You are currently viewing اینٹی بائیوٹک کا بڑھتا ہوا بحران

اینٹی بائیوٹک کا بڑھتا ہوا بحران

اینٹی بائیوٹک ادویات کو جدید طب کی سب سے بڑی نعمتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان دواؤں نے انسان کو ان بیماریوں سے نجات دلائی جو کبھی جان لیوا سمجھی جاتی تھیں۔ نمونیا، تپِ دق، زخموں کے انفیکشن اور زچگی کے دوران لاحق ہونے والی پیچیدگیاں اینٹی بائیوٹکس کی بدولت قابلِ علاج ہوئیں۔

مگر بدقسمتی سے یہی نعمت آج انسان کی لاپرواہی کے باعث ایک سنگین عالمی بحران میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اینٹی بائیوٹک کا بنیادی مقصد جسم میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا کا خاتمہ ہے، مگر یہ حقیقت اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ یہ ادویات وائرس پر اثر نہیں کرتیں۔ اس کے باوجود بخار، نزلہ، زکام، فلو اور دیگر وائرل بیماریوں میں بھی اینٹی بائیوٹکس کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ یہی غیر ضروری استعمال بیکٹیریا کو ان ادویات کے خلاف مزاحمت سکھا رہا ہے، جسے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کہا جاتا ہے۔ اینٹی بایوٹک ریزسٹنس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بیکٹیریا جو کبھی آسانی سے ختم ہو جاتے تھے، اب ان دواؤں کے خلاف مضبوط ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً عام انفیکشن بھی پیچیدہ، مہنگے اور بعض اوقات لاعلاج بن جاتے ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں معمولی زخم، سادہ سرجری اور عام انفیکشن بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس بحران کی ایک بڑی وجہ مریضوں کی جانب سے دوا کا مکمل کورس نہ کرنا ہے۔ جب اینٹی بائیوٹک ادھوری لی جاتی ہے تو بیکٹیریا مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید طاقتور ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دواؤں کا استعمال اور پرانے نسخے دوبارہ استعمال کرنا بھی اس مسئلے کو بڑھاتا ہے۔ یہ بحران صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں جانوروں کی افزائش کے لیے اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جانور جلدی بڑے ہوں اور بیماریوں سے محفوظ رہیں۔ یہ ادویات خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر مزاحمت کے عمل کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نئی اینٹی بائیوٹکس کی دریافت کی رفتار بہت سست ہو چکی ہے جبکہ بیکٹیریا تیزی سے خود کو بدل رہے ہیں۔ دوا ساز کمپنیاں ایسی دواؤں میں کم سرمایہ کاری کر رہی ہیں کیونکہ ان میں مالی فائدہ محدود ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس مؤثر ہتھیار کم ہوتے جا رہے ہیں۔ نئے اینٹی بائیوٹک کو بائیوٹیک اورپھر ما سیوٹکل انڈسٹری بناتی ہے جو کہ اس بحران کا حل نکال سکتے ہیں جس کا اثر تمام جدید دواوں پر پڑے گا۔ اینٹی بائیوٹک کا بحران ہمیں اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ اس کا حل صرف نئی دواؤں میں نہیں بلکہ شعور، احتیاط اور درست استعمال میں ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر اینٹی بائیوٹک استعمال نہ کرنا، مکمل کورس لینا، وائرل بیماریوں میں ان ادویات سے پرہیز اور عوامی آگاہی اس مسئلے پر قابو پانے کے بنیادی اصول ہیں۔

کچھ سال قبل برطانیہ نے اس بات کی آگاہی دی تھی کہ دنیا دواؤں کی سیاہ دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ بات اس موقعہ پر کہی  گئی جب ماہرین نے سیاستدانوں کی توجہ بے اثر اینٹی بائیوٹک کی طرف کروائی۔ برطانیہ نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اس کام میں ناکام ہوئے تو یہ ناقابل تصور منظر نامے ہمارے سامنے آجائیں گے جہاں اینٹی بائیوٹک ناکارہ ہوجائے گی اور ہم دواؤں کے اس سیاہ دورمیں چلے جائیں گے جہاں یہ قابل علاج انفیکشن اور زخم ایک بار پھر ہماری جانیں لینے لگے گے۔ 1928 میں پنسلین برطانوی سائنس داں الیزانڈر فلیمنگ کی بہترین ایجاد تھی اور یہ ایک اچھی بات ہے کہ برطانیہ اس مسئلے میں اہم رول نبھا رہا ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں یہ عالمی صحت کیا ایک سنگین مسئلہ بن سکتاہے۔

برطانیہ میں قائم ایک پینل اس مسئلے میں تین اہم مسائل کا تجزیہ کررہی ہے۔ بیکٹریا کے خلاف ادویات کی مزاحمت، پچیس برسوں میں کوئی نئی اینٹی بائیو ٹک کا مارکیٹ میں نہ آنا اور دنیا میں اینٹی بائیوٹک کا کثرت سے استعمال ہونا۔ تاہم برطانیہ نے یہ بات برسلز کی جی۔7 اجلاس میں اٹھائی تھی اور امریکہ اور جرمنی کی مخصوص حمایت بھی ملی تھی۔ اس کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ اس مسئلے پر جائزہ لینے کی تجویز پر جی سیون گروپ کی سربراہی اجلاس میں اس موضوع پر بات چیت کی جائے گی۔ اس کام کو سر انجام دینے کے لیے ماہر اقتصادیات جیم او نیل ایک پینل کی سربراہی کی، جس میں سائنس، فائنانس، صنعت اور عالمی صحت کے ماہرین حصہ لیں گے۔ یہ پینل اس بات پر غور و خوض کرے گا کہ نئے اینٹی بائیوٹک کو کیسے ترقی دی جائے۔ مسٹر او نیل نے اس پروجیکٹ پر کام شروع کردیا تھا اور توقع کی جارہی تھی کہ وہ اپنی سفارش چند سال میں جمع کردیں گے۔

اس مسئلے کی طرف حکومت اور عالمی برادری کی توجہ مرکوز کرانے میں چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر ڈیم سیلی ڈیوس نے نمایاں رول نبھا یا ہے۔ انہوں نے یہ بیان دیا تھا کہ اینٹی میکروبایل کی مزاحمت ایک ٹائم بم کی طرح ہو گیا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اور اس کے خطرات اس طرح در پیش ہیں کہ اسے دہشت گردی کے صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پچھلے مہینے رائل سوسائٹی کے سائنسداں کی ایک میٹنگ میں خبردار کیا تھا کہ اس مسئلے کا جواب جلد دینا ضروری ہے جیسے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لڑائی چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ وزیر اعظم نے اس مسئلے پر عالمی قیادت کرتے ہوئے اس کا جائزہ لینے کی بات کہی ہے۔

میڈیکل ریسرچ چیریٹی ویلکم ٹرسٹ نے اس مسئلے کے لئے پانچ لاکھ پونڈ کی رقم مسٹر او نیل اور ان کی ٹیم کے لئے مہیا کی تھی، جن کا ہیڈ کواٹر لندن میں ہے۔ ویلکم ٹرسٹ کے ڈائرکٹر جیریمی فرار جب سے اس عہدے پر فائز ہوئے تو ان کے لئے اینٹی مائیکروبایل کی مزاحمت سب سے اہم بات بن گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دوا کی مزاحمت بیکٹریا، وائرس، پاراسائٹس ایسے خطرات ہیں جو عالمی صحت کا بحران بن سکتے ہیں۔ یہ ہماری صرف جان لیوا مہلک بیماریوں کے علاج کرنے کی صلاحیت کے لئے ہی خطرہ نہیں ہے بلکہ کینسر کے علاج سے لے کر اور بھی ایسی بیماریاں جن کا علاج صرف اینٹی بائیوٹک ہی کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ بھی غائب ہو سکتا ہے۔ جیریمی فرار کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ صرف سائنٹفک اور میڈیکل چیلنج نہیں ہے بلکہ یہ ایک معاشی اور سماجی چیلنج بھی ہے جس کے لئے ہمیں ریگولیٹری سسٹم کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس کو حل کرنے لئے ہمیں اپنے رویے میں بھی تبدیلی لانے پڑے گی۔

اینٹی بائیوٹک ایک قابل اعتماد کامیاب علاج ہے لیکن بیکٹریا کی تبدیلی سے عام اینٹی بائیوٹک اثر انداز نہیں ہورہا ہے۔ اس کی ایک مثال (ایم آر ایس اے)، یعنی میتھی سیلین ریزیسٹینٹ اسٹافلوکوکس اوریس ہے جس سے اسپتالوں میں ہزاروں مریضوں کی جان چلی جاتی ہے۔ اس بیکٹریا کو روکنے کے کئے عام اینٹی بایوٹک اثر انداز نہیں ہورہے ہیں۔  اس لئے اس بیکٹیریا کو روکنے کے لئے یہاں کے اسپتال میں حفظان صحت کو بہتر بنا یاگیا ہے جس سے انفکشن کو پھیلنے میں روک تھام لگے۔ اینٹی بائیوٹک کے بغیر کسی طرح کے آپریشن کا کامیاب بنانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ مثلاً کولہے کے آپریشن سے لے کر کینسر کے کیمو تھیریپی اور اعضا کے آپریشن تک اینٹی بائیو ٹک کا استعمال لازمی ہوتا ہے۔ ایک معمولی بیکٹریا انفیکشن کی وجہ سے بہت ساری عورتیں بچے کی پیدائش کے بعد اپنی جان گنوا ں دیتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ادوایات کے خلاف مزاحم میں بیکٹریا کی وجہ سے ایک سال میں برطانیہ میں پانچ ہزار اموات اور یورپ میں پچیس ہزار اموات ہوتی ہیں۔

یہاں کے زیادہ تر ڈاکٹر اینٹی بایوٹک کا استعمال بہت عام کرتے ہیں۔ اکثر جب لوگوں کو نزلہ اور زکام ہوتا ہے تو زیادہ تر ڈاکٹر اینٹی بایوٹک ہی مریضوں کو دیتے ہیں اور جس سے زیادہ تر مریض فیضیاب بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات بھی کافی اہم ہے کہ عمر دراز لوگوں میں اینٹی بایوٹک کا استعمال اگر تاخیرسے شروع کیا جائے تو مریض کو نمونیا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور اکثر اس سے جان جانے کا بھی امکان ہوتاہے۔ اینٹی بایوٹک کے بے جا استعمال کے نتائج اب صرف نظریاتی خدشات نہیں رہے بلکہ عملی حقیقت بن چکے ہیں۔ ماہرینِ صحت اس بات پر متفق ہیں کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل قریب میں وہ علاج بھی بے اثر ہو جائیں گے جن پر آج ہم مکمل بھروسا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کو خاموش وبا قرار دے چکا ہے، کیونکہ یہ آہستہ آہستہ پھیلتی ہے مگر تباہی اس کی تیز ہوتی ہے۔ تشویشناک امر یہ بھی ہے کہ نئی اینٹی بایوٹکس کی تیاری نہایت سست روی کا شکار ہے۔ دوا ساز صنعت کے لیے ایسی ادویات میں مالی فائدہ محدود ہوتا ہے، کیونکہ اینٹی بایوٹکس قلیل مدت کے لیے دی جاتی ہیں، جب کہ دائمی بیماریوں کی ادویات زیادہ منافع بخش سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں نئی کلاس کی اینٹی بایوٹک متعارف نہیں ہو سکیں، جبکہ بیکٹیریا نے مزاحمت کے کئی نئے طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔

ماہرین اس جانب بھی توجہ دلا رہے ہیں کہ ہمارا مسئلہ صرف دوا کی کمی نہیں بلکہ رویے کی خرابی ہے۔ ڈاکٹر پر دباؤ ڈال کر اینٹی بایوٹک حاصل کرنا، پرانی دوا دوبارہ استعمال کرنا، یا کسی اور کے مشورے پر ادویات لینا، یہ سب عمل اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں مریض، ڈاکٹر، دوا ساز ادارے اور حکومتی نظام سب شریک ہیں، اور شکست کسی ایک کی نہیں، سب کی ہو گی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ترقی پذیر ممالک اس مسئلے سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جہاں تشخیص کے وسائل محدود اور ادویات تک رسائی غیر منظم ہے۔ اینٹی بایوٹکس اکثر بغیر نسخے کے دستیاب ہیں، جس کے باعث ان کا غلط استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ یوں صحتِ عامہ کا یہ بحران طبقاتی فرق کو مزید واضح کر رہا ہے۔

اینٹی بایوٹک ریزسٹنس نے ہمیں ایک بنیادی سبق سکھایا ہے: ہر سائنسی ترقی مستقل نہیں ہوتی اگر اس کے ساتھ شعور نہ ہو۔ یہ مسئلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی عقل نے اگر قدرت کو چیلنج کیا تو اسے نتائج بھی بھگتنے پڑیں گے۔ جس طرح ماحولیاتی آلودگی نے زمین کو نقصان پہنچایا، اسی طرح ادویات کا غیر ذمہ دارانہ استعمال انسانی صحت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اس نعمت کو سنبھال لیں۔ اینٹی بایوٹک کو آخری اور قیمتی ہتھیار سمجھ کر استعمال کیا جائے، نہ کہ ہر بیماری کا فوری حل۔ اگر آج ہم نے اجتماعی طور پر دانش مندی کا مظاہرہ کیا تو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور قابلِ علاج دنیا دے سکتے ہیں، بصورت دیگر تاریخ ہمیں اس لاپرواہی پر معاف نہیں کرے گی۔

Leave a Reply