحطاط کی نشانی بھی ہوگی۔ جب امن جیسے عظیم تصور کو خود امن کے محافظ اپنے مفاد کے لیے استعمال کریں تو دنیا میں انصاف کی امید کمزور ہوجاتی ہے۔ سچائی اور جھوٹ کا فرق دھندلا ہوجاتا ہے اور نوجوان نسل کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔

میں ایوراڈ حاصل کرنے والوں کی کافی قدر کرتا ہوں۔ کیونکہ اس سے اس شخص کو لیاقت اور قابلیت کا صلہ ملتا ہے اور اسے ایک اعزاز اور رتبہ بھی ملتا ہے۔ لیکن وہیں میں اس بات سے بھی فکر مند ہوں کہ چند مفاد پرست اور سرمایہ داروں نے ایوارڈ کا معیار گرانے میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی ہے۔ظالموں اور نسل کشی کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہونے والے کو جمہوریت اور امن کے چیمپئین کے طور پر عزت دینا نوبل کمیٹی کے اخلاقی زوال کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ انعام ایک بار پھر سیاسی آلہ بن گیا ہے، اور اس کا اصل مقصد چھین لیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگوں کے ذہن میں ایک سوال ابھر اہے کہ آخر صدیوں پرانی روایت کو کیوں نام نہاد مفاد پرست اور سرمایہ دار بدنام کر رہے ہیں۔

لیکن مجھے امید ہے کہ ہر ذی شعور انسان ایسے نام نہاد اور مفاد پرستوں کو اپنی ایمانداری اور دیانتداری سے ایسا منہ توڑ جواب دیں گے تا کہ تعلیم یافتہ اور قابلِ قدر لوگوں جو ایوارڈ پانے کے مستحق ہیں ان کے وقار کو مزید دھچکا نہ پہنچے اور ایوارڈ کا باوقار سلسلہ جاری و ساری رہے۔

Leave a Reply