You are currently viewing حیدرآباد اور اردو کانفرنس

حیدرآباد اور اردو کانفرنس

حیدرآباد، دکن کی سر زمین پر بسنے والا وہ حسین شہر ہے جو صدیوں سے علم، ادب، فن اور تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ گولکنڈہ کی پہاڑیوں سے لے کر چار مینار کی فصیلوں تک، اس شہر کی فضا میں تاریخ کی مہک، زبانوں کی رنگا رنگی اورتہذیبوں کا دل آویز ملاپ محسوس ہوتا ہے۔

حیدرآباد کا علمی و ادبی سفر محض کتابوں اور درسگاہوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانوں، تہذیبوں زبانوں اور فکروں کا مشترکہ سفر ہے جس نے اسے ہندوستان میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔حیدرآباد کی تہذیبی بنیاد قطب شاہی دور نے رکھی، جو نہ صرف سیاسی لحاظ سے مضبوط تھا بلکہ علم و ادب کا سرپرست بھی تھا۔ سلطان محمد قلی قطب شاہ خود شاعر تھا اور اس کی سر پرستی میں دکنی اردو نے ترقی کی نئی راہیں حاصل کیں۔ اس دور میں دکنی زبان میں شاعری، نثر اور تصنیف کا ایک بھر پور دور شروع ہوا۔ شہر کی گلیوں میں موسیقی، رقص اور فنون لطیفہ کا چرچا عام تھا اور یہی وہ زمانہ تھا جب حیدرآباد کو ثقافتی چمنستان کہا جانے لگا۔

آصف جاہی حکمرانوں، خصوصاً نواب میر عثمان علی خان کے دور میں حیدرآباد نے تعلیم، طب، انجینئرنگ، تحقیق اور ادب میں بے پناہ ترقی کی۔عثمانیہ یونیورسٹی کا قیام اس شہر کی علمی شان کا سب سے روشن باب ہے۔ یہ وہ پہلی یونیورسٹی تھی جہاں ذریعہ تعلیم اردو رکھا گیا۔ اس قدم نے نہ صرف زبان کو فروغ دیا بلکہ ہزاروں طلبہ کو ایسا علمی پلیٹ فارم فراہم کیا جو آج تک اپنی مثال آپ ہے۔اسی دور میں حیدرآباد ایک بین الاقوامی علمی مرکز بنا۔ کتب خانے، اکیڈمیاں، تحقیقی ادارے اور مدارس نے اسے ایک ایسا علمی شہر بنا دیا جہاں مختلف زبانوں، اردو، فارسی، تلگو اور انگریزی میں علم کے سوتے بہتے رہے۔

آصف جاہی حکمرانوں، خصوصاً نواب میر عثمان علی خان کے دور میں حیدرآباد نے تعلیم، طب، انجینئرنگ، تحقیق اور ادب میں بے پناہ ترقی کی۔عثمانیہ یونیورسٹی کا قیام اس شہر کی علمی شان کا سب سے روشن باب ہے۔ یہ وہ پہلی یونیورسٹی تھی جہاں ذریعہ تعلیم اردو رکھا گیا۔ اس قدم نے نہ صرف زبان کو فروغ دیا بلکہ ہزاروں طلبہ کو ایسا علمی پلیٹ فارم فراہم کیا جو آج تک اپنی مثال آپ ہے۔اسی دور میں حیدرآباد ایک بین الاقوامی علمی مرکز بنا۔ کتب خانے، اکیڈمیاں، تحقیقی ادارے اور مدارس نے اسے ایک ایسا علمی شہر بنا دیا جہاں مختلف زبانوں، اردو، فارسی، تلگو اور انگریزی میں علم کے سوتے بہتے رہے۔

اتوار 9 نومبر کو لندن سے حیدرآباد جاتے وقت ہم نے ارادہ کیا تھا کہ نہ ہم دن کی پرواہ کریں گے اور نہ ہی وقت کی قدرکریں گے۔ کیونکہ لندن کی مصروف ترین زندگی نے مجھے وقت اور دن کا ایسا پابند بنا دیا ہے کہ میں گھڑی اور تاریخ کا غلام بن کر رہ گیا ہوں۔ویسے یہ بات بری بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے میری زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوگیا ہے اور میں ہر کام پابندی کے ساتھ کرتا ہوں۔گھر کے پاس ہی لوپ سیون بس جو کہ ائیر پورٹ کے لیے خاص چلتی ہے، شام پانچ بجے بیگم کی مہربانی سے گاڑی پر سوار ہو کر قریب فاؤن ٹن بس اسٹاپ پر پہنچ گیا۔ بس پر سورا ہو کر لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ پر ایک گھنٹے میں پہنچ گیا اور تیز قدمی سے الیزیبتھ لائن کی ٹرین پر سوار ہو کر ہیتھرو ائیر پورٹ کے ٹرمینل چار پرشام سات بجے پہنچ گیا۔ رات نو بجے التحاد کے جہاز پر سوار ہو کر پہلے ابو ظہبی پہنچا اور پھر کچھ گھنٹے بعد حیدرآباد کے راجیو گاندھی ائیر پورٹ پہنچا۔

ائیر پورٹ سے باہر نکلا تو کلکتے سے تشریف لائے بھائی آفتاب صدیقی، محمد اظہار کریم اور پرویز اختر نے ہمارا والہانہ استقبال کیا اور ہمیں اطلاع دی کہ لکھنؤ سے بھائی حسن کاظمی بھی پہنچ چکے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد اپنے مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بھائی حسن کاظمی نمودار ہوئے اور بغل گیر ہونے کے بعد ایک ٹیکسی پر سوار ہو کر حیدر آباد سینٹرل یونیورسٹی کے لیے نکل پڑے۔راستے بھر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے اور لگ بھگ ایک گھنٹے میں ہم سب یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ یوں تو اس کانفرنس کا اہتمام آل انڈیا ادبِ اطفال سوسائٹی، نئی دہلی نے بااشتراک حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے کیا تھا۔ جس میں ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر سے مندوبین نے شرکت کی اور اپنے اپنے مقالوں سے ہم سبھی کو محظوظ کیا اور دہلی سے تشریف لائے سنئیر ایڈوکیٹ خلیل الرحمن کے پر مغز کلیدی خطبے سے سامعین کافی محظوظ ہوئے۔اس کے علاوہ قطر سے تشریف لائے ماہر قطعاتِ تاریخ جناب مظفر حسین نایاب اور کنیڈا سے تشریف لائے معروف ادیب و دانشورجناب تقی عابدی کی تقریرسے بھی سامعین کافی لطف اندوز ہوئے۔

تاہم آل انڈیا ادبِ اطفال سوسائٹی،نئی دہلی کے منتظمین کے ناقص رویے اور بد حواسی نے ہمیں کافی مایوس کیا۔ان کی بدحواسی میں چھپی بے ربط گفتگو نے مایوسی کو اور گہرا کر دیا۔ وہ جتنا خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے، اتنی ہی ان کے اندر کی بے چینی ظاہر ہوجاتی اور یہ منظر میرے ساتھ ساتھ کئی لوگوں کے دل کو مزید مایوس کرتا رہا۔تاہم وہیں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے پروفیسر اور طلبا کا رول کافی نمایاں اور اہم تھا۔ جن میں صدر شعبہ اردو جناب ڈاکٹر فضل اللہ مکرم، محترمہ عرشیہ جبیں، ڈاکٹر محمد کاشف، ڈاکٹررفیعہ بیگم، نشاط احمداور ڈاکٹر رئیس احمد جنہوں نے نہ صرف اخلاق کا بھرپور مظاہرہ کیا بلکہ مہمانوں کا پورا خیال رکھا اور ہر موقع پر بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر اپنی عاجزی اور اعلیٰ کردار کی شاندار مثال قائم کی۔اس کے علاوہ اردو کی ہونہار طالب علم رادھیکا، ثمرین اور محمد یعقوب نے بھی اپنے اخلاق اور کردار سے ہم سبھی کا دل جیت لیا۔

کانفرنس میں دیگر منتظمین میں کلکتہ سے تشریف لائے جناب پرویز اختر، جناب محمد اظہار کریم اور جناب محمد آفتاب صدیقی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ دھنباد سے تشریف لائے جناب کلیم شاہد اور جناب مجیب الرحمن سے بھی ہماری ملاقات ہوئی۔ جنہوں نے اپنی لیاقت اور قابلیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ وہیں ممبئی سے تشریف لائی محترمہ فرزانہ شاہد بھی کافی پیش پیش رہی اور اپنی باتوں سے سب کا دل جیت لیا۔ اس کے علاوہ ہمیں معروف صحافی اور ادیب جناب ڈاکٹر فردین احمد سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہو،ا جن کی محبت بھری ضیافت سے ہم کافی لطف اندوز ہوئے۔ ان کے ساتھ ہماری ملاقات معروف صحافی داکٹر عالمگیر رضوی سے بھی ہوئی، جو صحافت میں ایک عرصے سے اپنی خدمات سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ ہماری ملاقات ماہانہ صدائے شبلی حیدرآباد کے ایڈیٹر مولانا ڈاکٹر محمد محامد ہلال اعظمی سے بھی ہوئی، جن کی بے پناہ محبت اور پر مغز ادبی گفتگو نے ہمیں کافی باتوں سے روشناش کرایا۔

اسی دوران حیدرآباد کی ایک اہم شخصیت جناب شاہد حسین زبیری علیگ نے اپنے گھر ہمیں چائے پر بلایا، جنہوں نے نظام حیدرآباد کے ساتھ کام بھی کیا ہے۔مسٹر شاہد حسین زبیری صاحب حیدرآباد کے معروف زبیری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کتاب ‘اوراقِ ماضی’ کے  مصنف ہیں اور ایک مقبول مضامین نویس ہیں جن کی تحریریں مختلف کتابوں، جرائد، میگزین اور اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں۔ زبیری صاحب نے اپنی کتاب ‘اوراقِ ماضی’ میں حیدرآباد کے ٹائٹلر نظام کے گرد موجود اسرار کی پردہ پوشی کی ہے۔ انہوں نے مختلف اداروں سے مختلف صلاحیتوں میں وابستگی رکھی ہے۔ مسٹر شاہد حسین زبیری صاحب کئی معزز عہدوں پر فائز ہیں جن میں: ٹرسٹی، ایچ ایچ دی نظام ٹرسٹ؛ ٹرسٹی، سر زیاالدین احمد ٹرسٹ (علی گڑھ)؛ ٹرسٹی، اردو ہال ٹرسٹ اور ٹرسٹی، ظہیر منزل ٹرسٹ اور سابقہ ٹرسٹی مکرم جہ ٹرسٹ برائے تعلیم و تعلم شامل ہیں۔ وہ انجمن ترقی اردو (حیدرآباد) کی مینجنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں؛ مکرم جہ اسٹوڈنٹس ہاسٹل اور اقبال اکیڈمی، حیدرآباد کے بانی رکن بھی ہیں۔ شاہد زبیری صاحب کی آن بان اور شان نے ہم سبھوں کو کافی متاثر کیا۔ ہم نے ان کے ساتھ چائے ناشتے کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کی تاریخ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال بھی کیا اور قیمتی وقت گزارا۔زبیری صاحب نے اپنی کتاب بھی ہمیں بطور تحفہ پیش کی۔

حیدرآباد کا آخری دن تھا۔ ہم سالار جنگ میوزیم کے لیے نکلے تو روایت کے مطابق قافلے میں دو شخصیات شامل تھیں۔معروف ادیب و شاعر بھائی شفیع ایوب، اور معروف شاعر و ایڈوکیٹ ناصر عزیز۔ مسافرت میں اچھا ساتھی ہو تو سفر آدھا، اور اچھا شاعر ہو تو سفر آدھا سے بھی کم محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس روز سفر نے ہمیں ایک دل چسپ موڑ دکھانا تھا۔ راستے میں بھائی شفیع ایوب نے مؤدبانہ انداز میں کہاکہ وہ محض پانچ منٹ کے لیے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے رجسٹرار سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، اور آپ لوگ نیچے کھڑے رہیں۔ پھر فوراً ہم بھی بھولے پن میں اُن کی بات مان کر یونیورسٹی کے احاطے میں ٹہلنے لگے۔کبھی مولانا آزاد کی تصویر ہمیں خوشگوار گفتاری سے ہمارا دل بہلاتی تو کبھی ہم اردو یونیورسٹی کے متعلق آپس میں بات کرتے۔ وقت گزرتا گیا،کافی دیر گزر جانے پر ناصر عزیز نے نیم بے صبری، نیم مزاح سے کہا: ’فہیم بھائی، یہ حضرت شفیع ایوب کہاں غائب ہوگئے؟‘میں بے بسی سے اُن کا چہرہ تکنے لگا۔ اسی دوران ایک صاحب ہمارے قریب آئے اور بولے: فہیم اختر، رجسٹرار صاحب نے بلایا ہے۔ میں اور بھائی ناصر عزیز جب رجسٹرار صاحب کے کمرے میں داخل ہوئے تو رجسٹرار پروفیسر شیخ اشتیاق احمد نے نہایت گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا اور مسکراتے ہوئے کہا: ’فہیم بھائی! میں ابھی چند روز پہلے ہی کلکتہ سے آپ کی دکان سے مٹھائی خرید کر آیا ہوں‘۔یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ والد نے ٹھیک 80 برس پہلے کلکتہ میں مٹھائی کی دکان قائم کی تھی اور آج بھی میرے بھائی اسے اسی محبت و خلوص سے چلا رہے ہیں۔ پروفیسر شیخ اشتیاق احمدصاحب کی شائستگی، سادگی اور اخلاق نے مجھے بے حد متاثر کیا۔یہ وہ لمحہ تھا جب احساس ہوا کہ بڑے القابات انسان کو نہیں، انسان القابات کو معتبر بناتے ہیں۔

 پاس ہی کھڑے بھائی شفیع ایوب، جنہوں نے ہمیں کافی دیر باہر انتظار میں رکھا تھا، یہ سب منظر دیکھ کر بحالتِ مجبوری و حیرانی کے ملے جلے احساس کے ساتھ مسکرا رہے تھے۔ کہتے ہیں، انسان کو اس کا عہدہ نہیں بلکہ اخلاق اورسادگی پہچان دلاتے ہیں اور رجسٹرارپروفیسر شیخ اشتیاق احمد اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں۔

کالم لکھتے ہوئے سوچتا ہوں کہ سفر کی اصل خوبصورتی منزل میں نہیں، بلکہ ان چھوٹے چھوٹے واقعات میں ہے جو دل پر نقش ہوجاتے ہیں۔وہ دن بھی ایسا ہی تھا۔ایک ملاقات، ایک مسکراہٹ، اور چند لمحے جو یاد بن کر انسان کے ساتھ بہت دور تک سفر کرتے ہیں۔حیدرآباد کا سفر ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار ثابت ہوا اور ایک اور اردو کانفرنس بھی اپنے تمام اہداف کے ساتھ شاندار طور پر اختتام کو پہنچی۔ ان خوشگوار لمحوں کو سمیٹتے ہوئے ہم بخیر و خوبی لندن واپس آگئے۔

 

 

 

 

Leave a Reply