
اکتوبر18 کی رات لندن وقت کے مطابق 8:40پر جناب عارف نقوی کا فون آیا۔ تاہم عارف نقوی سے ہر روز نہیں تو ہفتے میں کئی بار گفتگو ہوجاتی تھی۔کبھی ادبی،کبھی ذاتی، کبھی عالمی موضوعات پہ تبادلہ خیال کر لیتے۔
گویا نقوی صاحب سے میرا رشتہ ایک ادیب، دوست اور ایک ہمدرد انسان کا تھا۔حسبِ معمول فون پر نقوی صاحب مسلسل بات ہوتی رہتی تھی اور 16نومبر کو اپنے تصویری البم کی کتاب “یادیں “کے اجرا کے متعلق آگاہ کیا۔ ہم نے اس سے قبل معروف ادیب، شاعر محمد حسن جو کہ نیدر لینڈ میں مقیم ہیں، ان کے متعلق بھی دریافت کیا۔ کیونکہ محمد حسن بھی میرے ایما پر اس پروگرام میں شریک ہونے کے لیے آمادہ ہوگئے تھے۔
سوموار کی رات حسبِ معمول عارف نقوی صاحب کا فون آیا اور لگ بھگ آدھے گھنٹے ان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے نقوی صاحب سے پوچھا کہ کیا میں برلن کا ٹکٹ بُک کر لوں۔ نقوی صاحب نے کہا ایک دن رُک جایئے۔ میں نے نقوی صاحب سے زور دے کر کہا کہ ہم جتنی دیر کریں گے،ٹکٹ مہنگا ہوتا جائے گا۔ نقوی صاحب نے کہا کہ ہم نے ہال بُک کر ادیا ہے اور میری بیٹی کا آپریشن ہوا ہے جس کی وجہ سے تھوڑی تاخیر ہورہی ہے۔اس کے علاوہ میری ٹانگ میں پھر پرابلم شروع ہوگیا ہے۔ نرس نے کہا ہے کہ ممکن ہے مجھے پھر ہسپتال میں داخل ہونا پڑے۔ نقوی صاحب نے یہ بھی کہا کہ یار میں اب ہسپتال نہیں جانے والا۔
دوسرے دن سوشل میڈیا پر جب عارف نقوی کے انتقال کی خبر پڑھی تو کلیجہ منہ کو آ گیا۔ پہلے تو یقین ہی نہیں ہوا کہ یہ خبر سچی ہے۔ پھر کئی ذرائع سے جب پتہ چلا تو میں صدمے سے نڈھال ہوگیا۔ اِنَّاللہ وَ اِنَّآ اِلَیہِ رَاجِعُونَ۔
میں2017 پہلی بار جرمنی کی راجدھانی برلن جانے کا اتفاق ہواتھا۔ بزمِ ادب برلن کی دعوت پر ادبی نشست میں بطورِ افسانہ نگار مجھے ایک کہانی پڑھنی تھی۔ اس کے بعد 2018میں دوبارہ برلن جانے کا اتفاق ہوا جہاں میری ملاقات عارف نقوی صاحب سے ہوئی۔یوں تو عارف نقوی سے میرا غائبانہ تعارف ایک عرصے سے تھا۔ ان کی تحریراور شاعری سے میں اچھی طرح واقف رہا ہوں۔ کئی بار ہندوستان کے دورے کے متعلق ان کی رپورٹ کو بھی پڑھتا رہا ہوں جس سے ان کی سرگرمیوں کا علم ہوتا رہا۔
عارف نقوی ہندوستان کے معروف شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ لکھنؤ سے ہی آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اور اس کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔آپ ترقی پسند تحریک سے بھی وابستہ رہے۔یوں توعارف نقوی کا تعلق ہندوستان سے ہے اور ایک عرصے سے جرمنی میں رہنے کے با وجود ہندوستان کو نہیں بھلا پائے۔ اسی لئے اکثر و بیشتر وہ ہندوستان کی سماجی، سیاسی اور ادبی امور پر تبادلۂ خیال کرتے رہتے تھے۔عارف نقوی کی شہرت اور مقام اردو ادب کے حوالے سے پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے۔وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے۔
ارف نقوی نے یورپ اور خاص کر جرمنی میں اردو زبان کی بے پناہ خدمت کی۔جس کا اعتراف نئی نسل کے لکھنے پڑھنے والوں نے بھی کیا ہے۔عارف نقوی نے درس وتدریس اور صحافت میں اپنا قیمتی وقت صرف کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جرمنی میں اردو ادب کی کئی نئی بستیاں آباد ہونے لگیں۔اس کی سب سے اہم مثال’اردو انجمن برلن‘ہے جو نہ جرمنی، یورپ بلکہ عالمی سطح پر اردو کے لیے خدمات پیش کرتی رہی ہے۔
عارف نقوی نے برلن کے ہمبولٹ یونیورسٹی میں لگ بھگ چالیس سال تک درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔ ان کی سرپرستی میں ہزاروں طلبا و طالبات نے اردو زبان سے فیضیاب ہو کر یورپ اور کئی ممالک میں اردو کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔میرے خیال میں شاعر وہ ہوتا ہے جس کی شاعری نسل در نسل پسند کی جائے۔ مثلاً مرازا غالب کو آج بھی قبولیتِ عام حاصل ہے۔اسی طرح میں نے عارف نقوی کی شاعری میں یہ خوبی پائی ہے کہ ان کے کلام کو ہر نسل کے لوگ پسند کرتے ہیں۔ان کا انداز اور خوبصورت لب و لہجہ سامعین کو کافی پسند آتا ہے اور سامعین کے دل میں سما جاتا ہے۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری کی لکھی ہوئی کتاب’آسمان ادب کا ستارہ عارف نقوی‘ ایک زبردست کاوش ہے۔ اس کتاب کو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے خوبصورتی سے ترتیب دیا ہے۔ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اس کتاب کو دو حصّوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصّے میں عارف نقوی کی خود کی تحریر ہے جس میں مضامین، تنقید، خاکے شامل ہیں۔ان مضامین میں سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، کرشن چندر،اور خواجہ احمد عباس کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ عارف نقوی صاحب نے ان معروف اردو ادیبوں کے ساتھ اپنا قیمتی وقت بھی گزارا ہے۔کتاب کے دوسرے حصّے میں عارف نقوی صاحب پر تحریر کردہ مضامین ہیں جن میں انٹرویو، کہانیوں کے تجزیے اور تبصرے شامل ہیں۔پروفیسر اسلم جمشید پوری نے بحسنِ خوبی کتاب کو ترتیب دی ہے جو کہ عارف نقوی صاحب کی زندگی کی عکاسی کے ساتھ ساتھ معلوماتی بھی ہے۔
تاہم پچھلے چند برسوں سے عارف نقوی برلن کی ادبی فضا، ماحول اور اپنے چند قریبی دوستوں سے کافی مایوس اور فکر مند بھی ہوگئے تھے۔ عارف نقوی صاحب نے کئی بار اس بات کا مجھ سے ذکر کیا اور اردو انجمن برلن کی مایوس کارگردگی پر گہرے رنج و غم کا اظہار بھی کیا۔میں نے بھی اس بات کو محسوس کیا کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر جن لوگوں نے اردو سیکھی، کانفرنس میں شرکت کی، انہی لوگوں نے نقوی صاحب کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ اپنی ترجیحات اور پروپگنڈے کے ذریعہ اردو دنیا میں غلط فہمیاں پھیلائیں، جس کا نقوی صاحب کو بے حد دُکھ تھا۔
عارف نقوی کے گزر جانے سے اردو دنیا کو ایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے، جس کی تلافی شاید ناممکن ہے۔ان کی اردو زبان کی بے لوث خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے اور انہیں بابائے اردو یورپ کہنا بالکل درست ہے۔میں مرحوم عارف نقوی کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں غریق رحمت کرے اورجنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔