You are currently viewing خونِ ناحق پرشور

خونِ ناحق پرشور

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں نے پوری دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا کسی ملک پر اس طرح حملہ کرنا درست ہے؟ کیا طاقت کے زور پر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں؟  تاریخ، اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں دیکھا جائے تو واضح طور پر یہی سامنے آتا ہے کہ جنگ اور حملہ کسی بھی مسئلے کا درست حل نہیں ہوتے۔

امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا جواز اس کے مبینہ جوہری پروگرام کو قرار دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے خلاف سمجھی جاتی ہے۔ اگر ہر طاقتور ملک اپنی تشویش کو بنیاد بنا کر دوسرے ممالک پر حملے شروع کر دے تو دنیا میں کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہ سکتا۔ایران پر ہونے والے حملوں میں صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں بلکہ شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں عام شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ جب جنگ کے نتیجے میں عام انسانوں کی زندگیاں تباہ ہوتی ہیں تو یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آخر اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟

انسانی جانوں کا ضیاع کسی بھی سیاسی یا فوجی مقصد سے جائز نہیں ہوسکتا۔ ایک اسکول پر حملہ ہو یا رہائشی علاقے پر بمباری، اس کا سب سے بڑا نقصان عام لوگوں کو ہوتا ہے جو اس جنگ کے کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بہت سی آوازیں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کر رہی ہیں۔تاہم امریکہ اور اسرائیل کی اس کارروائی نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک خطرناک کشیدگی میں دھکیل دیا ہے۔ خطے کے کئی ممالک اب اس تنازع کے دائرے میں آ سکتے ہیں، جس سے ایک بڑی علاقائی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن سب متاثر ہوں گے۔

اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اگر اس ملک میں جنگ طویل ہو جاتی ہے تو عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے عام لوگوں تک پہنچیں گے۔ اس طرح ایک علاقائی جنگ عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔وہیں بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ طاقتور ممالک اکثر اپنی سیاسی اور اسٹریٹجک ترجیحات کے تحت فیصلے کرتے ہیں، لیکن ایسے فیصلوں کی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی حصوں میں امریکہ اور اسرائیل کے اس اقدام پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔اخلاقی طور پر بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا کسی ملک کی خودمختاری کو اس طرح پامال کرنا درست ہے؟ بین الاقوامی نظام اسی اصول پر قائم ہے کہ ہر ملک کی سرحدوں اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ اگر یہ اصول ٹوٹ جائے تو عالمی نظام بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

ایران پر حالیہ حملوں نے ایک بار پھر دنیا کو اس تلخ حقیقت کی یاد دلا دی ہے کہ طاقت کے نشے میں ڈوبی ہوئی جنگی پالیسیاں نہ صرف خطوں کو تباہ کرتی ہیں بلکہ عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ ایران، جو دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اچانک ایک ایسی جنگ کا مرکز بن گیا ہے جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

جیسے ہی 28 فروری کی صبح ہوئی، امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف شہروں اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ان حملوں میں نہ صرف سرکاری عمارتوں بلکہ شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں اور بچوں کی تھی۔ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملک کے جنوبی حصے میں ایک اسکول میں پناہ لینے والے بچوں پر بمباری ہوئی، جس کے نتیجے میں درجنوں معصوم جانیں ضائع ہو گئیں۔یہ وہ لمحہ تھا جب پوری دنیا کو رک کر سوچنا چاہیے تھا کہ آخر جنگ سے حاصل کیا ہوتا ہے؟ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگیں کبھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔ وہ صرف تباہی، نفرت اور مزید دشمنی کو جنم دیتی ہیں۔

ایران نے ان حملوں کے جواب میں خلیج میں موجود امریکی اتحادیوں کے فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد خطے میں کشیدگی تیزی سے پھیل گئی۔ لبنان میں جھڑپیں شروع ہوئیں، اسرائیلی حملوں میں مزید ہلاکتیں ہوئیں اور پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر جا کھڑا ہوا۔امریکہ اور اسرائیل اس کارروائی کا جواز ایران کے مبینہ جوہری پروگرام کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک پر حملہ کر دینا مسئلے کا حل ہے؟ کیا سفارت کاری، مذاکرات اور عالمی قوانین کا راستہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے؟ اگر ہر ملک اپنی تشویش کے جواب میں بمباری شروع کر دے تو دنیا کا کیا بنے گا؟

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان پابندیوں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا اور عام لوگوں کی زندگی مزید مشکل بنا دی۔ اس کے باوجود ایران خطے میں ایک اہم توانائی فراہم کرنے والا ملک رہا ہے۔ عالمی توانائی کے ماہرین کے مطابق ایران کی تیل اور گیس کی پیداوار دنیا کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایران کے ارد گرد موجود ممالک بھی دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ اگر اس خطے میں جنگ پھیلتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے۔ تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، توانائی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور دنیا بھر کے عام لوگ اس کے اثرات محسوس کریں گے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو بعض عرب حکومتوں کا رویہ انتہائی عجیب ہو جاتا ہے۔ بظاہر وہ امت، اخوت اور بھائی چارے کی باتیں کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر اکثر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں یا طاقتور ممالک کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ یہ خاموشی بہت کچھ کہہ دیتی ہے۔جب فلسطین میں ظلم ہوتا ہے تو بیانات آتے ہیں۔ جب کسی اور مسلم ملک پر حملہ ہوتا ہے تو کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ لیکن عملی قدم؟ وہ اکثر کہیں نظر نہیں آتے۔ یہی وہ تضاد ہے جسے عام لوگ منافقت کہتے ہیں۔ایران کے معاملے میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کچھ عرب حکومتیں کھل کر کچھ نہیں کہہ رہیں، کچھ محتاط بیانات دے رہی ہیں، اور کچھ شاید دل ہی دل میں طاقتور اتحادیوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آج ایک ملک نشانہ بن رہا ہے تو کل کسی اور کی باری بھی آ سکتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے نے عالمی امن کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگر اس آگ کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس کے شعلے بہت دور تک پھیل سکتے ہیں۔دنیا کے عام لوگ اس صورتحال پر شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ہر باشعور انسان جانتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ طاقت کے ذریعے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف انصاف، مذاکرات اور باہمی احترام سے پیدا ہوتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے، مذاکرات کا راستہ کھولا جائے اور خطے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔ دنیا پہلے ہی بہت سی جنگوں، بحرانوں اور انسانی المیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک اور بڑی جنگ انسانیت کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گی۔

تاریخ ہمیشہ ان فیصلوں کو یاد رکھتی ہے جو طاقت کے زور پر کیے جاتے ہیں، اور ان آوازوں کو بھی جو امن کے لیے اٹھتی ہیں۔ آج اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو اسے جنگ کے راستے کو مسترد کرنا ہوگا اور انصاف اور مکالمے کی طرف واپس آنا ہوگا۔اس وقت دنیا کو جنگ کی نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے۔ طاقت کے مظاہرے کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا ہی دانشمندی ہے۔ تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ جنگیں مسائل کو حل نہیں کرتیں بلکہ انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔اسی لیے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کو چاہیے تھا کہ وہ فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور سفارتی راستوں کو ترجیح دیتے۔ جنگ کا آغاز کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اس کے نتائج اکثر بہت دیر تک انسانیت کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔دنیا کو طاقت کی سیاست سے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور احترام سے چلایا جا سکتا ہے۔ اگر انسانیت کو بچانا ہے تو جنگ کے راستے کو ترک کر کے امن کے راستے کو اختیار کرنا ہوگا۔

ایران پر حملہ نہ صرف ایک خطرناک قدم ہے بلکہ اس نے دنیا کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوری جنگ بندی ہو، مذاکرات کا راستہ کھولا جائے اور خطے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔جنگیں سرحدیں بدل سکتی ہیں، لیکن دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت کو ختم نہیں کر سکتیں۔ اور جب نفرت باقی رہتی ہے تو امن صرف ایک خواب بن کر رہ جاتے۔میں اپنی بات اپنے شعر سے ختم کرتا ہوں کہ:

خونِ ناحق پہ کرو شور کہ  یہ  لازم  ہے

جتنے قاتل ہیں انہیں اب تو ڈرایا جائ

تحریر : فہیم اختر

Leave a Reply