
متعلق ایک بھر پور تاریخ ہے۔ تیونس قدیم زیتون درختوں کا گھر بھی ہے، بشمول اچراف زیتون کا درخت، جو افریقہ میں سب سے قدیم سمجھا جاتا ہے۔
سفر ایک راز کی مانند ہے جو ہر قدم پر کھلتا جاتا ہے۔ راستے میں آنے جانے والے مناظر کبھی آنکھوں کو چمکاتے ہیں اور کبھی دل کو نرم کردیتے ہیں۔ اجنبی چہروں کی مسکراہٹیں، پرانے درختوں کی چھاؤں اور دور کہیں سے آتی اذان کی آواز، یہ سب لمحے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر جاتے ہیں۔ تیونس کے شہر منستر، کیروان اور ایل جیم نے ہمیں بتایا کہ دنیا بہت بڑی ہے مگر دل کی وسعت اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی ہے۔ جو ہمیں نہ صرف منزل تک پہنچاتا ہے بلکہ اپنے اندر کی گمشدہ راہوں تک بھی ہمیں لے جاتا ہے۔
تیونس کا سفر میرے لیے صرف ایک ملک دیکھنے کا نہیں، بلکہ ایک احساس جینے کا تجربہ تھا۔ صحراؤں کی وسعت، پرانی گلیوں کی خوشبو اور لوگوں کی سادگی نے یہ سکھایا کہ سفر محض فاصلے طے کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ دل کے دروازے کھولنے کی کنجی بھی ہے۔ ہر سفر ہمیں نیا سبق دیتا ہے، نئی آنکھ عطا کرتا ہے اور یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا صرف دیکھنے کے لیے نہیں، سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے بھی ہے۔ تیونس کا سفر میری زندگی کا وہ صفحہ ہے جس نے مجھے بتایا کہ سفر صرف فاصلے طے کرنے کے نہیں ہوتے بلکہ احساسات بدلنے کا نام ہے۔