You are currently viewing اردو ایکشن کمیٹی بہار

اردو ایکشن کمیٹی بہار

  روزنامہ 2024  میں  قومی تنظیم پٹنہ کے چیف ایڈیٹر اور ملک کے نامور صحافی جناب ایس ایم اشرف فرید  برطانیہ کے معروف شہر برمنگھم تشریف لائے تو انہوں نے مجھے کال کیا۔ کچھ رسمی گفتگو کے بعد انہوں نے مجھ سے لندن ملنے کا وعدہ کیا اور میں نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دے دی۔

تاہم اشرف فرید  لندن تو تشریف لائے لیکن انہیں ” انجمنِ نو” کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد وقت ہی نہیں ملا کہ وہ مجھ سے مل پاتے۔خیر اشرف فرید سے ملاقات نہ ہونے سے مجھے کا فی مایوسی ہوئی اور میں ایک بار پھر ان سے فون پر بات کر کے جلد ملنے کا وعدہ کیا۔ ویسے اشرف فرید سے میری ملاقات ان کے اخبار روزنامہ” قومی تنظیم “کے ذریعہ ہر ہفتے ہوتی رہتی ہے۔ دراصل میرا ہفتہ وار کالم پچھلے کئی برس سے قومی تنظیم میں مسلسل شائع ہورہا ہے اور جس کے ذریعہ میری بات بہار کے لوگوں تک پہنچ بھی رہی ہے۔تاہم 2023میں مجھے اپنی بہن کے انتقال پر تعزیت کے لیے بہار کے مشہور شہر مظفر پور جانا ہوا اور واپسی پر میری ملاقات مختصر طور پر اشرف فرید  سے ہوئی۔ دراصل میرے ایک کرم فرما معروف شاعر و ادیب جناب خورشید اکرام سوز جو میرے ساتھ تھے جنہوں نے مجھ سے اصرار کیا کہ تھوڑی دیر کے لیے ہم قومی تنظیم کے دفتر ضرور چلیں تاکہ جناب ایس ایم اشرف فرید سے ملاقات ہوجائے۔مجھے پٹنہ جنکشن سے کلکتہ کے لیے رات آٹھ بجے ٹرین پر سوار ہونا تھا لیکن بھائی خورشید اکرام سوز کی ایما پر ہم تھوڑی دیر کے لیے قومی تنظیم کے دفتر جانے کو راضی ہوگئے۔ یہیں ہماری اشرف صاحب سے پہلی اور مختصرملاقات ہوئی تھی۔

پچھلے کچھ برسوں سے میں ہندوستان کا سفر ہر سال ہی کر رہا ہوں۔ اس کی ایک اہم وجہ کلکتہ میں کچھ تقریبات میں شرکت اور دوست احباب سے ملاقات ہوتا ہے۔ لیکن 2025میں ہندوستان کا سفر کئی معنوں میں میرے لیے کافی یادگار اور دلچسپ رہا۔ کلکتہ کے علاوہ میں نے دلی اور پٹنہ کا بھی سفر کیا جہاں میری صرف پزیرائی ہی نہیں ہوئی بلکہ میراوہاں کے لوگوں سے ملاقات اور تبادلہ خیال بھی ہوا۔ جس سے مجھے اردو زبان و ادب کے حوالے سے لوگوں سے مثبت پہلو کو جاننے کے علاوہ اردو زبان و ادب میں مسئلے مسائل کا بھی علم ہوا۔

2فروری 2025کو کلکتہ کے قریب معروف ہوڑہ اسٹیشن سے ہم پٹنہ جانے کے لیے رات آٹھ بجے ٹرین پر سوار ہوئے اور دوسرے روز صبح پانچ بجے بہار کی راجدھانی پٹنہ کے قریب ہی راجندر نگر اسٹیشن پر ہمیں اترنا تھا۔ رات کی تاریکی میں لپٹا صبح اب بھی منتظر تھا۔ پلیٹ فارم پر تھوڑی خاموشی تھی اور چند آوارہ کتے رات بھر کی بھاگ دوڑ سے نڈھال پلیٹ فارم پر نیند سو رہے تھے۔ ہم جیسے ہی ٹرین سے باہر آئے، ایک صاحب نے ہمارا والہانہ استقبال اور خوش آمدید کیا۔ ان کا نام ڈاکٹر آفتاب نبی تھا جو پٹنہ میں ایک کالج میں پروفیسر بھی ہیں۔ڈاکٹر آفتاب نبی کے ہمراہ ہم تیز قدمی سے اسٹیشن سے باہر نکلے اور ایک گاڑی میں سوار ہو کر سبزی باغ کے ایک ہوٹل پہنچے جہاں کچھ دیر آرام کرنے کے لیے پروفیسر آفتاب نبی نے ہمیں چھوڑ دیا۔

ہوٹل میں لوگوں کا ملنے کا سلسلہ جاری رہا جن میں  شاہد جمیل  بھی تھے جنہوں نے ہمارا انٹرویو بھی لیا اور ڈھیر سارے سوالات پوچھ ڈالے۔اس کے بعد کچھ پل کے لیے ہم نے معروف خدا بخش لائبریری کا بھی دورہ کیا اور چند نایاب کتابوں کے متعلق لائبریرین سے گفت و شنید بھی ہوئی۔

دوپہر دو بجے جناب اشرف فرید  سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی اور ظہرانے کے بعد ہم گورنمنٹ اردو لائبریری بہارکے لیے نکل پڑے۔پٹنہ کی بھیڑ بھاڑ والے راستے سے گزرتے ہوئے جب گورنمنٹ اردو لائبریری بہار پہنچے تو ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔بہت سارے لوگوں کو ہال کے باہر ہی کھڑا رہنا پڑا جس کا مجھے کافی افسوس ہوا۔گل پوشی اور مہمانوں کی تقاریر کے بعد میں نے انگلینڈ اور دیگر یورپی ممالک میں اردو کے حوالے سے ایک جامع تقریر کی۔ اس تقریب میں ایس ایم اشرف فرید  کے علاوہ پٹنہ کی جن معزز ہستیوں نے شرکت کی ان میں ڈاکٹر احمد عبدالحئی، شفیع مشہدی،ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، ابھئے کمار بے باک، پروفیسر محمد توقیر عالم، پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، اور ارشد فیروز کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ پرگرام کی نظامت بحسنِ خوبی جناب ڈاکٹر ریحان غنی نے کی۔

میں نے اپنی تقریر میں بہار کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں اس بات سے آگاہ کیا کہ ا ردو ایک زندہ زبان ہے جو لگ بھگ پوری دنیا میں سو میلین سے زیادہ لوگ بولتے ہیں۔دنیا میں لگ بھگ سات ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایتھنولوگ (لینگویز آف دی ورلڈ) کے مطابق دنیا کی تیس مقبول ترین اور سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو زبان کو انیسواں مقام حاصل ہے۔برطانیہ میں اردو  جنوبی ایشیائی لوگوں میں وسیع پیمانے پر بولی اور پڑھی جاتی ہے۔ 2000  میں زبان کے متعلق لندن کے اسکولوں میں ایک سروے کروایا گیا تھا۔ جس میں یہ پایا گیا کہ لندن میں اردو دس سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں پانچویں نمبر پر ہے۔تاہم برطانیہ میں اردو چوتھی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔2011کے مردم شماری کے مطابق  26900ہزار لوگ برطانیہ میں اردو زبان بولتے تھے۔’کمیونٹی میں ہم آہنگی‘  کے حوالے سے برطانیہ میں دسمبر 2016 میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے کیمبرج یونیورسٹی کی پروفیسر وینڈی آئیر بینٹ نے برطانوی لوگوں کو’سماجی ہم آہنگی‘ کو مضبوط بنانے کے لئے دیگر زبانوں کو سیکھنے کا مشورہ دیا۔

برطانیہ میں مقیم اردو کے فروغ سے وابستہ چند سماجی اور ثقافتی ننظیموں کے علاوہ خود حکومت ِ برطانیہ بھی بعض سماجی تقاضوں کے باعث اردو زبان کے ابلاغ کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔انگلستان کے شہروں اور مضافات میں آباد کئی لاکھ اردو بولنے والے باشندے ہیں۔ جو نہ برطانوی سماج کی طرزِ معاشرت کا اہم حصہّ ہیں۔ بلکہ اُن میں سے بیشتر انگریزی زبان و تہذیب سے کما حقہ، واقف ہونے کے سبب ملک و سماج کی سیاست اور دیگر انتظامیہ امور میں ایک کلیدی رول بھی ادا کرتے ہیں۔ اور وہ شہری جو انگریزی زبان سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں ان کی سہولیات کے لیے حکومت نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اردو کو ذریعہ ابلاغ بنایا ہے۔

اردو زبان کا برطانیہ میں مقبولیت کا کم ہونا ایک لازمی سی بات ہے۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اردو زبان ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جتنی مقبول ہوئی تھی وہ اب جہاں دنیا سے ان لوگوں کے اٹھنے کے بعد دھیرے دھیرے دم توڑ رہی ہے۔لیکن وہیں اردو زبان ایک نئے انداز میں نئی نسل کے درمیان اپنا قدم بھی جما رہی ہے۔ دوسری اہم بات برطانیہ میں اردو  بولنے والوں کی ہجرت سے متعلق ہے۔اب تک ہر سال اردو بولنے والے لوگ ایک خاص تعداد میں ہجرت کرکے بر طانیہ کی سر زمین پر آباد ہو جا تے ہیں۔ انہیں کے سبب روز مرہ کی بول چال اور درس و تدریس کی ضروریات کے لحاظ سے اردو زبان کی فطری نشو و نما بھی غیر شعوری طور سے عمل میں آتی ہے۔

 تقریر کے آخر میں ہم نے اردو ایکشن کمیٹی بہار کی ستائش کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اردو ایکشن کمیٹی پورے ہندوستان میں قائم ہونی چاہیے تاکہ اس کے بینر تلے پورے ہندوستان میں اردو بیداری لائی جائے۔ جس سے اردو کے مسائل اور ان کے تدارک پر رائے و مشورہ کیا جائے اور حل نکالا جائے۔تاکہ پورے ہندوستان میں اردو زبان سے محبت کرنے والے ایک بینر تلے مل جل کر کام کرے۔

ہم پٹنہ سے تولوٹ آئے لیکن وہاں کو لوگوں نے جو پیار اور جذبہ اردو زبان کے تئیں پیش کیا، اس سے میں بہت متاثر ہوا۔ مجھے محسوس ہوا کہ بہار کے لوگ اردو زبان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اسی بنا پرنہ کہ میرا صرف خیال رکھا بلکہ میری باتوں کو بھی غور سنا جس کے لیے ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ اس طرح میرا بہار کی راجدھانی پٹنہ کا ایک روز ہنگامی دورہ اختتام کو پہنچا اور ہم رات کی ٹرین پکڑ کر کلکتہ واپس آگئے۔

Leave a Reply